کیا عرب نیٹو فوج کا قیام ممکن ہے ؟

عرب نیٹو فوج

یورپین نیٹو (North Atlantic Treaty Organization) کی طرح مشرق وسطیٰ میں ایک "عرب نیٹو فوج” کا تصور کئی دہائیوں سے زیر بحث ہے۔ نیٹو، جو 1949 میں قائم ہوا، اپنے رکن ممالک کے مشترکہ دفاع کے لیے ایک کامیاب ماڈل ہے، جہاں ایک ملک پر حملہ سب پر حملہ سمجھا جاتا ہے (آرٹیکل 5)۔ اسی طرح، عرب ممالک میں ایک مشترکہ فوجی اتحاد کا خیال ایران کے بڑھتے اثر و رسوخ، دہشت گردی، اور حالیہ علاقائی تنازعات—جیسے اسرائیل کے قطر پر حملوں—کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ حالیہ پیش رفت، خاص طور پر مصر کی جانب سے ستمبر 2025 میں دوحہ عرب-اسلامی سمٹ کے دوران پیش کی گئی تجویز، نے اس بحث کو نئی زندگی دی ہے۔ یہ مضمون عرب نیٹو فوج کے امکانات، تاریخی پس منظر، فوائد، چیلنجز، اور مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیتا ہے۔

تاریخی پس منظر

عرب ممالک نے ماضی میں کئی بار مشترکہ فوجی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کی، لیکن داخلی اختلافات، علاقائی تناؤ، اور بیرونی دباؤ نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔ چند اہم مثالیں درج ذیل ہیں:

  1. بیگداد پیکٹ (1955): برطانیہ کی قیادت میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن (CENTO) مشرق وسطیٰ میں ایک فوجی اتحاد تھا، جس میں عراق، ترکی، ایران، اور پاکستان شامل تھے۔ تاہم، عرب ممالک نے اسے مغربی سامراج کا آلہ سمجھا، اور 1979 میں یہ ختم ہو گیا۔
  2. عرب لیگ کی مشترکہ فورس (2015): مصر نے شرم الشیخ سمٹ میں دہشت گردی اور یمن کے بحران کے خلاف ایک مشترکہ عرب فوج کی تجویز دی، جسے عرب لیگ نے منظور کیا۔ بدقسمتی سے، عملی اقدامات نہ ہو سکے، اور سعودی عرب نے یمن میں الگ اتحاد بنایا، جو کامیاب نہ ہوا۔
  3. مڈل ایسٹ سٹریٹیجک الائنس (2017): سعودی عرب نے امریکہ کی حمایت سے ایک "عرب نیٹو” کا تصور پیش کیا، جو ایران کے خلاف تھا۔ تاہم، سعودی-قطر تناؤ اور دیگر اختلافات نے اسے ناکام کر دیا۔
  4. 2022 کی تجویز: امریکی صدر جو بائیڈن کے دورہ مشرق وسطیٰ کے دوران اردن کے بادشاہ عبداللہ نے ایک "مڈل ایسٹ نیٹو” کی حمایت کی، لیکن اسرائیل-سعودی نارملائزیشن کی کمی اور امریکی کانگریس کی عدم دلچسپی نے اسے روک دیا۔

یہ ناکام کوششیں بتاتی ہیں کہ عرب ممالک میں اتحاد کی خواہش موجود ہے، لیکن قومی مفادات، سیاسی اختلافات، اور بیرونی مداخلت اس کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

حالیہ پیش رفت: مصر کی نئی تجویز (ستمبر 2025)

حالیہ اسرائیلی حملوں، خاص طور پر قطر پر حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانے والے حملوں نے عرب ممالک میں غم و غصہ بھڑکایا۔ اس تناظر میں، مصر نے دوحہ میں 14-15 ستمبر 2025 کو ہونے والے عرب-اسلامی سمٹ کے دوران ایک نئی "عرب نیٹو” فوج کی تجویز پیش کی۔ اس تجویز کے اہم نکات درج ذیل ہیں:

  • مقاصد: اس فوج کا مقصد کسی بھی عرب ملک پر حملے (مثلاً اسرائیل یا دیگر غیر ملکی قوتوں سے) کی صورت میں فوری دفاعی مدد فراہم کرنا ہے۔ یہ دہشت گردی، علاقائی خطرات، اور غیر ریاستی عناصر (جیسے داعش یا حزب اللہ) سے نمٹنے کے لیے بھی کام کرے گی۔ نیٹو کی طرح، اس کا بنیادی اصول "ایک پر حملہ، سب پر حملہ” ہوگا۔
  • ساخت: یہ فورس زمینی، فضائی، بحری، اور کمانڈو یونٹس پر مشتمل ہوگی۔ مصر ابتدائی طور پر 20,000 فوجی فراہم کرے گا اور کمانڈر کا عہدہ سنبھالے گا۔ ہیڈ کوارٹر قاہرہ میں ہوگا۔
  • شریک ممالک: سعودی عرب دوسرا بڑا حصہ دار ہوگا، جو دوسری کمانڈ پوزیشن لے گا۔ متحدہ عرب امارات، قطر، اردن، بحرین، کویت، اور دیگر عرب لیگ کے 22 ممالک فوجی اور وسائل فراہم کریں گے، جو ان کی آبادی اور فوجی طاقت کے تناسب سے ہوں گے۔
  • فعالیت: کمانڈر کا عہدہ ہر چند سال بعد ممالک کے درمیان گردش کرے گا۔ ایک سول سیکرٹری جنرل ہوگا، جو سیاسی فیصلے کرے گا۔ یہ فورس امن مشن، کاؤنٹر ٹیرر آپریشنز، اور مشترکہ تربیت پر بھی توجہ دے گی۔
  • حمایت: پاکستان، ایک نیوکلیئر طاقت، نے اس تجویز کی حمایت کی ہے، خاص طور پر اسرائیلی "توسیع پسندی” کے خلاف۔ مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے سعودی، اماراتی، اور قطری رہنماؤں سے اس پر بات چیت کی ہے۔

یہ تجویز ابھی ابتدائی مرحلے میں ہے، لیکن قطر پر حملوں نے اسے نئی رفتار دی ہے۔ تاہم، ماضی کی ناکامیوں کو دیکھتے ہوئے، اس کی کامیابی پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔

فوائد: ایک متحدہ عرب فوج کے امکانات

اگر عرب نیٹو فوج کامیاب ہو جاتی ہے، تو اس کے کئی فوائد ہو سکتے ہیں:

  1. علاقائی استحکام: یہ فورس ایران کی حمایت یافتہ ملیشیاؤں (حزب اللہ، حوثی) اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف ایک متحدہ ڈھال بن سکتی ہے۔ اس سے عرب ممالک کا مغرب پر انحصار کم ہوگا، جو اکثر اپنے مفادات کو ترجیح دیتا ہے۔
  2. معاشی فوائد: مشترکہ فوجی تربیت، ہتھیاروں کی خریداری، اور انفراسٹرکچر (جیسے بندرگاہیں اور فوجی اڈے) سے تجارت اور سرمایہ کاری بڑھے گی۔ چین کا بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو (BRI) اس میں مالی اور تکنیکی مدد فراہم کر سکتا ہے۔
  3. سیاسی طاقت: Abraham Accords کے مقابلے میں، یہ فورس عرب ممالک کو ایک مضبوط سیاسی پلیٹ فارم دے گی، جو مغربی اثر و رسوخ کو چیلنج کر سکتی ہے۔
  4. دہشت گردی پر قابو: داعش، القاعدہ، اور دیگر دہشت گرد گروہوں کے خلاف مشترکہ آپریشنز سے خطے میں امن بحال ہو سکتا ہے۔

چیلنجز: رکاوٹیں جو کامیابی کو روکتی ہیں

عرب نیٹو فوج کا تصور جتنا پرکشش ہے، اس کے سامنے کئی سنگین چیلنجز ہیں:

  1. داخلی اختلافات: عرب ممالک کے درمیان اعتماد کی کمی ایک بڑی رکاوٹ ہے۔ مثلاً:
    • سعودی عرب اور قطر کے درمیان 2017-2021 کا تناؤ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
    • الجزائر اور مراکش کے درمیان مغربی صحارا پر تنازع اتحاد کو کمزور کرتا ہے۔
    • مصر اور ترکی کے فلسطین اور لیبیا پر مختلف مؤقف ہیں۔
  2. اسرائیل کا عنصر: یہ تجویز اسرائیل مخالف دکھائی دیتی ہے، جو سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے ممالک کے لیے پریشانی کا باعث ہے، جو Abraham Accords کے تحت اسرائیل کے ساتھ تعلقات بہتر کر رہے ہیں۔ اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لپڈ نے اسے "امن معاہدوں پر حملہ” قرار دیا ہے۔
  3. امریکی اور مغربی مخالفت: نیٹو کی طرح امریکی ضمانت کے بغیر یہ فورس کمزور رہے گی۔ امریکی کانگریس "آرٹیکل 5” جیسی ضمانت دینے سے گریز کرتی ہے، کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں نئے تنازعات سے بچنا چاہتی ہے۔
  4. عملی مسائل: فنڈنگ، کمانڈ سٹرکچر، اور لاجسٹکس کے مسائل ماضی میں ناکامی کا سبب بنے ہیں۔ مثال کے طور پر، عرب لیگ کے پاس وسائل ہیں، لیکن ممالک اپنی فوجوں کو ایک غیر ملکی کمانڈ کے ماتحت دینے سے ہچکچاتے ہیں۔
  5. ایران کا ردعمل: اگرچہ مصر نے کہا کہ یہ فورس ایران کو نشانہ نہیں بنائے گی، لیکن ایران اسے اپنے خلاف سمجھ سکتا ہے، جس سے علاقائی تناؤ بڑھے گا۔

مستقبل کے امکانات

عرب نیٹو فوج کا مستقبل چند اہم عوامل پر منحصر ہے:

  • دوحہ سمٹ کا نتیجہ: اگر ستمبر 2025 کی سمٹ میں عرب ممالک کسی بنیادی ڈھانچے پر متفق ہو جاتے ہیں، تو یہ ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ تاہم، ماضی کی طرح کاغذی معاہدوں کا خطرہ موجود ہے۔
  • غیر عرب ممالک کی حمایت: پاکستان کی حمایت اہم ہے، لیکن چین، روس، یا دیگر طاقتوں کی مالی اور تکنیکی مدد اسے عملی جامہ پہنانے کے لیے ضروری ہوگی۔
  • علاقائی توازن: اگر سعودی عرب اور ایران اپنی مصالحت کو مضبوط کرتے ہیں، تو یہ فورس غیر جانبدار رہ سکتی ہے، جو اس کی کامیابی کے امکانات بڑھائے گی۔
  • امریکی پالیسی: اگر امریکہ اسے مکمل طور پر مسترد کر دیتا ہے، تو فنڈنگ اور ہتھیاروں کی کمی اسے کمزور کر دے گی۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ یہ فورس "ضروری تو ہے، لیکن فی الحال مشکل” ہے۔ قطر پر حالیہ حملوں نے اسے نئی رفتار دی ہے، اور اگر عرب ممالک اپنے اختلافات کو پس پشت رکھ سکیں، تو یہ Abraham Accords کا ایک مضبوط متبادل بن سکتی ہے۔

نتیجہ

عرب نیٹو فوج کا تصور مشرق وسطیٰ کے پیچیدہ سیاسی و عسکری منظر نامے میں ایک انقلاب لا سکتا ہے، لیکن اس کے سامنے داخلی اور خارجی چیلنجز کے پہاڑ ہیں۔ مصر کی حالیہ تجویز نے امید کی کرن دکھائی ہے، لیکن اس کی کامیابی کے لیے اعتماد سازی، مشترکہ عزائم، اور بین الاقوامی حمایت ضروری ہے۔ اگر یہ فورس بن جاتی ہے، تو یہ خطے کے توازن کو بدل سکتی ہے، لیکن اگر ناکام ہوئی، تو یہ ماضی کی طرح ایک اور ناکام خواب بن کر رہ جائے گی۔ سوال یہ ہے کہ کیا عرب ممالک اپنے تاریخی اختلافات کو پس پشت رکھ کر ایک متحدہ مستقبل کی طرف بڑھ سکتے ہیں؟

انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟

مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے