میت کو ایصالِ ثواب کے شرعی طریقے: صدقۂ جاریہ، دعا اور اجتماعی تلاوت کی حقیقت
سوال: آسٹریلیا سے محترمہ ڈاکٹر امشہ ناہید صاحبہ نے درجِ ذیل استفسار کیا ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ حضرت شیخ صاحب،
میری دوست نے یہ مسئلہ پوچھا ہے۔ اس کی والدہ کا حال ہی میں انتقال ہوگیا ہے۔ ان کی وفات کے بعد اس نے تعزیت کے لیے ایک گروپ بنایا، تاکہ احباب اور رشتہ دار اظہارِ ہمدردی کر سکیں۔ بعد میں اسی گروپ میں قرآنِ مجید کے اجزاء تقسیم کیے گئے تاکہ سب مل کر ان کے لیے تلاوت کر کے ایصالِ ثواب کریں۔
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں کہ: شریعت کی روشنی میں کون سے اعمال ایسے ہیں جن کا ثواب وفات کے بعد بھی میت کو پہنچتا رہتا ہے؟ صدقۂ جاریہ کی صحیح اور مستند صورتیں کیا ہیں؟ کیا اس طرح گروپ میں قرآن کے اجزاء تقسیم کر کے پڑھنا درست طریقہ ہے؟ اس کی والدہ کے لیے سب سے افضل اور مؤثر عمل کیا ہو سکتا ہے جس کا اہتمام کرنا چاہیے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں رہنمائی فرما دیں تاکہ ہم صحیح طریقے پر عمل کر سکیں۔
جزاکم اللہ خیراً
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ نے ایک نہایت اہم، نازک اور کثیر الابتلاء مسئلہ دریافت فرمایا ہے جس میں جذباتی میلان کے بجائے نصوصِ شرعیہ اور مناہجِ فقہاء کی روشنی میں متوازن رہنمائی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے، ان پر اپنی رحمتوں کا نزول فرمائے، درجات بلند کرے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل عطا کرے۔
اس باب میں اصل اور محور وہ حدیثِ صحیح ہے جو حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبى اكرم ﷺ نے فرمایا: "اذا مات الانسان انقطع عمله الا من ثلاث: صدقة جارية، او علم ينتفع به، او ولد صالح يدعو له”۔ اس ارشادِ نبوی کا حاصل یہ ہے کہ موت کے بعد بندے کے اپنے اختیار سے نئے اعمال کا اضافہ رک جاتا ہے، مگر بعض اعمال ایسے ہیں جن کی تاثیر اور برکت اس کے انتقال کے بعد بھی باقی رہتی ہے اور وہ برابر اس کے نامۂ اعمال میں اجر کا سبب بنتے رہتے ہیں۔
اہلِ علم نے لکھا ہے کہ ان چیزوں کا جاری رہنا دراصل اسی کے کسب اور سعی کا تسلسل ہے؛ گویا اس نے اپنی زندگی میں ایسے اسباب مہیا کر دیے جن کے ثمرات بعد الوفات بھی ظاہر ہوتے رہتے ہیں۔ اسی لیے انہیں ’”باقیات صالحات” کی ایک عملی تعبیر کہا جا سکتا ہے۔
صدقۂ جاریہ سے مراد وہ نیکی ہے جس کا فائدہ وقتی اور عارضی نہ ہو بلکہ دیرپا ہو۔ مسجد کی تعمیر میں حصہ لینا، پانی کا مستقل انتظام کر دینا، دینی تعلیم کے مراکز کی اعانت، قرآنِ کریم اور علومِ دین کی نشر و اشاعت، یا کسی چیز کو اس طور پر وقف کر دینا کہ اس سے نسل در نسل لوگ فائدہ اٹھاتے رہیں، یہ سب صورتیں اس مفہوم میں داخل ہیں۔ جب تک ان کا نفع جاری ہے، امید ہے کہ اجر بھی جاری رہے گا۔
اسی طرح علمِ نافع وہ امانت ہے جس کی تاثیر زمان و مکان کی حدود سے آگے بڑھتی ہے۔ کسی کو قرآن سکھانا، سنت کی تعلیم دینا، یا ہدایت کا کوئی چراغ روشن کر دینا، یہ ایسے اعمال ہیں کہ ان کے اثرات ختم نہیں ہوتے بلکہ پھیلتے رہتے ہیں، اور یہ میت کے لیے مزید رحمت کا باعث بنتا ہے۔
تیسری چیز نیک اولاد کی دعا ہے، اور یہی وہ سرمایہ ہے جس پر کسی کا اختلاف نہیں۔ اولاد جب اپنے والدین کے لیے مغفرت، رفعتِ درجات اور رحمت کی دعا کرتی ہے تو وہ براہِ راست ان کے حق میں نفع کا سبب بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محدثین و فقہاء نے اسے میت کے لیے سب سے زیادہ یقینی اور مؤثر تحفہ قرار دیا ہے۔
جہاں تک تلاوتِ قرآن کر کے اس کا ثواب میت کو پہنچانے کا تعلق ہے تو یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے جس میں اہلِ علم کے مابین قدیم اختلاف موجود ہے۔ امام نووی رحمہ اللہ نے نقل کیا ہے کہ امام شافعی اور ان کے متبعین کے نزدیک مشہور قول ہے کہ ثواب نہیں پہنچتا ہے، جبکہ احمد بن حنبل اور بہت سے ائمہ اس کے قائل ہیں کہ ثواب پہنچتا ہے۔ فقہاءِ احناف نے بھی وصولِ ثواب ہی کو اختیار کیا ہے۔ اس بنا پر اس عمل کی اصل گنجائش سے انکار نہیں کیا جا سکتا، البتہ اسے ایسا لازمی اور متعین طریقہ سمجھ لینا جس کے بغیر حق ادا نہ ہو، یہ محلِ نظر ہے۔
یہاں ایک باریک مگر نہایت اہم فرق کو ملحوظ رکھنا چاہیے: کسی کام کا جائز ہونا اور بات ہے، اور اس کا باقاعدہ اجتماعی رسم بن جانا دوسری بات۔ تعزیت کے مواقع پر لوگوں کو جمع کرنا، پھر منظم انداز میں اجزاء تقسیم کرنا اور اسے گویا ضروری سمجھ لینا، بعض اہلِ علم کے نزدیک اس میں کراہت کا پہلو اس لیے پیدا ہوتا ہے کہ یہ طرزِ التزام عہدِ سلف سے ثابت نہیں۔ اس کے برعکس اگر کوئی شخص انفرادی طور پر، خاموشی اور اخلاص کے ساتھ تلاوت کرے اور اللہ تعالیٰ سے عرض کرے کہ اس کا ثواب مرحومہ کو پہنچا دے، تو اس میں وسعت ہے۔
مزید یہ کہ میت کو نفع پہنچانے کے راستے صرف تلاوت تک محدود نہیں۔ صدقہ و خیرات، محتاجوں کی دستگیری، مرحومہ کے ذمہ اگر کسی حق کی ادائیگی باقی ہو تو اس کی فکر، صلۂ رحمی کا اہتمام، اور اپنے اعمالِ صالحہ کا ثواب پہنچانا، یہ سب روشن اور معتبر ذرائع ہیں۔
اگر افضل عمل کے بارے میں سوال کیا جائے تو جواب یہی ہے کہ دوام کے ساتھ اخلاص بھری دعا، یہ ہر وقت ممکن ہے، ہر جگہ ممکن ہے، اور نصِ حدیث سے ثابت شدہ ہے۔ اس کے بعد صدقۂ جاریہ ایسا عمل ہے جس کا فائدہ طویل عرصے تک پہنچتا رہتا ہے اور مرحومہ کے لیے رحمت کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، غیر ثابت التزامات سے محفوظ رکھے، اور مرحومہ کو اپنی مغفرت و رحمت کے سایہ میں جگہ عطا فرمائے، ان کی خطاؤں سے درگزر فرمائے اور انہیں اعلیٰ علیین میں مقام نصیب کرے۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی