مفتی شمائل ندوی

خدا کے وجود پر مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کا مناظرہ قسط اول

نوجوان عالمِ دین مفتی شمائل ندوی صاحب گفتگو کے اسلوب، تحمل اور فکری تازگی کے اعتبار سے ایک سلجھے ہوئے، فاضل اور ذہین عالم دکھائی دیتے ہیں۔ دوسری طرف جناب جاوید اختر صاحب خود کو ملحد اور خدا بیزار قرار دیتے ہیں اور اردو ادب میں ایک معروف نام سمجھے جاتے ہیں۔ ان دونوں شخصیات کے درمیان (کیا خدا موجود ہے) کے عنوان سے ایک بحث یوٹیوب پر دیکھنے کو ملی۔ اس بحث کو مکمل دیکھنے کے بعد جو فوری اضطراب اور گہرا تاثر اس عاجز کے ذہن میں پیدا ہوا، اسے ایک سنجیدہ اور عاجزانہ علمی رائے کے طور پر پیش کرنا ضروری محسوس ہوا۔ ممکن ہے کسی طرح میری یہ گزارشات مفتی صاحب موصوف اور ان جیسے دوسرے اہل علم حضرات، جو صلاحیت اور صالحیت ہر دو صفات سے متصف ہونے کے ساتھ ساتھ دین کی خدمت کا جذبہ بھی رکھتے ہیں، تک پہنج جائے اس لئے بھی ان گزارشات کو سوشل میڈیا پر شیر کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

موجودہ عالمی حالات اور سوشل میڈیا کے ماحول میں خدا کے وجود پر عوامی بحث بظاہر علمی سرگرمی دکھائی دیتی ہے۔ مگر جب اس کی نوعیت، مقام اور سامعین کو سامنے رکھا جائے اور اس طرح کے حساس موضوع پر گفتگو کے ممکنہ فوائد اور یقینی نقصانات پر گہری نظر کی جائے تو کئی بنیادی سوال پیدا ہوتے ہیں۔

کیا خدا موجود ہے محض ایک نظری سوال نہیں۔ یہ ایمان، عقل، فلسفہ، نفسیات اور انسان کے کثیر الجہاتی تجربے سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ ایسے موضوع کو فوری، محدود وقت اور مناظرانہ انداز میں زیر بحث لانا علمی روایت سے ہم آہنگ نہیں۔

الحاد کوئی وقتی ابہام یا فوری جذباتی رد عمل نہیں۔ یہ ایک مکمل فکری ڈھانچہ ہے۔ اس کے پیچھے مخصوص فلسفیانہ مفروضات، تاریخ، جدید مغربی فکر اور مذہب کے بارے میں خاص زاویۂ نظر کام کرتا ہے۔ اس لیے یہ توقع رکھنا کہ ایک مختصر عوامی مکالمے میں کوئی ملحد اپنے موقف سے رجوع کر لے گا، علمی حقیقت سے بعید ہے۔ اس طرح کی بحث زیادہ تر قائل کرنے کے بجائے سامعین کو متاثر کرنے تک محدود رہتی ہے۔

ایسی عوامی بحثوں کا ایک واضح نقصان یہ ہے کہ ملحدانہ فکر کو غیر ضروری تشہیر ملتی ہے۔ اسے ایک قابلِ سماعت اور قابلِ قبول متبادل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ عام ناظر فلسفہ، علم الکلام اور دینی استدلال کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوتا۔ وہ دلیل کی گہرائی کے بجائے لہجے، اعتماد اور الفاظ کے چناؤ سے متاثر ہوتا ہے۔ اس فضا میں سچائی کا وزن کم اور اسلوب کا اثر زیادہ ہو جاتا ہے۔

دوسرا بڑا خطرہ یہ ہے کہ اگر کسی بھی مرحلے پر بحث کا توازن بگڑ جائے تو اس کا نقصان خدا پر ایمان رکھنے والوں کو ہوتا ہے۔ خاص طور پر نوجوان نسل کو۔ وہ نوجوان جو مطالعہ میں کمزور ہیں، جن کی فکری بنیاد مضبوط نہیں، ان کے ذہن میں سوال تو فوراً پیدا ہو جاتا ہے مگر جواب ذہن میں بیٹھنے میں وقت لیتا ہے۔ سوال کی رفتار جواب سے تیز ہو جائے تو اضطراب پیدا ہوتا ہے۔ یہی اضطراب آگے چل کر شکوک میں بدل جاتا ہے۔

اسلامی علمی روایت میں الحاد کا جواب ہمیشہ منہج کے ذریعے دیا گیا ہے، نہ کہ مناظرے کے شور میں۔ تدریجی تعلیم، عقلی مقدمات کی وضاحت، وجودِ خدا پر کلاسیکی اور جدید دلائل کی تفہیم، اور ایمان و عقل کے تعلق کو متوازن انداز میں سمجھانا اس کا اصل راستہ ہے۔ علم الکلام اسی مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا۔ اس کا میدان درس گاہ، کتاب اور سنجیدہ علمی مجلس ہے، نہ کہ یوٹیوب کی تیز رفتار دنیا۔

اکیڈمک مکالمہ اس لیے محفوظ ہوتا ہے کہ وہاں سامع بھی تیار ہوتا ہے اور ماحول بھی۔ سوال پوچھنے والا بھی ذمہ دار ہوتا ہے اور جواب دینے والا بھی۔ عوامی مناظرے میں یہ توازن قائم رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ خاص طور پر جب موضوع اتنا حساس ہو کہ اس کا تعلق براہ راست ایمان سے ہو۔

یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ ہر عالم کا دائرۂ کار یکساں نہیں ہوتا۔ دعوت ایک الگ میدان ہے۔ مناظرہ ایک الگ مہارت مانگتا ہے۔ علمی تحقیق کا اپنا مزاج ہے۔ اگر ان دائروں کی حد بندی نہ کی جائے تو خلوص کے باوجود نتائج نقصان دہ ہو سکتے ہیں۔ نیت درست ہو مگر طریقہ ناموزوں ہو تو فائدے کے بجائے فکری انتشار پیدا ہوتا ہے۔

ایسے مباحث میں جوش کے مقابلے میں حکمت زیادہ ضروری ہے۔ اظہار سے پہلے اثرات کا اندازہ کرنا لازم ہے۔ ایمان کی حفاظت کسی بھی علمی سرگرمی سے زیادہ اہم ہے۔ اگر کسی بحث میں علمی برتری دکھائی دے مگر اس کے نتیجے میں ذہنی خلفشار بڑھے تو ایسی برتری بے معنی ہو جاتی ہے۔ اصل کامیابی وہ ہے جو عقل کو مطمئن کرے اور ایمان کو محفوظ رکھے۔

قلمکار: ڈاکٹر نذیر احمد زرگر کشمیر

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے