زکوٰۃ کی فرضیت، شرحِ 2.5 فیصد اور عصرِ حاضر میں انفاق کا قرآنی تصور
سوال: آسٹریلیا سے محترمہ ڈاکٹر امشہ ناہید صاحبہ نے درجِ ذیل استفسار کیا ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ شیخ محترم، دعا ہے کہ آپ خیریت اور بہترین ایمان کی حالت میں ہوں۔
آج کام پر جاتے ہوئے میں آپ کی تفسیر کی ریکارڈ شدہ کلاس سن رہی تھی جس میں آپ نے صدقہ اور زکوٰۃ کے بارے میں گفتگو فرمائی، اور یہ وضاحت کی کہ قرآنِ کریم میں بعض مقامات پر صدقہ اور زکوٰۃ کو خیرات کے مفہوم میں ایک دوسرے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ آپ نے یہ بھی بیان فرمایا کہ قرآن نے خرچ کرنے کا تصور پیش کیا اور اس کے مصارف کی وضاحت کی۔ میری سمجھ کے مطابق صدقہ ایک وسیع عنوان ہے اور 2.5٪ زکوٰۃ اسی کے تحت آتی ہے۔
قرآنِ کریم میں ایک آیت یہ بھی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کرو۔
میرا اصل سوال یہ ہے کہ زکوٰۃ کا مخصوص 2.5٪ فرض کب کیا گیا؟ کیا یہ شرح مدنی دور میں مقرر کی گئی تھی؟ اور کن حالات میں یہ باقاعدہ طور پر لازم قرار دی گئی؟
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
مزید یہ کہ موجودہ معاشی حالات کے پیشِ نظر کیا اب بھی 2.5٪ ہی فرض (کم از کم) مقدار ہے، اور اس سے زائد جو دیا جائے وہ نفلی صدقہ شمار ہوگا؟ یا اس بارے میں معاصر علماء کے درمیان حالات کے مطابق شرح میں تبدیلی کی کوئی بحث پائی جاتی ہے؟ نیز کن حالات میں ہمیں “ضرورت سے زائد خرچ کرنے” والی آیت کو پیشِ نظر رکھنا چاہیے؟
جزاکم اللہ خیراً آپ کی رہنمائی اور تعلیم کے لیے۔ اللہ تعالیٰ آپ کے علم میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں اس سے صحیح طور پر فائدہ اٹھانے کی توفیق دے۔
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کا استفسار نہایت سنجیدہ علمی ذوق اور فہمِ دین کی بیداری کا آئینہ دار ہے۔ صدقہ اور زکوٰۃ کے باہمی تعلق، ان کی شرعی حیثیت، اور عصرِ حاضر کے معاشی حالات میں ان کے اطلاق کے بارے میں سوال اٹھانا درحقیقت کتاب و سنت کے نظامِ مالیات کو گہرائی سے سمجھنے کی ایک مبارک اور قابلِ قدر کاوش ہے۔
مکی دور میں انفاق فی سبیل اللہ، تطہیرِ مال اور اعانتِ محتاجاں کی عمومی تعلیمات نازل ہو چکی تھیں، مگر اس مرحلے پر زکوٰۃ نہ اپنی مخصوص شرح کے ساتھ فرض ہوئی تھی اور نہ اس کے نصاب اور مصارف کی تفصیلی تعیین کی گئی تھی۔ ہجرت کے بعد جب مدینہ منورہ میں اسلامی معاشرہ ایک منظم اجتماعی اور ریاستی ڈھانچے میں ڈھل گیا تو سن 2 ہجری کے قریب زکوٰۃ کو ایک مستقل مالی عبادت کی حیثیت سے فرض قرار دیا گیا۔ قرآنِ کریم میں سورۃ التوبہ کی آیت (9:60) کے ذریعے اس کے مصارف کو واضح طور پر بیان فرمایا گیا: "إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ…” (التوبہ: 60)
اس تصریح کے بعد زکوٰۃ محض ایک اخلاقی ترغیب نہ رہی، بلکہ اسلامی ریاست کے اجتماعی نظم کا ایک باقاعدہ رکن بن گئی۔
جہاں تک چالیسویں حصے، یعنی ڈھائی فیصد (ربع العشر) کا تعلق ہے، اس کی تعیین احادیثِ نبویہ سے قطعی طور پر ثابت ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے سونے، چاندی اور اموالِ نقدیہ کے نصاب اور ان کی شرحِ ادائیگی کو صراحت کے ساتھ واضح فرمایا، اور صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کے تعامل سے یہ حکم امت میں مستقر اور متوارث ہو گیا۔ خلافتِ صدیقی میں مانعینِ زکوٰۃ کے خلاف اقدام اس حقیقت کا بین ثبوت ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت اور اس کی متعین شرح دونوں شریعت کے قطعی اور ناقابلِ تغیر احکام میں شمار ہوتی تھیں۔ اسی بنا پر فقہاءِ امت کا اجماع ہے کہ ربع العشر کی یہ مقدار منصوص ہے؛ اسے حالات کے بدلنے سے نہ کم کیا جا سکتا ہے اور نہ زیادہ، کیونکہ یہ محض معاشی پالیسی نہیں بلکہ عبادت ہے، اور عبادات کی تحدید و تعیین نصوصِ شرعیہ کے تابع ہوتی ہے۔
البتہ قرآنِ حکیم نے انفاق کے باب میں محض فرض کی تحدید پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک بلند تر اخلاقی معیار بھی پیش فرمایا۔ سورۃ البقرہ میں ارشاد ہے: "وَأَنْفِقُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ” (البقرہ: 195) یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ اس حکم کے سیاق میں انفاق کو مالی جہاد کی حیثیت دی گئی، جس طرح جان کے ذریعے جہاد ہوتا ہے۔ اسی مفہوم کو سورۃ التوبہ میں یوں بیان فرمایا گیا: "وَجَاهَدُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ” (التوبہ: 20)، یعنی انہوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا۔
جب اہلِ ایمان نے پوچھا کہ کیا خرچ کریں، تو ارشاد ہوا: "يَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلْ مَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ خَيْرٍ فَلِلْوَالِدَيْنِ وَالْأَقْرَبِينَ وَالْيَتَامَى وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ” (البقرہ: 215)، یعنی وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے: جو بھی مال خرچ کرو وہ والدین، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہو، اور جو بھلائی بھی تم کرو گے اللہ اس سے خوب آگاہ ہے۔
اس زمانے میں مسلمانوں کا بڑا مقصد خانۂ کعبہ کی بازیابی اور قتال کی تیاری تھا، اس لیے وہ جہاد کی تیاری میں کثرت سے خرچ کرتے اور کبھی اپنے قریبی مستحقین کے حقوق سے غفلت برت لیتے تھے۔ چنانچہ ان آیات کے ذریعے یہ رہنمائی دی گئی کہ انفاق کا آغاز اُن حق داروں سے کیا جائے جو طبعاً اور شرعاً تمہارے قریب تر ہیں۔ سب سے پہلے والدین، پھر اقرباء، پھر یتامیٰ، مساکین اور ابن السبیل، یعنی وہ طبقات جن کا حق معاشرتی اور اخلاقی اعتبار سے مقدم ہے۔
اس کے بعد فرمایا: "وَيَسْأَلُونَكَ مَاذَا يُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ” (البقرہ: 219)، یعنی لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے: جو زائد ہو۔
ان دونوں آیات میں کامل ہم آہنگی ہے۔ آیت 215 انفاق کے ترجیحی اور اولین مصارف کی تعیین کرتی ہے، جبکہ آیت 219 مقدار کے بارے میں اصولی رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ پہلے مذکورہ مستحقین کے حقوق ادا کیے جائیں، اپنی جائز اور معتدل ضروریات پوری کی جائیں، اور اس کے بعد جو مال ضرورت سے فاضل بچے، اسے اللہ کی راہ میں جہاں اور جیسے چاہے صرف کیا جائے۔ یوں نہ تنگ دلی باقی رہتی ہے اور نہ بے اعتدالی؛ بلکہ ایک ایسا معتدل اور حکیمانہ نظام سامنے آتا ہے جس میں قرابت کے حقوق بھی محفوظ رہتے ہیں اور رضائے الٰہی کے لیے وسیع میدان بھی کھلا رہتا ہے۔
اسی حقیقت کو مزید تاکید کے ساتھ سورۃ الزلزال میں یوں بیان فرمایا گیا: "فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ” (الزلزال: 7)، یعنی جو شخص ذرہ برابر نیکی کرے گا وہ اسے دیکھ لے گا۔
معاصر زمانے میں بعض اہلِ فکر نے معاشی حالات کی تبدیلی کو بنیاد بنا کر شرحِ زکوٰۃ میں نظرِ ثانی کی آراء پیش کی ہیں، لیکن جمہور اہلِ علم کے نزدیک یہ رائے نصوصِ صریحہ اور اجماعِ امت کے خلاف ہے۔ ہاں، یہ بات بجا ہے کہ موجودہ دور کی پیچیدہ معاشی ساخت، بڑھتی ہوئی معاشی ناہمواری اور اجتماعی ضرورتوں کی وسعت کے پیشِ نظر اہلِ ثروت کو نفلی صدقات، اوقاف اور رفاہی مصارف میں زیادہ کشادگی اختیار کرنی چاہیے، تاکہ معاشرے میں توازن، ہمدردی اور عدل و احسان کی فضا قائم ہو۔
درحقیقت زکوٰۃ اسلام کے نظامِ عدل کا کم از کم درجہ ہے، جبکہ صدقۂ نافلہ احسان اور ایثار کا مظہر ہے۔ زکوٰۃ سے معاشرہ ٹوٹنے اور انتشار سے محفوظ رہتا ہے، اور انفاقِ زائد سے وہ سنورتا، نکھرتا اور روحانی اعتبار سے بلند ہوتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ زکوٰۃ کی فرضیت مدنی دور میں ایک منظم اجتماعی حکم کے طور پر نافذ ہوئی، اس کی شرح نصِ نبوی سے متعین اور اجماعِ امت سے ثابت ہے، اور یہ آج بھی کم از کم واجب مقدار کے طور پر برقرار ہے۔ اس سے زائد جو کچھ دیا جائے وہ نفلی صدقہ اور موجبِ اجر ہے، بلکہ بعض حالات میں تقاضائے تقویٰ بھی۔ مؤمن کا کمال یہی ہے کہ وہ فرض کی ادائیگی پر اکتفا نہ کرے بلکہ "العفو” کے قرآنی معیار کو پیشِ نظر رکھ کر اپنے مال کو رضائے الٰہی کا وسیلہ بنائے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے اموال کی حقیقی ذمہ داری کا شعور عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو عدل کے ساتھ احسان کو بھی اختیار کرتے ہیں۔ وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین۔
قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی