اگر پوچھا جائے کہ دنیا میں انسان کے لیے فنونِ لطیفہ اور انٹرٹینمنٹ ( Entertainment ) چیزوں میں سے سب سے بہترین چیز کون سی ہے جس سے ایک شخص ذہنی، روحانی اور جسمانی خوشیاں اور راحتیں پا سکے تو ممکن ہے کوئی کہے Money یعنی روپیہ پیسہ کوئی اچھی صحت بتلائے تو کوئی عمدہ لباس، مرغن غذائیں یا کوئی سیر و تفریح ،یا کھیل ، میوزک یا کتب بینی کو اعلیٰ مقام دے جیسا کہ فیض احمد فیض احمد کہتے ہیں
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
لیکن اگر میں ایک لفظ میں یا ایک جملے میں کہوں کہ انسان کو جو خوشیاں اور راحتیں پہنچانے والی دنیا کی سب سے بہترین اور خوبصورت کوئی شئ ہے تو وہ عورت ہے.عورت کے بنا انسان کی زندگی ادھوری اور نامکمل ہے اور اسی طرح بنا شوہر کے عورت ایک مرجھایا ہوا سوکھے پھول کی مانند ہے،
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
انسان چاہے جتنا دولت مند ہو یا کسی کوہستان کا امیر، عظیم کھلاڑی ہو یا بے مثال وہ بے نظیر قوم کا لیڈر، یا خطیب و محرر،
صنف نازک کے بنا ہر شخص کی زندگی ادھوری ہے
جو زندہ تو ہے مگر روحانی سکون سے خالی ہے جیسا کہ علامہ اقبال کہتے ہیں
وجودِ زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ
اسی کے ساز سے ہے زندگی کے سوز دروں
یہی وجہ ہے کہ صنف نازک کے وجود کو رب العالمین نے ابن آدم کے لیے ایک بہت بڑی نعمت قرار دیا فرمایا
ياايها الناس اتقوا ربكم الذى خلقكم من نفس واحدة و خلق منها زوجها و بث منهما رجالا كثيرا و نساء و اتقوا الله الذى تساءلون به و الارحام ان الله كان عليكم رقيبا ،
اے لوگو اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی میں سے اس کا جوڈا بنایا اور ان دونوں سے بہت سے مرد و عورت پھیلائے اور الله سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک الله ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ،
( النساء: ١ )
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
الدنيا متاع و خير متاعها المرأة الصالحة ،
دنیا متاع ( کچھ وقت تک کے لیے فائدہ اٹھانے کی چیز ) ہے اور دنیا کی بہترین متاع نیک عورت ہے
( مسلم 1467 )
اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تجرد، رہبانیت کی زندگی گزارنے سے بہتر نکاح اور رشتہ ازدواجیت کو قرار دیا فرمایا !
يا معشر الشباب من استطاع منكم الباءة فليتزوج و من لم يستطع فعليه الصوم فإنه له وجاء
اے نوجوانو تم میں جو بھی شادی کی طاقت رکھتا ہو اسے نکاح کرلینا چاہیے اور جو اس کی طاقت نا رکھتا ہو وہ روزے رکھے کیونکہ یہ خواہش نفسانی کو توڑ دے گا ،
( بخارى : ٥٠٦٦ )
لہذا جو شخص شادی بیاہ کی طاقت رکھتا ہو اس پر واجب ہے کہ وہ نکاح کرے اور اپنی شريك حیات کے ساتھ ایک پاکیزہ زندگی گزارے،
مذہب اسلام نے صرف شادی بیاہ کا حکم دے کر اپنی ذمہ داری ادا نہیں کر دی اور نہ ہی دیگر مسائل پر خاموشی اختیار کی
بلکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے شادی کی ترغیب، شریک حیات کا انتخاب اور رشتہ ازدواجیت کے بعد میاں بیوی کی بھرپور راہنمائی کی ہے تاکہ کوئی فرد بشر یا نو بیاہتا جوڑا اپنی زندگی میں کوئی خلش محسوس نہ کر سکے،
رشتۂ ازدواجیت میں بندھنے سے پہلے اسلام نے سب سے پہلے دینداری اور حسنِ اخلاق کو ترجیح دینے کا حکم دیا،تاکہ زندگی امن و امان سے گزر سکے، فرمایا
اذا اتاكم من ترضون خلقه و دينه فزوجوه إلا تفعلوا تكن فتنة في الارض و فساد عريض
جب تمہیں کوئی ایسا شخص شادی کا پیغام دے ، جس کی دینداری اور اخلاق سے تمہیں اطمنان ہو تو اس سے شادی کردو،اگر ایسا نہیں کروگے تو زمین میں فتنہ اور فساد عظیم برپا ہوگا،
( ترمذى: ١٠٨٤)
نکاح اور عقد مسنون کے بعد میاں بیوی کے حقوق بھی بتلائے ،
ان تطعمها اذا طعمت و تكسوها اذا اكتسيت ولا تضرب الوجه ولا تقبح ولا تهجر إلا في البيت،
جب تو کھایے تو اسے بھی کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے اور اس کے منہ پر نا مارے اور نا اسے گالی گلوج دے اور گھر کے علاوہ اس سے الگ نا رہے ،
( ابو داؤد،2142 )
اور عورت کو حکم دیا کہ
اللہ اور اس رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہر حال میں اپنے شوہر کی اطاعت وفرمانبرداری کرے حتیٰ کہ
لو كنت آمرا ان يسجد لأحد لامرت المرأة ان تسجد لزوجها ،
اگر میں کسی کو کسی کے لیے سجدہ کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کیا کرے ،
( کتاب النكاح،باب فى حق الزوج على المرأة: ٢١٤٠ )
فرما کر شوہر کے مقام و مرتبہ کو دو بالا کردیا،
لیکن اب یہ ایک حقیقت ہے کہ موجودہ دور میں طلاق اور خلع کے واقعات میں بہت تیزی کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے کیونکہ آج کل کی عورتیں پہلے زمانے کی طرح صابر اور شکر گزار نہیں رہیں آج کل زمانہ بدل گیا ہے اور بدل رہا ہے
بوائے فرینڈ بدل جاتا ہے،گرل فرینڈ بدل جاتی ہے ،شوہر بدل جاتا ہے، بیوی بدل جاتی ہے گزرے لمحات کے ساتھ ساتھ رشتے بھی بدلنے لگ جاتے ہیں
سماج کی اس بڑھتی اخلاقی برائی کو کسی ایک فرد ( مرد یا عورت ) کو مورد الزام نہیں ٹہرا سکتے، کبھی مرد تو کبھی عورت ہر کوئی اپنے مفاد اور خود غرضی کے تیئں اپنے شریک حیات کو دھوکہ دے رہا ہے
*نا رکھ امید وفا کسی پرندے سے اقبال
جب پر نکل آتے ہیں تو اپنا آشیانہ بھول جاتے ہیں،
عربی زبان ایک کہاوت مشہور ہے
الرجال يحبون الجمال و النساء تحب المال
کہ مرد خوبصورتی کو پسند کرتے ہیں اور خواتین مال کو پسند کرتی ہیں
اور یہی چیز موجودہ دور میں ٹوٹتے رشتوں اور بکھرتے پریواروں کی اصل وجہ ہے ایک نوجوان لڑکا جب رشتے ازدواجیت میں بندھنا چاہتا ہے تو اس کا سب سے پہلا مطمح نظر اخلاق اور دینداری کی بجائے عورت کی خوبصورتی ہوتی ہے ، اگر کوئی کالی کلوٹی یا سانولی لڑکی گرچہ وہ دیندار اور صوم و صلوٰۃ کی پابند ہو اور وہ رشتہ ازدواجیت کو بھرپور امانت داری اور فرمانبرداری سے نبھانے کا وعدہ کرے تو کیا کوئی بھی نوجوان اس کو اپنے نکاح میں لینا پسند کرے گا نہیں ، ہرگز نہیں الا ماشاءاللہ
یہی فریب اور خودغرضی اکثر خوبصورت دو شیزاؤں اور خواتین میں ہے کہ ہم تو خوبصورتی کی بلا ہیں، بھلا ہم اس غریب اور قلاش شخص کے ساتھ اپنی پوری زندگی کیوں کر بتائیں لہذا بدلتے وقت کے ساتھ رشتے بھی بدلنے لگ جاتے ہیں ،
اور دوسرا شریکِ حیات اپنے ہمسفر کی اس خود غرضی اور بے رخی کو دیکھ کر دم بخود رہ جاتا ہے
محبت کی بازی میں اس شخص سے ہارا ہوں
جو بات بات پہ کہتا تھا کہ میں صرف تمہارا ہوں،
وہ دور نسیما منسیا ہو گیا جب شوہر بیوی سے کچھ ناراض ہوتا تو اہلیہ فرط غم سے رات بھر سو نہیں پاتی تھی اور جب تک شوہر راضی نہ ہو جائے تب تک انہیں کوئی چیز راحت و سکون نہیں پہنچا سکتی تھی
مثل شیشہ ہیں ہمیں تھام کر رکھنا محسن
ہم تیرے ہاتھ سے چھوٹے تو بکھر جائیں گے
مجھے یاد ہے کہ ابھی بیس پچیس سال پہلے ہم مغربی تہذیب کو کوستے تھے، برا بھلا کہتے تھے اور مشرق کی تہذیب و تمدن بالخصوص مذہب اسلام کی پاکیزہ تعلیمات پر فخر کرتے تھے کیونکہ مغربی تہذیب و ثقافت کی کئی اخلاقی برائیوں میں سے ایک بہت بڑی اور ناپسندیدہ چیز یہ تھی کہ مغرب میں آئے دن رشتے ٹوٹتے اور بکھرتے رہتے ہیں حتی کہ ان کے یہاں چند سالوں کی مدت پر میرج ایگریمنٹ( Marriage Agreement ) ہونے لگیں،
لیکن آج جب ہم مشرق میں اور بالخصوص مسلمانوں میں بھی آئے دن رشتوں کو ٹوٹتے بکھرتے دیکھ رہے ہیں تو اب احساس ہوا چلا ہے کہ واقعی اس میدان میں صرف انگریزوں کو مورد الزام ٹھہرانا صحیح نہیں تھا
بعض رشتے ایسے بھی ہیں کہ شادی کے چند ہی ماہ و سال میں ٹوٹ جاتے ہیں ، اور کئ سال کورٹ کچہری کے چکر بھی لگتے ہیں ،
لہذا انگریزیوں نے اس مشکل کا حل یہ نکالا کہ شادی کے بعد اگر رشتہ ازدواجیت برقرار رکھنا مشکل ہوجایے تو بجایے اس کے کہ ہم ایک دوسرے پر بےجا الزامات لگائیں اور لڑائی جھگڑا و بحث و تکرار کرکے کورٹ کچہری کے چکر لگائیں اس سے بہتر ہے کہ ہم پہلے ایک مدت کے لیے نکاح میرج ایگریمنٹ کرلیں گے
اگر مدت معینہ میں لڑکا لڑکی ( میاں، بیوی ) کو لگے کہ ہمارے خیالات ملتے ہیں اور دونوں کو محسوس ہو کے ہم شادی کرسکتے ہیں تو شادی کی جائے گی ورنہ الوداع کہ کر دونوں آزاد ہونے کے خود مختار ہونگے ،
حالانکہ یہ طریقہ کار سماج میں بدکاری اور فحاشی کو عام کرنے کا بہت بڑا حربہ و ہتھیار ہے جو کہ اسلامی نقطۂ نظر سے قطعاً سخت حرام ہے
مگر کتنے افسوس کی بات ہے کہ موجودہ دور میں رشتہ جوڑنا ، شادی کرنا بہت مشکل و دشوار ہوتا چلاہے اور طلاق و خلع ہونا عام سی بات ہوگی ہے
جبکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ شادی کو اتنی آسان اور عام کروکے زنا مہنگا اور دشوار ہوجایے
لہذا سنت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق
فاظفر بذات الدين تربت يداك ،
تو دیندار عورت سے نکاح کرکے کامیابی حاصل کر،تیرے ہاتھ خاک آلود ہوں،
کے تحت دیندار جوڑے کا انتخاب کرکے امن و امان کی زندگی بسر کریں
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !