غزہ نسل کشی کے عروج کے موقع پر 25 مارچ 2025ء کو جب بیت لاهیا میں نام نہاد عوامی مظاہرے شروع ہوئے اور پھر وہ بیت حانون سے ہوتے ہوئے قیزان النجار تک پھیل گئے، تو اسرائیلی فوج، اس کی فضائیہ اور انٹیلی جنس کے چوتیوں نے اسے بڑی کامیابی کی علامت سمجھ لیا کہ چلو کام آسان ہو گیا، اب خود غزہ کے لوگ مزاحمت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوگئے۔ عبرانی میڈیا نے بھی ان "احتجاجی” مظاہروں کو غزہ میں مزاحمت کے خلاف عوامی بغاوت قرار دے کر بڑھا چڑھا کر پیش کرنا شروع کیا۔
تاہم آج ایک ایسے اسرائیلی فوجی کے بیان نے ساری تصویر بدل کر رکھ دی ہے جو پرسوں ہی رہائی پانے والوں میں شامل ہے۔ اس دجالی فوجی نے انکشاف کیا کہ یہ مظاہرے دراصل مزاحمت نے خود ہی اپنے خلاف ترتیب دیئے تھے۔ یہ "وحدت الظل” یعنی مزاحمت کے خفیہ یونٹ کی ایک غیر معمولی منصوبہ بندی کا حصہ تھے۔ اس فوجی کے مطابق، قیدیوں کی منتقلی انہی عوامی ریلیوں کے دوران عمل میں لائی گئی۔
فوجی نے بتایا کہ "ہمیں ان مظاہروں کے دوران بھیڑ کے اندر سے گزارتے ہوئے خان یونس تک پہنچایا گیا۔ یہ ایک ناقابلِ یقین تجربہ تھا۔ ہمیں یہ گمان تک نہ تھا کہ یہ منصوبہ کامیاب ہوگا، خاص طور پر اس وقت جب ہمارے سروں پر اسرائیلی ڈرون مسلسل پرواز کر رہے تھے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر وہ ہماری شناخت نہ کر سکے۔”
اسرائیلی فوجی کے بقول "مزاحمت کے جانبازوں نے ہمیں ہدایت دی کہ ہم خود نعرے لگائیں، ہمیں عربی میں سکھایا گیا کہ کیا کہنا ہے، حتیٰ کہ ہمیں مظاہرین کے کندھوں پر اٹھا کر آگے بڑھایا گیا۔ ہم عربی میں مزاحمت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور پیچھے سے مزاحمتی کارکن ان نعروں کو دہرا رہے تھے۔”🫢
یہ پورا منظر اسرائیلی انٹیلی جنس کے سامنے وقوع پذیر ہوا، لیکن نہ فضائی نگرانی کچھ سمجھ پائی، نہ زمینی فورسز کو کوئی شک ہوا۔ بالآخر وہ اسرائیلی قیدی مکمل حفاظت کے ساتھ خان یونس پہنچا دیئے گئے۔
یہ انکشاف نہ صرف اسرائیلی سلامتی اداروں کے لیے ایک کھلا طمانچہ ہے، بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ فلسطینی مزاحمت اپنی ذہانت، تنظیم اور حکمتِ عملی کے میدان میں اسرائیل سے کئی ہاتھ بلکہ کئی میل آگے ہے۔
جہاں اسرائیل مصنوعی ذہانت، سیٹلائٹ نگرانی اور جدید ترین ٹیکنالوجی پر انحصار کرتا ہے، وہیں غزہ کی مزاحمت انسانی فہم، زمین کی نبض اور غیر متوقع تدابیر سے کھیلنے کا ہنر رکھتی ہے۔
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ میدانِ جنگ میں برتری صرف اسلحے سے نہیں، بلکہ عقل، خفیہ منصوبہ بندی اور عزم سے حاصل ہوتی ہے اور اس محاذ پر مزاحمت اسرائیل سے برسوں نہیں، صدیوں آگے ہے۔
قلمکار: ضیاء الرحمٰن