مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب کشمیر کے ایک جید اور قابل قدر عالم دین ہیں
کچھ دن پہلے لکھنؤ سے ایک قاری کی طرف یہ مسیج موصول ہوا تھا ۔
” میں دیوبند سے فارغ ہوں ، یوپی لکھنؤ سے میرا تعلق ہے ، الحمدللہ اپنے مقدور کے مطابق دین کی دعوت و تبلیغ بھی کرتا ہوں ، لیکن جب سے آپ کے مضامین پڑھنے کا اتفاق ہوا ، تو ان سے نہ صرف میرے علم میں اضافہ ہوا ، بلکہ میرے اندر مطالعہ کا ذوق و شوق ماند پڑ چکا تھا ، آپ نے اس ذوق و شوق کو جگا دیا اور اب میں الحمد للہ مطالعہ بھی کرتا ہوں ، آپ کی کتاب مطالعہ کی اہمیت پڑھنے کا شوق تھا ، لیکن یہاں لکھنؤ میں دستیاب نہیں ہے ، لیکن اگر اللہ نے چاہا ، جب میں کشمیر آؤں گا تو آپ سے مل کر اور آپ کی کتاب حاصل کرکے ہی لوٹوں گا ۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
میں کشمیر کے مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب کو جانتا ہوں ، ان کا میرے دل میں بہت احترام ہے ، بلکہ میں کل ہی سوشل میڈیا پر ان کا یہ بیان بھی پڑھ رہا تھا ۔
"مسلمانوں میں صدیوں سے چلے آرہے فروعی اختلافات اور آپسی ٹکراؤ سے اب لوگ تھک چکے ہیں۔
اور ان اختلافات کے رد وثبوت میں دلائل کی لائبریریاں کھڑی کی جا چکی ہیں ، ان مسائل کو اچھالنے سے اب کوئ فائدہ نہیں۔ کیونکہ امت اب ہم سے فکری رہنمائی ، عملی بصیرت اور ذمہ دارانہ کردار چاہتی ہے
اس وقت ہمارا مقابلہ الحاد و تشکیک جدیدیت و بےحیائی و بےدینی سے ہے ، اور انہیں کے تعاقب میں ہماری کوشش صرف ہو "
چونکہ آپ ہر مکتب فکر کے علماء کے بارے میں لکھتے ہیں ، اور آپ مفتی صاحب سے بھی ضرور واقف ہوں گے ، اور اگر آپ کے اور ان کے درمیان کوئی تعلق رہا ہو ، تو میں اس تعلق کے بارے میں جاننا چاہتا ہوں "
جنید عالم قاسمی/ لکھنؤ
مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب ہمیشہ میرے لئے قابلِ احترام رہے ہیں۔ ان سے ایک دہائی قبل کئی برسوں تک میرا رابطہ رہا، اگرچہ ملاقاتیں بہت کم ہوئیں۔ کبھی بالمشافہ، کبھی فون پر علمی و فکری تبادلۂ خیال ہوتا رہا۔
30 جولائی 2022ء کو میں دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ دیکھنے اور خاص طور پر مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب اور مولانا رحمت اللہ قاسمی صاحب سے ملاقات کی نیت سے گیا تھا، مگر بدقسمتی سے اس وقت دونوں حضرات وہاں موجود نہیں تھے۔ میں اپنے ساتھ اپنی کتاب ” مطالعہ کی اہمیت ” کی چند کاپیاں بطورِ تحفہ لے گیا تھا، جو بعد میں میں نے مفتی اسحاق قاسمی صاحب کے سپرد کر دی تھیں۔
اس سفر سے چند ماہ قبل، 6 جنوری 2022ء کو میں نے مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب کے تعارف اور ذاتی تعلقات کے حوالے سے ایک مضمون لکھا تھا، جسے سوشل میڈیا پر بڑی تعداد میں لوگوں نے پڑھا۔ لیکن بدقسمتی سے کشمیر میں اختلافِ رائے کو اکثر مخالفت اور دشمنی سمجھ لیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بعض لوگ فضا کو مکدر کرنے لگتے ہیں۔
میری ناقص رائے میں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ آج ہر مکتبِ فکر کے بعض افراد اپنے اپنے علماء کو تنقید سے بالاتر سمجھتے ہیں، جبکہ دوسرے مکاتبِ فکر کے علماء پر تنقید کو روا جانتے ہیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں میری راہیں ان سے جدا ہو جاتی ہیں، کیونکہ میں تحقیق کے بغیر کسی بات کو قبول کرنے کا عادی نہیں ہوں۔
فی الحال میں وہی پرانا مضمون، لکھنؤ کے ایک قاری کی فرمائش پر، دوبارہ قارئین کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ چونکہ یہ مضمون زیادہ تر تعارف اور ذاتی تعلقات تک محدود ہے، اور میں مفتی صاحب کی زندگی کے تمام پہلوؤں سے واقف نہیں ہوں، اس لیے امید ہے کہ قارئین اسے اسی تناظر میں پڑھیں گے۔
______________________
ریاست جموں و کشمیر کے معروف و ممتاز عالمِ دین اور دارالعلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے مفتیِ اعظم، مولانا نذیر احمد قاسمی (پیدائش: 1964ء)، کسی تعارف کے محتاج نہیں۔ آپ دارالعلوم دیوبند کے فاضل اور متعدد علمی و فکری صلاحیتوں کے حامل ہیں۔
علمی و فکری شخصیات سے مجھے ہمیشہ قلبی لگاؤ رہا ہے۔ کشمیر کی جن علمی شخصیات سے میں واقف ہوں، ان میں سے اکثر پر میں نے کسی نہ کسی موقع پر لکھا ہے، اور انہی میں ایک نام مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب کا بھی ہے۔ میں انہیں گزشتہ تقریباً دو دہائیوں سے جانتا ہوں، اگرچہ بالمشافہ ملاقات صرف دو مرتبہ ہی ہوئی۔
پہلی ملاقات کوئی پندرہ سولہ برس پہلے ہوئی۔ جس دن ملاقات کا پروگرام بنا تھا، دراصل اس دن مفتی صاحب جموں میں تھے۔ انہوں نے فون پر بتایا کہ انہوں نے الرسالہ کے ایک شمارے میں میرا سوال نامہ پڑھا ہے، جو انہیں بہت پسند آیا، اور یہ بھی کہا کہ جموں میں بعض علماء کے درمیان میرا ذکرِ خیر ہو رہا تھا۔ پھر انہوں نے بتایا کہ وہ بذریعہ جہاز سرینگر آرہے ہیں اور مغرب کے بعد صورہ نیو کالونی کی مسجد بلالیہ میں ان کا بیان ہے، اور اگر آپ وہاں آ سکیں گے تو ملاقات بھی ہو جائے گی۔
میں اس وقت گھر سے باہر تھا، وعدہ تو نہ کر سکا، مگر کوشش کرنے کے لئے ضرور کہا۔ مغرب کے وقت گھر پہنچا، دیر ہو چکی تھی، اس لئے مغرب کی نماز گھر پر ہی ادا کی، اپنی چند تصنیفات کا ایک سیٹ ساتھ لیا اور پیدل مسجد کی طرف روانہ ہوا۔ جب مسجد میں پہنچا تو تقریر شروع ہوچکی تھی، میں پچھلی صفوں میں بیٹھ گیا۔ مفتی صاحب کی تقریر نہایت اثر انگیز تھی، اور کچھ لمحات ایسے آئے کہ آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔
تقریباً سوا نو بجے تقریر ختم ہوئی، عشاء کی نماز بھی انہوں نے ہی پڑھائی۔ نماز کے بعد میں دروازے کے قریب کھڑا ہو کر ان کا انتظار کرنے لگا۔ نوجوانوں کا ہجوم تھا جو ان کے لئے راستہ بنا رہے تھے۔ میں نے دور سے سلام کے ساتھ اپنا نام لیا۔ میری آواز سنتے ہی مفتی صاحب خود باہر آ گئے۔ مصافحہ اور معانقہ ہوا۔
انہوں نے پوچھا: “آپ کب آئے؟”
میں نے عرض کیا: “آپ کی پوری تقریر سنی ہے۔”
فرمایا: “کیا میری تقریر میں کوئی غلطی تو نہیں ہوئی؟”
یہ سن کر میں حیران رہ گیا۔ میں نے عرض کیا: “حضرت! آپ نے تو مجھے رلا دیا۔” مگر وہ اسی بات پر اصرار کرتے رہے۔ میں نے گفتگو کو آگے بڑھانے کے بجائے اپنی کتابوں کا سیٹ انہیں پیش کیا۔ وہ رخصت ہو گئے۔
راستے میں ان کا پھر فون آیا، اور وہی سوال دہرایا۔ گھر پہنچنے کے بعد تقریباً ڈیڑھ گھنٹے بعد دوبارہ فون آیا، اور پھر یہی فرمایا۔ میں نے بات ٹالتے ہوئے صحیح بخاری کی ایک حدیث کا حوالہ پوچھ لیا، جو انہوں نے تقریر میں بیان کی تھی۔ اگلے دن صبح آٹھ بجے انہوں نے فون کر کے حدیث کا پورا حوالہ دیا، اور پھر وہی سوال دہرایا۔ اس مرتبہ میں نے خاموشی اختیار کر لی اور فون کاٹ دیا ۔
بظاہر یہ ایک معمولی واقعہ ہے، لیکن اس سے ایک بڑے عالم کی عجز و انکساری کا اندازہ ہوتا ہے۔ ایسے علماء کے سامنے قرآن کی یہ حقیقت ہمیشہ رہتی ہے ۔
وَفَوْقَ كُلِّ ذِيْ عِلْمٍ عَلِيْمٌ
(یوسف: 76)
اور ہر علم والے سے اوپر ایک علم والا ہوتا ہے ۔
ایسے ہی لوگ اللہ تعالی کے ان بندوں میں شامل ہوتے ہیں ، جن کے بارے میں خود اللہ تعالی نے یہ ارشاد فرمایا ہے ۔
اِنَّمَا يَخْشَى اللّـٰهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَآءُ ۔
( فاطر : 28)
بیشک اللہ سے اس کے بندوں میں سے صرف علم والے ہی ڈرتے ہیں ۔
اسی طرح ایک دن صبح مفتی صاحب کا فون آیا۔ سلام و خیریت کے بعد میں نے عرض کیا: حضرت! کیا خیریت تو ہے کہ آپ نے علی الصباح کیسے یاد کیا ؟
کہا ، میں حجِ بیت اللہ کے لئے گیا تھا، وہاں آپ یاد آئے، اس لئے آپ کے لئے ایک کتاب لے آیا ہوں۔ یہ اردو میں ہے اور مکہ مکرمہ ہی سے شائع ہوئی ہے۔
میں نے عرض کیا: حضرت! یہ آپ کا حسنِ ظن ہے، ورنہ مجھ ہیچ مدان اور ہما شما کو آپ سے کیا نسبت؟
کہا : نہیں، میں یہ کتاب آج ہی آپ کو بطورِ ہدیہ بھیج رہا ہوں۔
میں نے شکریہ ادا کیا اور فون رکھ دیا۔ ٹھیک ایک دن بعد ایک نوجوان طالب علم کے ذریعے وہ کتاب مجھے موصول ہوئی۔ کتاب کا نام تھا:
"الدین النصیحة”
یہ ایک ضخیم کتاب ہے، بڑے سائز کی، اور 515 صفحات پر مشتمل ہے۔ یہ دروس پر مبنی ہے، اور اس کے مرتب و مدرس کا نام ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ ہے ۔
کتاب میں متعدد اہلِ علم کی تقاریظ شامل ہیں، جن میں پاکستان کے معروف عالم اور محقق ڈاکٹر محمود احمد غازی مرحوم کا نام بھی شامل ہے۔ کتاب کا مرکزی موضوع تحفظِ دین اور مطالعۂ قادیانیت ہے، اور اس میں فتنۂ قادیانیت کا سنجیدہ، علمی اور مدلل تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔ مجموعی طور پر یہ کتاب مفید، وقیع اور قابلِ مطالعہ ہے۔
اسی طرح ایک مرتبہ مجھے معلوم ہوا کہ مفتی صاحب عیدالفطر کی نماز دارالعلوم الفرقانیہ، نوشہرہ سرینگر کے قریب ایک پارک میں پڑھانے والے ہیں۔ میں نے ارادہ کیا کہ اس مرتبہ عید کی نماز انہی کی اقتداء میں ادا کروں اور ان کا خطبہ بھی سنوں۔
فاصلہ تقریباً اڑھائی کلو میٹر تھا۔ میں گھر سے اکیلا پیدل روانہ ہوا اور قریب آدھے گھنٹے میں نماز گاہ پہنچ گیا۔
مفتی صاحب نے نماز سے پہلے ایک جامع اور معلوماتی تقریر کی، پھر عید کی نماز پڑھائی، اور اس کے بعد عربی خطبہ دیا۔ عربی خطبے کے دوران میری نظر ان کے ہاتھ میں موجود نیلے رنگ کی ایک بڑی کتاب پر پڑی، جس نے میرے اندر شدید اشتیاق پیدا کر دیا کہ اس کتاب کو قریب سے دیکھوں۔
خطبہ ختم ہوا تو لوگ بڑی تعداد میں مفتی صاحب سے مصافحہ اور سلام کے لئے آگے بڑھنے لگے۔ میں بھی کچھ دیر انتظار کرتا رہا، مگر ہجوم کم نہ ہوا۔ آخرکار میں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی۔ اس وقت مفتی صاحب عارضی منبر پر لوگوں کے ساتھ مصافحہ کرنے میں مصروف تھے۔
جب میں ان کے قریب پہنچا اور قدرے بلند آواز میں صرف اتنا کہا: "کشافی”
تو مفتی صاحب نے فوراً منبر سے نیچے اتر کر مجھ سے مصافحہ کیا، معانقہ کیا، دعا و سلام ہوا۔ میں نے عرض کیا: حضرت! دورانِ خطبہ میں نے آپ کے ہاتھ میں ایک نیلے رنگ کی کتاب دیکھی تھی، اگر ممکن ہو تو اس کا نام اور پتہ دیکھنا چاہتا ہوں۔
وہ کتاب اس وقت ایک نوجوان مظفر احمد (مالک مکتبہ مظفر) کے ہاتھ میں تھی۔ مفتی صاحب نے کہا ، یہ کتاب "خطباتِ جمعہ” ہے، میں نے اسے پچھلے سال ممبئی سے دو سو روپے میں خریدا تھا۔
یہ کہہ کر انہوں نے وہ کتاب مظفر احمد کے ہاتھ سے لی، میرے ہاتھ میں تھمائی، اور صرف اتنا کہا:
"ہدیہ، ہدیہ”
میں ان کی اس عزت افزائی ، تواضع ، شفقت اور قدر دانی سے انتہائی متاثر ہوا اور وہاں جو لوگ ان سے ملنے کے لئے آوا جاہی کر رہے تھے ، وہ میری طرف حیرانی سے دیکھ رہے تھے ، اور شاید وہ میرے بارے میں یہ سوچ رہے تھے کہ اس نالائق کے چہرے پر آدھے انچ کی داڑھی ہے ، اور سر پر ٹوپی بھی نہیں ہے ۔ اور مفتی صاحب سے ملنے میں سبقت لے گیا ، اور مفتی صاحب اس کے لئے منبر سے نیچے اتر آئے ، اور ان سے کتاب بھی حاصل کرلی ، لیکن میں نے کسی کی طرف دھیان نہ دیتے ہوئے وہاں سے خاموشی سے نکل گیا ، اور جس طرح پیدل چل کر آیا تھا ، بالکل اسی طرح پیدل چل کر واپس گھر پہنچا ۔
میں نے ایک مرتبہ ایک کتاب لکھی تھی "عصر کے بعد نمازِ جنازہ پڑھنے کا مسئلہ”۔ ایک دن مفتی صاحب کا فون آیا اور کہا کہ میرے پاس بھی اسی نوعیت کا ایک سوال آیا ہے، اس لئے میں آپ کی کتاب دیکھنا چاہتا ہوں۔ میں نے وہ کتاب انہیں بھیج دی۔ اس کے بعد ان کی طرف سے دوبارہ فون آیا، اور انہوں نے میری کتاب کی خوب تعریف کی۔
اسی طرح میری ایک اور کتاب "کیا قرآن کو حدیث کے بغیر سمجھنا ممکن ہے؟” کے نام سے شائع ہوئی تھی۔ میں نے اس کی ایک کاپی بطورِ تحفہ مفتی صاحب کو بھیج دی۔ بعد میں انہوں نے فون پر بتایا کہ انہوں نے یہ کتاب ایک ہی نشست میں پڑھ لی ہے، اور فرمایا کہ یہ کتاب دینی مدارس کے نصاب میں رکھنے کے قابل ہے۔ ان کا یہ تبصرہ میرے لئے باعثِ مسرت اور باعثِ حوصلہ تھا۔
اسی تسلسل میں ایک اور واقعہ ہے۔ میں نے بچپن میں مولانا اشرف علی تھانویؒ کی ایک کتاب پڑھی تھی، جس میں ایک سبق آموز واقعہ درج تھا۔ چند سال پہلے ایک کتاب لکھتے ہوئے مجھے اس واقعہ کے درست حوالہ کی ضرورت پیش آئی، مگر وہ کتاب میرے ذاتی کتب خانے میں موجود نہیں تھی، اور بازار میں بھی بہت تلاش کے باوجود کہیں دستیاب نہ ہو سکی۔
چنانچہ میں نے مفتی صاحب کو فون کیا اور عرض کیا کہ آج سے تقریباً پچیس سال قبل میں نے مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب "اصلاح الرسوم” پڑھی تھی، اور اس کے صفحہ نمبر 10 پر ایک خاص واقعہ درج تھا، جس کی مجھے اس وقت ایک حوالہ کے طور پر ضرورت ہے، مگر کتاب کہیں سے نہیں مل رہی ہے۔ اگر آپ کے ذریعے یہ کتاب دستیاب ہو جائے اور کسی کے ہاتھ بھجوا دی جائے تو بڑی مہربانی ہوگی۔
اگلے ہی دن مفتی صاحب کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ کتاب مل گئی ہے اور ایک طالب علم کے ذریعے بھجوا دی گئی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں نے آپ کے بتانے کے بعد خود بھی وہ واقعہ دیکھا ہے، اور واقعی وہ صفحہ نمبر 10 ہی پر موجود ہے۔ پھر کہا کہ آپ کے حافظے کی داد دینی پڑے گی۔ اس پر میں نے دل سے اللہ تعالی کا شکر ادا کیا۔
اگرچہ میری دانست میں مفتی صاحب کی کوئی مستقل تصنیف نہیں ہے اور اگر ہوگی تو پھر وہ میری نظر سے نہیں گزری ہوگی ، لیکن فقہی مقالات، اخباری مضامین، اور بالخصوص روزنامہ کشمیر عظمیٰ میں شائع ہونے والا ان کا سوال و جواب کا کالم میں طویل عرصے سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ ان کے فتاویٰ میں سنجیدگی، اعتدال اور علمی وقار نمایاں ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی کشمیر کے ایک جید عالم اور قابل قدر مفتی ہیں ، اور میں نے کشمیر میں آج تک ان سے بہتر کسی مفتی کو دیکھا ہے اور نہ میں ان کے جیسا کسی مفتی کو جانتا ہوں ، ان کے بعض فتاویٰ سے اختلاف رائے کیا جاسکتا ہے ، اور کئی بار ہوا بھی ہے ۔ لیکن ان کی علمی و فکری صلاحیتوں سے انکار ممکن نہیں ۔
آخر پر میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مولانا مفتی نذیر احمد قاسمی صاحب کو صحتِ کاملہ، عمرِ دراز اور اخلاص کے ساتھ دین کی خدمت کی مزید توفیق عطا فرمائے، ان کے علم و عمل میں برکت دے، اور ان کے فتاویٰ، خطابات اور تحریروں کو اہلِ کشمیر، بالخصوص نئی نسل کے لئے ذریعۂ ہدایت بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اختلافِ رائے کے باوجود اہلِ علم کی قدر کرنے، ان سے استفادہ کرنے اور انصاف و اعتدال کے دائرے میں رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !