اکرم ندوی

رمضان المبارک کی آمد آمد کے ساتھ ایک اہم سوال قیام اللیل اور تراویح میں فرق کیا ہے؟

سوال:
پروفیسر محمد ارشد صاحب کے ایک دوست نے درج ذیل سوالات اٹھائے ہیں:
قیامُ اللیل اور نمازِ تراویح میں کیا فرق ہے؟ نمازِ تراویح گھر میں ادا کرنا بہتر ہے یا مسجد میں باجماعت؟ کیا نمازِ تراویح کی رکعات متعین ہیں، یا اس میں گنجائش اور وسعت پائی جاتی ہے؟ رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ قریب آ رہا ہے، اور ہر سال کی طرح اس سال بھی بعض حلقوں میں تراویح کی رکعات کے حوالے سے بحث و نزاع کا امکان ہے، ایسے اختلافات کے تناظر میں ہمارا دینی اور اخلاقی رویہ کیا ہونا چاہیے؟

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے

جواب:
قیامُ اللیل اسلام کی ان عظیم عبادات میں سے ہے جن کا ذکر قرآنِ مجید میں بار بار آیا ہے، اور جن کی ترغیب خود اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ کو دی۔ قرآن کریم میں یہ عبادت کبھی تہجد کے نام سے بیان ہوئی ہے اور کبھی قیامُ اللیل کے عنوان سے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ﴿وَمِنَ اللَّيْلِ فَتَهَجَّدْ بِهِ نَافِلَةً لَكَ﴾، نیز فرمایا: ﴿يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ۝ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا﴾، اور اہلِ ایمان کی صفات میں ارشاد ہوا: ﴿كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ﴾۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ رات کی نماز کوئی نئی یا موسمی عبادت نہیں، بلکہ اسلام کے آغاز ہی سے ایک مستقل اور محبوب عبادت رہی ہے، جو رمضان کے ساتھ خاص نہیں بلکہ پورے سال مشروع ہے۔
نمازِ تراویح دراصل اسی قیامُ اللیل کی ایک خاص صورت ہے جو رمضان المبارک میں عشاء کے بعد ادا کی جاتی ہے۔ اہلِ علم کی اصطلاح میں رمضان کی راتوں کے ابتدائی حصے میں جو قیام کیا جاتا ہے، اسے تراویح کہا جاتا ہے۔ اس نام کی وجہ یہ ہے کہ سلف صالحین رضی اللہ عنہم رمضان میں قیام کو بہت طویل کرتے تھے، اور ہر چار رکعات کے بعد کچھ دیر آرام فرمایا کرتے تھے، جسے ترویحہ کہا جاتا تھا۔ اس اعتبار سے تراویح قیامُ اللیل ہی کی ایک شاخ ہے، نہ کہ اس سے الگ کوئی نئی عبادت۔
نمازِ تراویح کی حیثیت شریعت میں سنت کی ہے، نہ فرض اور نہ واجب۔ نہ قرآن مجید میں اس کا حکم بطورِ فرض آیا ہے اور نہ رسول اللہ ﷺ نے اسے امت پر لازم قرار دیا۔ نبی کریم ﷺ نے رمضان میں چند راتیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ مسجد میں قیام فرمایا، مگر پھر باقاعدہ جماعت ترک فرما دی، اور اس کی صریح وجہ خود بیان فرمائی کہ آپ ﷺ کو اندیشہ تھا کہیں یہ نماز امت پر فرض نہ کر دی جائے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحیح روایت اس بات پر شاہد ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: مجھے تمہارا اجتماع معلوم ہو گیا تھا، لیکن مجھے اس بات کا خوف تھا کہ یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔ اسی بنا پر اہلِ علم کا اس پر اجماع ہے کہ تراویح سنت ہے، جیسا کہ امام نووی رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ ذکر فرمایا ہے۔
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے دور میں جب لوگوں کی تعداد بڑھی اور وہ مسجد میں الگ الگ جماعتوں کی صورت میں قیام کرنے لگے، تو حضرت عمرؓ نے نظم و ضبط کے پیشِ نظر انہیں ایک امام کے پیچھے جمع کر دیا اور فرمایا: نعمت البدعة هذه۔ یہاں ایک نہایت اہم اور باریک نکتہ سمجھنے کا ہے، جو اس مسئلے کی اصل حقیقت کو واضح کر دیتا ہے۔ اگر نمازِ تراویح وہی جماعتِ لازم ہوتی جو فرض نمازوں کی ہوتی ہے، تو حضرت عمرؓ خود اس کی امامت فرماتے، جیسا کہ وہ دیگر تمام نمازوں میں کرتے تھے۔ لیکن آپؓ نے خود امامت نہیں کی، بلکہ حضرت اُبیّ بن کعب رضی اللہ عنہ کو امام مقرر فرمایا۔ یہ طرزِ عمل اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ تراویح اپنی اصل میں نفل عبادت ہے، اور مسجد میں جماعت صرف سہولت، نظم اور انتشار سے بچنے کے لیے قائم کی گئی، نہ کہ اس لیے کہ اسے لازم اور واجب سمجھ لیا جائے۔
اس اصول کی تائید رسول اللہ ﷺ کے اس ارشاد سے بھی ہوتی ہے کہ: آدمی کی سب سے افضل نماز وہ ہے جو وہ اپنے گھر میں ادا کرے، سوائے فرض نماز کے۔ چونکہ تراویح نفل ہے، اس لیے اس کا اصل مقام بھی گھر ہی ہے۔ چنانچہ بہت سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اسے اپنے گھروں میں ادا فرمایا کرتے تھے، اور بعض حضرات کسی عذر، سہولت یا اجتماعی مصلحت کے تحت مسجد میں ادا کرتے تھے۔ اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ تراویح صرف مسجد میں باجماعت ہی پڑھی جائے، بلکہ گھر اور مسجد دونوں صورتیں جائز ہیں، اور ہر شخص اپنی حالت، اخلاص اور خشوع کے مطابق فیصلہ کر سکتا ہے۔
جہاں تک رکعاتِ تراویح کا تعلق ہے، تو شریعت نے اس میں کوئی سخت تحدید مقرر نہیں کی۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے زمانے میں اور بعد کے ادوار میں اس مسئلے میں وسعت پائی جاتی رہی ہے۔ جمہور صحابہ اور فقہائے امت کا معمول بیس رکعات پر رہا، اہلِ مدینہ نے بعض اوقات اس سے زیادہ بھی ادا کیں، اور بعض اہلِ علم نے کم رکعات کو بھی اختیار کیا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث جس میں نبی ﷺ کے گیارہ رکعات پڑھنے کا ذکر ہے، دراصل تہجد اور وتر سے متعلق ہے، نہ کہ اس قیامِ خاص سے جو رمضان کے لیے مشروع ہوا۔ اسی لیے نبی کریم ﷺ نے عمومی اصول بیان فرما دیا کہ صلاةُ الليل مثنى مثنى، یعنی رات کی نماز کی بنیاد عدد پر نہیں بلکہ کیفیت، خشوع اور طمأنینت پر ہے۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ، امام احمد اور دیگر ائمہ نے صراحت کی ہے کہ تراویح میں کمی یا زیادتی سب جائز ہے، کیونکہ اس میں کوئی متعین عدد منصوص نہیں۔
اصل خرابی رکعات کے کم یا زیادہ ہونے میں نہیں، بلکہ اس طرزِ عمل میں ہے جو بعض لوگوں میں پیدا ہو گیا ہے، کہ وہ صرف عدد پورا کرنے کی فکر میں نماز کو انتہائی تیزی کے ساتھ ادا کرتے ہیں، قراءت، رکوع، سجدہ اور قومہ میں طمأنینت کا خیال نہیں رکھتے، اور قرآن مجید کو گویا دوڑاتے چلے جاتے ہیں۔ ایسی نماز کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے صاف الفاظ میں فرمایا کہ جس نماز میں طمأنینت نہ ہو، وہ نماز ہی نہیں۔ نمازِ تراویح کا مقصد اللہ کے حضور قیام، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دل کا جھکاؤ ہے، نہ کہ محض رکعات کا شمار۔
ان تمام تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ تراویح ایک سنت عبادت ہے، اس میں وسعت ہے، اور اس کا اصل مقصود خشوع، اخلاص اور اللہ کی رضا ہے، نہ کہ جھگڑا، مناظرہ اور شدت۔ رمضان المبارک رحمت، مغفرت اور اجتماعِ قلوب کا مہینہ ہے، نہ کہ اختلاف اور نزاع کا۔ نبی کریم ﷺ نے صاف طور پر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے نا پسندیدہ شخص وہ ہے جو جھگڑالو ہو۔ اس لیے اس مہینے میں سب سے زیادہ جس چیز سے بچنا چاہیے وہ دینی معاملات میں بحث، ضد اور دوسرے کو حقیر سمجھنا ہے۔
اسی تناظر میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ وہ شخص جو کسی وجہ سے تراویح نہ پڑھ سکے، مگر کسی سے جھگڑا نہ کرے، کسی کی نیت پر حملہ نہ کرے اور امت کے اتحاد کو مجروح نہ کرے، اللہ کے نزدیک اس شخص سے بہتر ہے جو بیس رکعات پڑھے مگر دین کو بحث و نزاع کا میدان بنا دے۔ عبادت کی قبولیت تعداد سے نہیں، بلکہ دل کے حال، اخلاص اور حسنِ اخلاق سے ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود بھی اس وسعت کو اختیار کریں اور دوسروں کے لیے بھی دین کو آسان اور محبوب بنائیں، یہی رمضان کی روح ہے، اور یہی سنتِ نبوی ﷺ کا تقاضا ہے۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے