9 ستمبر 2025 کو اسرائیل نے دوحہ، قطر میں ایک فضائی حملہ کیا جس کا ہدف حماس کی اعلیٰ قیادت تھی۔ یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے خلیجی ملک میں حماس پر براہِ راست حملہ کیا ہے۔ اسرائیلی فوج (IDF) اور شین بیت نے اس کارروائی کو "انتہائی درست حملہ” قرار دیا، جس میں حماس کے سینئر رہنماؤں کو نشانہ بنایا گیا، جن میں نمایاں نام خلیل الحیہ کا ہے جو جلاوطن غزہ سربراہ اور اہم مذاکرات کار سمجھے جاتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق حملہ اس وقت ہوا جب حماس قیادت ایک امریکی تجویز کردہ جنگ بندی پر غور کر رہی تھی۔ بعض ذرائع نے دعویٰ کیا کہ یہ پیشکش دراصل ایک جال تھا تاکہ رہنماؤں کو اکٹھا کر کے نشانہ بنایا جا سکے۔ دوحہ کے کٹارا علاقے میں متعدد دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں، دھوئیں کے بادل اٹھے اور ایک رہائشی عمارت کو نقصان پہنچا جس میں حماس کا سیاسی دفتر قائم تھا۔
قطر، جو اسرائیل اور حماس کے درمیان مذاکرات میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، نے اس حملے کو "بزدلانہ کارروائی” اور "بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی سرزمین پر ایسے اقدامات برداشت نہیں کرے گا۔
امریکی سفارت خانے نے دوحہ میں اپنے دفاتر کے لیے شیلٹر اِن پلیس آرڈر جاری کیا اور امریکی شہریوں کو بھی یہی ہدایت دی۔ فی الحال ہلاکتوں یا زخمیوں کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے شہری نقصان سے بچنے کے لیے درست ہتھیار اور انٹیلی جنس استعمال کی۔ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے دفتر نے کہا کہ یہ کارروائی اسرائیل کی اپنی منصوبہ بندی تھی اور اس کا مقصد اکتوبر 2023 کے حملے کے ذمہ دار حماس رہنماؤں کو نشانہ بنانا ہے۔
مبصرین کے مطابق اس حملے سے جنگ بندی مذاکرات کو شدید دھچکا پہنچا ہے اور خطے میں کشیدگی مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں