آؤ مل کر قرآن پڑھتے ہیں
ایک نوجوان نے ان الفاظ میں سوال کیا تھا:
"میں قرآنِ مجید کا مطالعہ کرتا ہوں، اس کے لئے میرے پاس چند تفاسیر بھی ہیں، لیکن ان میں فکری و تفسیری تضادات کی وجہ سے میں کنفیوژن کا شکار ہوجاتا ہوں۔ اس لئے میں آپ سے قرآنِ مجید کا اصل پیغام کیا ہے ؟ جاننا چاہتا ہوں، تاکہ میں اسی تناظر میں قرآن کو سمجھنے اور اس کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کروں۔”
قمر الدین قاسمی / نئی دہلی
آج کے اس مضمون میں اسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ دراصل قرآنِ مجید کی دعوت کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ انسانیت کی ہدایت کا اصل سرچشمہ ہمیشہ ایک رہا ہے، اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت کا مرکز بھی ایک ہی رہا ہے۔ چنانچہ اس مضمون میں اُن آیاتِ بینات کو یکجا کرنے کی سعی کی گئی ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتی ہیں کہ دین کی اصل بنیاد توحید، اطاعتِ الٰہی اور خالص بندگی ہے، اور اسی پر تمام انبیاء متفق رہے ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
شریعتوں کی بعض جزئی تفصیلات زمان و مکان کے اعتبار سے مختلف رہیں، لیکن ایمان کی روح، اس کا مقصد اور اس کی بنیاد ہمیشہ ایک ہی رہی۔
اس مضمون کا اصل مقصد سائل کے سوال کے تناظر میں قرآن کے حقیقی پیغام کو واضح کرنا ہے، نہ کہ کسی مسلکی یا نظریاتی بحث میں پڑ کر غیر ضروری الجھاؤ پیدا کرنا؛ بلکہ قرآن کے اس جامع اور وحدت آفریں پیغام کو سامنے لانا ہے جو انسانوں کو تفرقہ سے بچا کر اصلِ دین کی طرف بلاتا ہے۔
آج کے دور میں، جبکہ فکری انتشار اور باہمی اختلافات میں اضافہ ہو رہا ہے، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ہم براہِ راست قرآن کی طرف رجوع کریں، اس کے پیغام کو سمجھیں اور اس پر عمل کی اجتماعی فضا قائم کریں۔
"آؤ مل کر قرآن پڑھتے ہیں” دراصل اپنے رب کی کتاب کی طرف واپسی کی دعوت ہے، تمام انبیاء پر بلا تفریق ایمان کی تجدید کی دعوت ہے، اور اس مشترک کلمۂ توحید پر جمع ہونے کی دعوت ہے جو ہمیشہ سے دین کی بنیاد رہا ہے۔ اگر ہم اس اصل کو مضبوطی سے تھام لیں تو اگر اللہ نے چاہا فکری اعتدال، دینی بصیرت اور اجتماعی وحدت کی راہیں ہموار ہوں گی۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں قرآن کو صحیح طور پر سمجھنے، اس پر اخلاص کے ساتھ عمل کرنے اور اسی ایک دینِ حق پر ثابت قدم رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
_____________________
قرآنِ مجید میں متعدد مقامات پر یہ بات واضح کی گئی ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا دین ایک ہی ہے، اور لوگوں کو اسی دین پر چلنے کا حکم دیا گیا ہے۔ چند نمایاں آیات مع ترجمہ پیش ہیں:
(1) شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا وَصّـٰى بِهٖ نُـوْحًا وَّالَّـذِىٓ اَوْحَيْنَآ اِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهٓ ٖ اِبْـرَاهِيْمَ وَمُوْسٰى وَعِيسٰٓى ۖ اَنْ اَقِيْمُوا الدِّيْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِيْهِ ۚ كَبُـرَ عَلَى الْمُشْرِكِيْنَ مَا تَدْعُوْهُـمْ اِلَيْهِ ۚ اللّـٰهُ يَجْتَبِىٓ اِلَيْهِ مَنْ يَّشَآءُ وَيَـهْدِىٓ اِلَيْهِ مَنْ يُّنِيْبُ ۔
( الشوریٰ : 13)
تمہارے لئے وہی دین مقرر کیا جس کا نوح کو حکم دیا تھا اور اسی راستہ کی ہم نے آپ کی طرف وحی کی ہے اور اسی کا ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا، کہ اسی دین پر قائم رہو اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا، جس چیز کی طرف آپ مشرکوں کو بلاتے ہیں وہ ان پر گراں گزرتی ہے، اللہ جسے چاہے اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے راہ دکھاتا ہے۔
یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ نوح، ابراہیم، موسیٰ، عیسیٰ اور خاتم النبیین علیہم السلام سب کا دین ایک ہی تھا، اور اسی کو قائم رکھنے کا حکم ہے۔ اس سلسلہ میں یہ حدیث بھی قابل غور ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَنَا أَوْلَى النَّاسِ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَالْأَنْبِيَاءُ إِخْوَةٌ لِعَلَّاتٍ أُمَّهَاتُهُمْ شَتَّى وَدِينُهُمْ وَاحِدٌ ۔
(صحيح البخاري : كتاب أحاديث الأنبياء : باب : واذكر فى الكتاب مريم إذ انتبذت من أهلها : رقم الحدیث 3443 )
سیدنا ابوہریرہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں عیسیٰ بن مریم سے اور لوگوں کی بہ نسبت زیادہ قریب ہوں، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور انبیاء علاتی بھائیوں (کی طرح) ہیں۔ ان کے مسائل میں اگرچہ اختلاف ہے لیکن دین سب کا ایک ہی ہے۔
(2) قُوْلُوٓا اٰمَنَّا بِاللّـٰهِ وَمَآ اُنْزِلَ اِلَيْنَا وَمَآ اُنْزِلَ اِلٰٓى اِبْـرَاهِيْمَ وَاِسْـمَاعِيْلَ وَاِسْحَاقَ وَيَعْقُوْبَ وَالْاَسْبَاطِ وَمَآ اُوْتِـىَ مُوْسٰى وَعِيْسٰى وَمَآ اُوْتِـىَ النَّبِيُّوْنَ مِنْ رَّبِّهِـمْۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْهُمْۖ وَنَحْنُ لَـهٝ مُسْلِمُوْنَ
( البقرہ : 136)
(اے لوگو ! ) کہو ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہماری طرف نازل کیا گیا اور جو ابراہیم اور اسماعیل اور اسحاق اور یعقوب اور اس کی اولاد پر نازل کیا گیا اور جو موسیٰ اور عیسیٰ کو دیا گیا اور جو دوسرے نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا، ہم کسی ایک میں ان میں سے فرق نہیں کرتے، اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
اس آیت میں تمام انبیاء کرام علیہم السلام پر ایمان لانے اور ان کے دین کو یکساں طور پر تسلیم کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔
(3) قُلْ آمَنَّا بِاللَّهِ وَمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا وَمَا أُنزِلَ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ وَإِسْمَاعِيلَ وَإِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَالْأَسْبَاطِ وَمَا أُوتِيَ مُوسَىٰ وَعِيسَىٰ وَالنَّبِيُّونَ مِن رَّبِّهِمْ ۙ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ أَحَدٍ مِّنْهُمْ وَنَحْنُ لَهُ مُسْلِمُونَ۔
( آل عمران :84)
( اے نبی مکرم ! ) کہہ دیجیے: ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس پر جو ہم پر نازل کیا گیا، اور جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور ان کی اولاد پر نازل کیا گیا، اور جو موسیٰ، عیسیٰ اور دیگر نبیوں کو ان کے رب کی طرف سے دیا گیا؛ ہم ان میں کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور ہم اسی کے فرمانبردار ہیں۔
اس آیت میں مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اعلان کریں: ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں، اُس وحی (قرآن) پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوئی اور اُس پر بھی جو ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، ان کی اولاد، موسیٰ، عیسیٰ اور تمام انبیاء علیہم السلام پر نازل ہوئی۔ ہم ان میں کسی کے درمیان تفریق نہیں کرتے، اور ہم سب کے سب اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
(4) إِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُون ۔
بیشک یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس میری عبادت کرو۔
( الانبیاء :92)
(5) وَإِنَّ هَٰذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَاحِدَةً وَأَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُونِ۔
( المؤمنون :52)
اور یقیناً یہ تمہاری امت ایک ہی امت ہے، اور میں تمہارا رب ہوں، پس مجھ سے ڈرو۔
(6) وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِىْ كُلِّ اُمَّةٍ رَّسُوْلًا اَنِ اعْبُدُوا اللّـٰهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ ۖ فَمِنْـهُـمْ مَّنْ هَدَى اللّـٰهُ وَمِنْـهُـمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الضَّلَالَـةُ ۚ فَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِيْنَ۔
( النحل : 36)
اور یقیناً ہم نے ہر امت میں یہ پیغام دے کر رسول بھیجا کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے بچو، پھر ان میں سے بعض کو اللہ نے ہدایت دی اور بعض پر گمراہی ثابت ہوئی، پھر ملک میں گھوم پھر کر دیکھو کہ جھٹلانے والوں کا انجام کیا ہوا۔
ان تمام آیاتِ بینات اور روشن دلیلوں کا حاصل یہ ہے کہ اللہ تعالی کی طرف سے آنے والی یہ ہدایت ایک ہی سرچشمہ سے نکلی ہے اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام اسی ایک دین کے داعی رہے ہیں۔ ان کی دعوت کا مرکز توحید، اطاعتِ الٰہی، عبادتِ خالص اور تفرقہ سے اجتناب تھا۔ شریعتوں کی بعض جزئی اور عملی تفصیلات زمانہ و حالات کے مطابق مختلف رہیں، لیکن ایمان کی بنیاد، رب کی وحدانیت اور اس کے سامنے سرتسلیم خم کرنا ہمیشہ ایک ہی رہا۔
(7) قُلْ يَا أَهْلَ الْكِتَابِ تَعَالَوْا إِلَىٰ كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ أَلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَقُولُوا اشْهَدُوا بِأَنَّا مُسْلِمُونَ ۔
(آلِ عمران: 64)
( اے نبی مکرم ! ) کہہ دیجئے: اے اہلِ کتاب! آؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے، یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو رب نہ بنائے۔ پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دو: گواہ رہو کہ ہم تو مسلمان ہیں۔
یہ آیت بڑی اہمیت کی حامل ہے اور یہی وہ آیت ہے ، جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم اپنے خطوط میں اصل دین اور بنیادی پیغام کی طرف دعوت دیتے ہوئے لکھواتے تھے ۔ چنانچہ اس آیت میں اہلِ کتاب کو دعوت دی گئی ہے کہ اختلافی اور تاریخی مباحث میں الجھنے کے بجائے اس بنیادی اور مشترک اصول پر آجائیں جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیم کا خلاصہ ہے، یعنی خالص توحید اور “ کلمۃ سواء” سے مراد وہ سیدھی اور منصفانہ بات ہے جو دونوں فریقوں کے نزدیک اصلِ دین کی بنیاد ہے۔
اس آیت میں تین بنیادی نکات بیان ہوئے:
(1) صرف اللہ کی عبادت کی جائے۔
(2) اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔
(3) کوئی انسان کسی دوسرے انسان کو اللہ کے مقابل رب نہ بنایا جائے، یعنی کسی کو حلال و حرام کا حکم دینے کا اختیار نہ دے دیا جائے، نہ دینی معاملات میں کسی کی اندھی اطاعت کی جائے۔
دراصل یہ آیت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اصل دین ہمیشہ توحید پر قائم رہا ہے، اور تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت اسی مرکز پر جمع ہوتی ہے۔ اگر کوئی اس بنیادی اصول کو قبول نہ کرے ، تو مسلمان اپنی وابستگی کا اعلان واضح طور پر کرتے ہیں کہ ہم صرف اللہ کے فرمانبردار ہیں۔
یوں یہ آیت بین المذاہب مکالمہ کی بھی ایک عظیم بنیاد فراہم کرتی ہے کہ دعوت کا آغاز مشترک اصولِ توحید سے کیا جائے، اور اصل پیغام کو سادگی اور وضاحت کے ساتھ پیش کیا ۔
اٰمَنَ الرَّسُوْلُ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْهِ مِنْ رَّبِّهٖ وَالْمُؤْمِنُـوْنَ ۚ كُلٌّ اٰمَنَ بِاللّـٰهِ وَمَلَآئِكَـتِهٖ وَكُـتُبِهٖ وَرُسُلِهٖۚ لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ ۚ وَقَالُوْا سَـمِعْنَا وَاَطَعْنَا ۖ غُفْرَانَكَ رَبَّنَا وَاِلَيْكَ الْمَصِيْـرُ ۔
( البقرہ : 285)
( اللہ کا آخری) رسول نے اس ( وحی) پر ایمان لایا جو کچھ اس پر اس کے رب کی طرف سے نازل ہوا ہے اور مسلمانوں نے بھی ایمان لایا ، سب نے اللہ کو اور اس کے فرشتوں کو اور اس کی کتابوں کو اور اس کے رسولوں پر ایمان لایا، (کہتے ہیں کہ) ہم اللہ کے رسولوں کے درمیان تفریق نہیں کرتے، اور کہتے ہیں ہم نے سنا اور مان لیا، اے ہمارے رب تیری بخشش چاہتے ہیں اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
اہل ایمان کے عقائد اور ایمان کے حوالے سے یہ آیت بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ اور اس سے جو اہم باتیں واضح ہوتی ہیں ، وہ یہ ہیں ۔
(1) رسول کے ایمان کا ذکر پہلے
آیت کا آغاز اس اعلان سے ہوتا ہے کہ پیغمبر اعظم و آخر محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم خود اس وحی پر ایمان رکھتے ہیں۔ جو آپ کی طرف نازل کی گئی ہے ۔ اس میں امت کے لیے عملی نمونہ ہے کہ جس چیز کی دعوت دی جا رہی ہے، سب سے پہلے اس پر خود پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا کامل ایمان ہے۔ اس سے رسالت کی صداقت اور دیانت ظاہر ہوتی ہے۔
(2) ایمانِ مجمل کی جامع فہرست
اس آیت میں ایمان کے بنیادی ارکان کا خلاصہ بیان ہوا: اللہ، فرشتے، کتابیں اور رسول۔ یہ دراصل عقیدۂ اسلام کی بنیاد ہے۔ گویا ایمان صرف ایک دعویٰ نہیں بلکہ ایک مربوط عقیدہ ہے جس کے مختلف اجزاء ہیں۔
(3) عدمِ تفریق بین الرسل
“لَا نُفَرِّقُ بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِهٖ” میں اس اصول کو واضح کیا گیا کہ مسلمان تمام انبیاء کرام علیہم السلام برحق مانتے ہیں۔ کسی کو مان کر کسی کا انکار کرنا درست نہیں۔ یہ عقیدہ اسلام کو دیگر مذاہب سے ممتاز کرتا ہے جہاں بعض انبیاء کو تسلیم کیا گیا اور بعض کو رد کیا گیا۔
(4) سمع و طاعت کا عملی اظہار
“سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا” محض زبانی اقرار نہیں بلکہ اطاعتِ عملی کا عہد ہے۔ گویا ایمان کا تقاضا ہے کہ حکم سن کر اسے قبول کیا جائے، نہ کہ بحث و تردد میں پڑا جائے۔
(5) عاجزی اور استغفار کا پہلو
اطاعت کے اعلان کے فوراً بعد “غُفْرَانَكَ رَبَّنَا” کہنا اس بات کی دلیل ہے کہ مومن اپنے عمل پر ناز نہیں کرتا بلکہ بخشش کا طالب رہتا ہے۔ یہ بندگی کا اعلیٰ ادب ہے۔
(6) آخرت کی جواب دہی کا احساس
“وَاِلَيْكَ الْمَصِيْرُ” یاد دلاتا ہے کہ انجام کار سب کو اللہ کے حضور حاضر ہونا ہے۔ یہی احساس انسان کو ذمہ دار اور محتاط بناتا ہے۔
(7) اجتماعی ایمان کا منظر
آیت میں “الْمُؤْمِنُونَ” اور “قَالُوا” کے صیغے جمع ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اجتماعی عہد ہے۔ ایمان انفرادی بھی ہے اور اجتماعی بھی؛ امت ایک مشترک عقیدہ اور مشترک اطاعت پر قائم ہوتی ہے۔
آیت کا خلاصہ یہ ہےکہ صحیح عقیدہ، کامل اطاعت، عاجزی اور آخرت کی تیاری۔ کیونکہ یہ آیت ایمان، اطاعت، وحدتِ رسالت اور بندگی کی جامع تصویر پیش کرتی ہے اور مومن کی فکری و عملی زندگی کا مکمل نقشہ متعین کرتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج امتِ مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسی اصل دین کو سمجھے، تمام انبیاء پر بلا تفریق ایمان رکھے، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو سلسلہ نبوت کی آخری کڑی تسلیم کرے ، قرآنِ مجید کو مضبوطی سے تھامے اور اختلاف و انتشار سے بچے۔ جب ہم سب مل کر قرآن پڑھیں گے، اس کو سمجھیں گے اور اس پر عمل کریں گے تو دلوں میں الفت پیدا ہوگی، صفوں میں اتحاد آئے گا اور وہی اصل دین دوبارہ ہماری زندگیوں میں جلوہ گر ہوگا جس کی تعلیم تمام انبیاء علیہم السلام دے کر گئے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے اور یہی ہماری نجات کا ذریعہ۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی