ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

غیر مستند فضائل کی کتابوں سے اجتناب اور مساجد میں مستند درسی کتب کا انتخاب

سوال:
السلام عليكم ڈاكٹر صاحب! ہمارى مسجد میں عصر کی نماز کے بعد فضائل کى ایک مخصوص کتاب پڑھى جاتى ہے۔ آپ نے اپنے مضامین میں ایسى کتابوں سے اجتناب کرنے کی تلقین فرمائی ہے، جن میں نبی اکرم ﷺ سے منسوب غیر مستند باتیں شامل ہوں۔ ہم آپ سے گزارش کرتے ہیں کہ ایسی کتاب کے انتخاب میں رہنمائی فرمائیں جو ان کمزوریوں سے پاک ہو، تاکہ ہم اسے باطمینان پڑھ سکیں اور اس کا درس دینے میں اعتماد محسوس کریں۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

جواب:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ،
ہمارے معاشرے میں فضائل اور ملفوظات کی بعض مخصوص کتابوں کا درس ایک معمول بن چکا ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اردو زبان میں غیر محققانہ کتابوں کا رواج عام ہے، جو نہ صرف ضعیف اور کمزور احادیث پر مشتمل ہوتی ہیں بلکہ اکثر ان ميں مناکیر، شاذ، موضوعات، خواب و منام اور غیر مستند تاریخی واقعات بھی شامل ہوتے ہیں۔ ان کتابوں میں موجود غیر مستند احادیث اور اقوال نبی ﷺ عوام میں پھیل جاتے ہیں اور یادداشتوں میں مضبوط ہو جاتے ہیں، جس کے نتیجے میں لوگ انہیں منبر اور محراب میں بھی دہراتے رہتے ہیں۔ اس سے دینی تعلیم کی معیارى سطح اور صحیح علم کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔
یہ مسئلہ اس وقت اور بھی سنگین ہو جاتا ہے جب بعض علماء اور مربیان بھی ان کتابوں کو پڑھانے میں سہولت برت لیتے ہیں، حالانکہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:: "من كذب علي متعمداً فليتبوأ مقعده من النار”، اور قرآن مجید میں بھی اس کی تصدیق موجود ہے: "ومن أظلم ممن افترى على الله كذبا”، یہ نصوص واضح کرتی ہیں کہ جھوٹ اور غیر مستند روایتوں کو پھیلانا نہ صرف اخلاقی بلکہ دینی لحاظ سے بھی سنگین جرم ہے۔ علماء اور مربیان کی یہ ذمّہ داری ہے کہ وہ عوام کو غیر مستند کتابوں سے محفوظ رکھیں اور صحیح اور مستند احادیث و روايات کی طرف رہنمائی کریں۔
اس صورتحال کے پیش نظر سب سے مؤثر اور محفوظ طریقہ یہ ہے کہ مساجد اور مدارس میں قرآن مجید کا درس دیا جائے، کیونکہ قرآن اللہ کا کلام ہے اور اس کی تعلیم روح و فکر دونوں کی اصلاح کا بنیادی ذریعہ ہے۔ قرآن کے مطالعے سے انسان کے عقائد مضبوط ہوتے ہیں، اخلاقیات سنورتی ہیں، اور عملی زندگی کے لیے رہنمائی حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کی روشنی میں دیگر مستند احادیث اور روايات کی تعلیم زیادہ مؤثر اور قابل عمل بنتی ہے، اور تعلیم کا ہر پہلو مستند اور صحیح رہتا ہے۔
قرآن کریم کے بعد سب سے موزوں کتابیں علامہ عبد الحی حسنی کی تہذیب الاخلاق اور امام نووی کی ریاض الصالحین ہیں۔ یہ کتابیں نہ صرف صحیح احادیث اور مستند روايات پر مبنی ہیں بلکہ شاذ، منکر یا موضوع روایت سے پاک ہیں۔ ان کی مدد سے طالب علم و عام قارئین دونوں کو دینی علوم کی صحیح سمجھ حاصل ہوتی ہے، اور وہ نبی اکرم ﷺ کے اقوال و افعال کی اصل روشنی میں رہنمائی پا سکتے ہیں۔ یہ کتابیں عملی زندگی، اخلاقیات اور روزمرہ کے معاملات میں بھی واضح رہنمائی فراہم کرتی ہیں، اور قارئین کو غیر مستند اور مبہم روایتوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔
لہٰذا فضائل کی تعلیم کے لیے قرآن کے درس کو اولین حیثیت دی جائے، تاکہ دینی بنیاد مستحکم ہو اور لوگ قرآن کی روشنی میں احادیث و اقوالِ نبی ﷺ کو درست طور پر سمجھ سکیں۔ قرآن کے بعد مستند اور محقق کتابوں کا مطالعہ عوام و خواص دونوں کے لیے نہایت ضروری ہے، تاکہ دین کی صحیح پہچان قائم ہو، علم کی روشنی میں فہم و عمل کو فروغ حاصل ہو، اور دینی تعلیم کا ہر مرحلہ علمی و عملی اعتبار سے محفوظ رہے۔
یہ بات واضح ہے کہ مستند تعلیم کے بغیر دین کی صحیح تفہیم ممکن نہیں، اور غیر مستند کتابوں کے مطالعے سے نہ صرف علمی معیار متاثر ہوتا ہے بلکہ اخلاقی تربیت اور عملی زندگی پر بھی منفی اثر پڑتا ہے۔ اسی لیے قرآن مجید کے درس کے بعد صحیح احادیث کی تعلیم کو ترجیح دینا، اور عوام و خواص میں ان مستند کتابوں کے مطالعے کو فروغ دینا، دینی ذمہ داری اور علمی فریضہ ہے۔ اس طرح نہ صرف علم دین کی حفاظت ممکن ہو جاتی ہے بلکہ معاشرے میں اخلاقی اور عملی تربیت کا بھی یقینی سلسلہ قائم رہتا ہے، اور لوگ اپنے عقائد اور اعمال میں نبی ﷺ کی تعلیمات کے مطابق رہنمائی حاصل کر سکتے ہیں۔

Dr Akram Nadwi

قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے