"وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ کا 10 ارب ڈالر ہرجانے کا مقدمہ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر سوال اٹھایا ہے کہ آیا "وال اسٹریٹ جرنل” کے مالک روپرٹ مرڈوک واقعی اس اخبار پر کنٹرول رکھتے ہیں یا نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایک روز قبل ہی ٹرمپ نے مرڈوک کو عدالت میں طلب کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاکہ وہ اس ہتکِ عزت کے مقدمے میں گواہی دیں جو ٹرمپ نے اخبار کے خلاف دائر کر رکھا ہے۔ اس مقدمے میں ٹرمپ 10 ارب ڈالر کے ہرجانے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
امریکی اخبار "ڈیلی بیسٹ” کے مطابق منگل کے رو زاسکاٹ لینڈ سے واشنگٹن واپسی کے دوران صدارتی طیارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا "میں سمجھتا تھا کہ روپرٹ مرڈوک ہی اخبار کو کنٹرول کرتے ہیں، شاید وہ کرتے ہوں، شاید نہیں۔ وہ ہم سے کچھ کرنے کے بارے میں بات کر رہے ہیں، مگر دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔”
مقدمے کی تفصیلات
ٹرمپ نے اس ماہ کے آغاز میں مرڈوک اور "وال اسٹریٹ جرنل” کے خلاف یہ مقدمہ اس رپورٹ کی اشاعت کے بعد دائر کیا تھا جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ٹرمپ نے 2003 میں جیفری ایپسٹین کو پچاسویں سالگرہ پر ایک ایسی مبارکباد بھیجی تھی جس میں جنسی نوعیت کے اشارے موجود تھے۔
ٹرمپ نے اس پیغام کو "جعلی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اخبار نے ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔
پیر کے روز ٹرمپ کے وکیل نے عدالت سے درخواست کی کہ مرڈوک کو آئندہ دو ہفتوں میں عدالت میں گواہی دینے کا پابند کیا جائے۔ اس درخواست میں مرڈوک سے متعلق خود ٹرمپ کی براہِ راست اپیلوں کا بھی حوالہ دیا گیا۔
منگل کو ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اخبار اس مقدمے کو عدالت سے باہر نمٹانا چاہتا ہے "وہ اس کا تصفیہ چاہتے ہیں۔”
"وال اسٹریٹ جرنل” کی مالک کمپنی "ڈاؤ جونز” نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اسے ایپسٹین سے متعلق شائع شدہ مضمون کی درستگی پر مکمل اعتماد ہے اور وہ عدالت میں بھرپور دفاع کرے گی۔
میڈیا اداروں کے ساتھ ٹرمپ کے قانونی تصفیے
اگر اس مقدمے کا تصفیہ ہوجاتا ہے تو "وال اسٹریٹ جرنل” ان میڈیا اداروں کی فہرست میں شامل ہو جائے گا جو ماضی میں ٹرمپ کے ساتھ قانونی تصفیہ کر چکے ہیں۔
ان میں سب سے نمایاں "پیراماؤنٹ” کمپنی ہے، جس نے پروگرام "60 منٹ” کی ایک قسط کے حوالے سے ٹرمپ کے ساتھ 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے تصفیے پر اتفاق کیا تھا۔
اسی طرح "ڈزنی” کمپنی نے بھی ABC نیوز کے ایک انٹرویو کے سلسلے میں ٹرمپ کے ساتھ 1 کروڑ 60 لاکھ ڈالر میں مقدمہ نمٹا لیا تھا۔
مرڈوک کی میڈیا سلطنت میں ادارتی خود مختاری
روپرٹ مرڈوک نے "وال اسٹریٹ جرنل” کو مکمل ادارتی آزادی دے رکھی ہے، حتیٰ کہ وہ خبریں بھی شائع کی گئی ہیں جو خود مرڈوک سے متعلق تھیں۔ مثال کے طور پر گزشتہ سال ان کے اپنے بیٹوں کے ساتھ سرمایہ کاری فنڈ میں اختلافات کی خبر بھی اخبار میں نمایاں طور پر شائع ہوئی تھی۔
اگرچہ مرڈوک کے دیگر ادارے جیسے "فوکس نیوز” اور "نیویارک پوسٹ”، عام طور پر ٹرمپ کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں، لیکن "وال اسٹریٹ جرنل” کا ادارتی صفحہ ٹرمپ کی پالیسیوں پر تنقید کرنے میں آزاد رہا ہے۔
فروری میں وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران، ٹرمپ نے مرڈوک سے اس آزادی پر براہِ راست شکایت بھی کی تھی۔
مزید خبریں:
آپریشن سندور کے وقت اگر پاکستان پسپا تھا تو آپ نے جنگ بندی کیوں کی؟
انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا
”والدین کے حقوق قرآن وحدیث کی روشنی میں”کا رسم اجراء ندوۃ العلماء لکھنومیں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں