مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال، جنت میں مردوں کو حوریں ملیں گی تو ہم عورتوں کو کیا ملے گا ؟

غیر مسلم خاتون کا سوال

برادر عبدالرزاق محمدی نے سوال کیا ہے کہ ایک خاتون اٹلی سے مسلمان ہونا چاہتی ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ مردوں کو تو حوریں ملیں گی ہم عورتوں کو جنت میں کیا ملے گا؟

یہ سوال بھی ان سوالات میں سے ہے کہ جو اسلام پر بطور

طعن کیا جاتا ہے ، ہم ان خاتون کے لیے دعا گو ہیں کہ اللہ ان کو اسلام کی روشنی سے مالا مال کرے اور ہم ہرگز ایسا نہیں سمجھتے کہ ان کا مقصد بھی محض اعتراض برائے اعتراض ہے بلکہ ہم حسن ظن سے کام لیتے ہوئے یہی

سمجھیں گے کہ ان کے ذہن میں سوال آ گیا۔ ۔

اس حوالے سے عرض یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے خواتین اور مردوں کی فطرت میں ایک فرق رکھا ہے، عورت کسی بھی مذہب سے ہو اس کے خمیر میں دور کہیں نہ کہیں حیا کا دیا ٹمٹماتا رہتا ہے ، بھلے وہ کتنی ہی آزاد ہو جائے ۔

اور جہاں تک تعلق ہے ان خواتین کا کہ جو ازدواجی زندگی گزارتی ہیں یا خاندانی زندگی کا حصہ ہیں تو بلا تفریق مذہب ان میں حیا اور شرم کا مادہ زیادہ ہوتا ہے ۔

یہی سبب ہے کہ باوجود اباحیت اور مادہ پدر آزادی کے ٫ عمومی طور پر ، آج بھی یورپ میں [ بنا نکاح گرل فرینڈ بننے کے باوجود ] عورت خود کو ایک ہی مرد سے وابستہ کیے رکھنا پسند کرتی ہے اور اگر اس کی زندگی میں کوئی دوسرا مرد آ جاتا ہے تو اس کو اس آزاد ترین اور ملحد معاشرے میں بھی بددیانتی جانا جاتا ہے ۔

یہ تو تھی عورت کی فطری کیفیت ، اب اس کیفیت کا بدیہی نتیجہ یہ ہے کہ عورت ایک ہی مرد سے وابستہ رہنا پسند کرتی ہے ، چاہتی ہے کہ وہ اسے سنبھالے ، عزت دے اور عزت کا محافظ بن جائے ۔

سو بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا جنت میں عورت کی یہ فطرت بدل جائے گی؟

اور اس کا جواب یہ ہے کہ جنت میں عورت کی یہ فطرت مزید خوب تر ہو جائے گی ، حیا اپنے درجہ تمام کو پہنچے گی۔ کیونکہ جنت میں انسانی فطرت کے منفی پہلو سب ختم کر دیئے جائیں گے ۔۔۔

سو جب عورت کی فطرت ایک ہی مرد سے وابستہ ہونا چاہے اور حیا کا پردہ بھی اس پر مزید مضبوطی سے تان دیا جائے تو دل میں یہ خیال ہی نہیں رہے گا کہ ۔۔کچھ مزید ہو۔۔

عورت کی فطرت کا ایک انتہائی اہم پہلو یہ بھی ہے کہ وہ چاہتی ہے کہ وہ اپنے مرد کی ۔۔

جی ہاں اپنے مرد کی ۔۔۔ نور نظر ہو جائے ، من پسند بن جائے اور اس کا مرد اس کو دیکھ کر صدقے واری جائے ۔۔اسی فطرت کی تکمیل کا سامان دنیا میں یوں کیا گیا ہے کہ فیشن انڈسٹری کا بیشتر حصّہ عورت کے لیے وقف ہے ۔ اب یہ اس پر ہے کہ کس کے لیے سجتی سنورتی ہے ۔

اب جب جنت میں یہ سب کچھ میسر ہوگا اور عورت کی فطرت کی تکمیل ہو جائے گی تو کیا خیال ہے کسی اور کی طلب تو کیا ، خیال بھی آئے گا؟

جب انسان کی شدید پیاس کو تصور سے زیادہ بہترین مشروب سے بجھا دیا جائے تو اس کے بعد ایک گھونٹ کو بھی طبیعت آمادہ نہیں ہوتی ۔

یہ سوال بدقسمتی سے اس برابری کے تصور کی کوکھ سے نکلا ہے [ جو فطرت کے بھی خلاف ہے ] کہ مرد اور عورت بہرحال برابر ہی ہیں ۔۔۔۔۔ مرد عورت کے برابر نہیں ہو سکتا ، عورت مرد کے برابر نہیں ہو سکتی۔ ہر دو کا مقام اور دائرہ الگ ہے ، معاشرے کی تشکیل و تکمیل میں اللہ نے مرد کو جو فوقیت دی ہے اور ذمہ داری عطا کی ہے وہ محض اس کا اعزاز ہی نہیں ، اس کی جواب دہی بھی ہے ۔۔لیکن ہماری نادان بہنیں جانے کیوں اس ذمہ داری کو اپنے سر لینا چاہتی ہیں۔ ۔

جہاں تک عورت کا جنت میں مقام کا تعلق ہے تو وہ رسول مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ جس میں آپ سے سوال کیا گیا کہ جنت میں بیویوں کا کیا سٹیٹس ہوگا ؟

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنھا سے روایت ہے ، میں نے عرض کیا :

” اے اللہ کے رسول ! یہ فرمائیے کہ دنیا کی خاتوں افضل ہے یا جنت کی حور ؟ "

آپ صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ” دنیا کی خاتون کو جنت کی حور پر وہی فضیلت حاصل ہو گی جو ابرے (باہر والا کپڑا) کو استر (اندر والا کپڑا ) پر حاصل ہوتی ہے ۔

جوامع الکلم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا شاندار مثال دی ۔۔

آسان الفاظ میں کہ انسان کوئی ایسا لباس پہنتا ہے کہ جس کے اندر بطور استر ایک کپڑا لگایا جاتا ہے جیسا کہ کوٹ ، اچکن وغیرہ کے اندر ایک نرم ، ملائم اور بہت خوبصورت ریشمی کپڑا لگا ہوتا ہے ۔ لیکن وہ تمام تر نرماہٹ ، ملائمیت اور خوبصورتی کے باوجود کسی کو نظر نہیں آتا ، اس کی خوبیاں خامیاں سب چھپی رہتی ہیں۔۔ جبکہ بیرونی کپڑا سب کو دکھائی دے رہا ہوتا ہے اور ہر ایک کی نظر اس کی خوبیوں پر ہوتی ہے اور اس کی خوبصورتی پر ہوتی ہے ۔۔ گویا جنت میں ہمارے یہاں کی عورتوں کی فضیلت اور مقام اس بیرونی کپڑے والا ہوگا اور حوریں اپنی تمام تر خوبیوں کے باوجود پس منظر میں ہوں گی ۔

مزید روایات میں یہ بھی ہے کہ دنیاوی عورتیں جنت میں حوروں کی سردار ہوں گی ۔۔

پھر سب سے بڑی بات ایک تو حیا غالب اور پھر جنت میں جب انسان کی فطرت سے منفی پن ، گناہ کی طلب اور اس کی لذت سب ختم کر دی جائے گی تو پھر یہ حسرت ہی نہیں رہے گی کہ مردوں کو تو حور ملے ایک سے بڑھ کر ایک اور عورت کو ایک ہی مرد پر اکتفا کرنا پڑے گا؟

آپریشن سندور کے وقت اگر پاکستان پسپا تھا تو آپ نے جنگ بندی کیوں کی؟

انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا

”والدین کے حقوق قرآن وحدیث کی روشنی میں”کا رسم اجراء ندوۃ العلماء لکھنومیں

فلسطینی صدر محمود عباس کاٹونی بلیئر سے ملاقات،حماس غزہ پر حکومت نہیں کرے گی اور ہتھیار بھی ہمارے حوالے کریں گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے