نکاح کی حقیقت، مقصد اور عصرِ حاضر کا فکری انحراف
سوال: آسٹریلیا سے محترمہ ڈاکٹر امشہ ناہید صاحبہ نے درجِ ذیل استفسار کیا ہے:
محترم شیخ صاحب، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
امید ہے آپ خیریت اور کامل ایمان کے ساتھ ہوں گے۔ میں آپ کی خدمت میں ایک نہایت اہم اور حساس مسئلہ رہنمائی کے لیے پیش کر رہی ہوں، جو ہمارے معاشرے میں والدین کے لیے شدید ذہنی اور اخلاقی پریشانی کا باعث بن رہا ہے۔
آج کے دور میں، خصوصاً غیر مسلم ممالک میں، ہائی اسکول کے زمانے میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان فطری طور پر کشش پیدا ہو جاتی ہے اور وہ اکثر نیک نیتی کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ زندگی گزارنے کی خواہش رکھتے ہیں۔ تاہم، ملکی قوانین کے مطابق 18 سال سے پہلے شادی کی اجازت نہیں ہوتی۔ والدین اپنی اولاد کو اسلامی اصولوں کے مطابق تربیت دینے کی بھرپور کوشش کرتے ہیں، کچھ بچے ان اصولوں پر سختی سے عمل کرتے ہیں جبکہ کچھ کو اس میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
18 سال کی عمر کے بعد بعض خاندان بچوں کو حرام سے بچانے کے لیے جلد نکاح کر دیتے ہیں۔ ایسے معاملات میں اگرچہ نکاح ہو جاتا ہے، لیکن لڑکا اور لڑکی عموماً اپنے والدین کے گھروں میں ہی رہتے ہیں اور میاں بیوی ہونے کے باوجود محدود ملاقاتیں کرتے ہیں۔
دوسری طرف، کچھ والدین اس وقت تک نکاح مؤخر کرتے ہیں جب تک بچے اپنی تعلیم مکمل نہ کر لیں اور لڑکا مالی طور پر اس قابل نہ ہو جائے کہ بیوی کی کفالت کر سکے۔ اس انتظار کے دوران تعلقات مختلف صورتیں اختیار کر لیتے ہیں:
کچھ تعلقات خلوص نہ ہونے یا دیگر وجوہات کی بنا پر نکاح سے پہلے ہی ختم ہو جاتے ہیں، کچھ تعلقات برقرار رہتے ہیں اور بعد میں کامیاب نکاح اور ازدواجی زندگی پر منتج ہوتے ہیں، اس صورتحال نے والدین کو ایک شدید مخمصے میں ڈال دیا ہے کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے نزدیک کون سا راستہ زیادہ درست اور بہتر ہے:
نکاح میں تاخیر کرنا، جبکہ لڑکا اور لڑکی آپس میں بات چیت، ملاقات اور بعض اوقات جسمانی قربت (اگرچہ زنا سے بچتے ہوئے) اختیار کرتے ہیں، جو اسلامی حدود سے تجاوز کے زمرے میں آتا ہے؛ یا
جلد نکاح کر دینا، تاکہ تعلق حلال ہو جائے، لیکن اس صورت میں شوہر ابھی مکمل طور پر نان نفقہ کی ذمہ داری ادا کرنے کے قابل نہ ہو۔
اس ضمن میں والدین کے سامنے چند اہم سوالات ہیں: شریعت کی روشنی میں کون سا راستہ زیادہ درست اور محفوظ ہے؟ اگر نکاح ہو جائے لیکن شوہر فی الحال مکمل نان نفقہ فراہم نہ کر سکے تو اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ اگر والدین نکاح مؤخر کریں اور بچے حدود سے تجاوز کریں تو اس کا وبال کس پر ہو گا: والدین پر، بچوں پر، یا دونوں پر؟ والدین ان حالات میں عملی طور پر کس طرح حکمت اور دانائی کے ساتھ فیصلہ کریں تاکہ بچوں کے ایمان اور مستقبل کی حفاظت ہو سکے؟
اس معاملے میں آپ کی رہنمائی ان والدین کے لیے نہایت قیمتی ہوگی جو خلوص کے ساتھ اسلامی تعلیمات کے مطابق درست فیصلہ کرنا چاہتے ہیں، مگر موجودہ قانونی اور معاشرتی رکاوٹوں کا سامنا کر رہے ہیں۔
جزاکم اللہ خیراً آپ کے قیمتی وقت اور رہنمائی کے لیے، والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
آپ کی جانب سے اٹھایا گیا سوال اپنی نوعیت کے اعتبار سے محض ایک وقتی یا جزوی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ عصرِ حاضر کے مسلم معاشروں میں نکاح، اخلاق، ذمہ داری اور انسانی خواہش کے باہمی تعلق سے پیدا ہونے والے ایک گہرے فکری انتشار کی نمائندگی کرتا ہے، خصوصاً غیر مسلم ممالک میں رہنے والے مسلمان والدین اس مسئلے کو روزمرہ کی زندگی میں ایک عملی اور ذہنی دباؤ کے طور پر محسوس کر رہے ہیں، جہاں ایک طرف قانونی و سماجی پابندیاں ہیں اور دوسری طرف اولاد کے دینی، اخلاقی اور نفسیاتی تحفظ کی شدید فکر۔ اس لیے اس مسئلے کا حل نہ جذباتی ہمدردی میں مضمر ہے، نہ سماجی دباؤ کے تحت فوری فیصلوں میں، بلکہ اس کا حل صرف اور صرف شریعتِ اسلامیہ کے اصولی تصورِ نکاح، اس کے مقاصد، اور اس پر مترتب ذمہ داریوں کو درست طور پر سمجھنے میں ہے۔
اسلام میں نکاح کا تصور بنیادی طور پر ایک سنجیدہ، بامقصد اور ذمہ داری سے بھرپور ادارے کا تصور ہے۔ یہ محض دو افراد کے درمیان باہمی کشش یا فطری میلان کو قانونی یا شرعی جواز فراہم کرنے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا مستقل سماجی بندھن ہے جس کے ذریعے ایک گھر وجود میں آتا ہے، ایک خاندان تشکیل پاتا ہے اور ایک نئی نسل کی فکری، اخلاقی اور دینی پرورش کا انتظام ہوتا ہے۔ قرآنِ مجید نکاح کو سکون، مودّت اور رحمت کا ذریعہ قرار دیتا ہے، اور یہ تینوں عناصر اس وقت تک حقیقت کا روپ نہیں دھارتے جب تک نکاح کو محض خواہش کے دائرے سے نکال کر ذمہ داری، قربانی اور دوام کے دائرے میں داخل نہ کیا جائے۔
یہی وجہ ہے کہ شریعتِ اسلامیہ میں نکاح کے ساتھ شوہر پر واضح اور غیر مبہم ذمہ داریاں عائد کی گئی ہیں۔ ان ذمہ داریوں میں سب سے بنیادی ذمہ داری بیوی کے لیے باعزت، محفوظ اور علیحدہ رہائش فراہم کرنا اور اس کے مکمل نان و نفقہ کا انتظام کرنا ہے۔ یہ ذمہ داری کسی اخلاقی فضیلت یا اختیاری احسان کا درجہ نہیں رکھتی بلکہ ایک لازمی شرعی فریضہ ہے، جس کی ادائیگی کے بغیر ازدواجی زندگی کا تصور شریعت کے نزدیک ناقص اور غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ بیوی کی کفالت شوہر کی ذاتی ذمہ داری ہے، جسے کسی صورت والدین، خاندان یا کسی تیسرے فریق کے سہارے پورا کرنے کو نکاح کا مطلوب نمونہ نہیں کہا جا سکتا۔ اگر شوہر خود اس ذمہ داری کو اٹھانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نکاح کے بنیادی تقاضوں کو پورا کرنے کے مرحلے تک ابھی نہیں پہنچا۔
یہاں یہ نکتہ نہایت اہم ہے کہ عصرِ حاضر میں نکاح کو اکثر ایک نفسیاتی یا جذباتی مسئلے کے حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، گویا نکاح کا بنیادی مقصد صرف فطری خواہش کے دباؤ سے نجات حاصل کرنا ہو۔ یہ تصور نہ صرف شریعت کے مزاج سے متصادم ہے بلکہ خود انسانی معاشرے کے لیے بھی طویل المدت طور پر نقصان دہ ہے۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث، جس میں نوجوانوں کو نکاح کی تلقین کی گئی، دراصل اسی فکری انحراف کی اصلاح کرتی ہے۔ آپ ﷺ نے نکاح کو خواہش کی موجودگی سے مشروط نہیں کیا بلکہ استطاعت سے مشروط کیا، اور واضح طور پر فرمایا کہ جو نکاح کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ روزے کو ڈهال بنائے۔ اگر نکاح کا مقصد صرف خواہش کو حلال کرنا ہوتا تو استطاعت کی شرط بے معنی ہو جاتی اور روزے کو متبادل کے طور پر پیش کرنے کی کوئی عقلی یا اخلاقی بنیاد باقی نہ رہتی۔
یہ استطاعت دراصل اس بات کا اظہار ہے کہ اسلام خواہش کو تسلیم تو کرتا ہے، مگر اسے فیصلہ کن قوت بننے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسلام انسان کو یہ تعلیم دیتا ہے کہ خواہش کو نظم و ضبط کے تابع رکھا جائے، نہ کہ نظم و ضبط کو خواہش کے تابع کر دیا جائے۔ روزہ محض ایک جسمانی عمل نہیں بلکہ ایک اخلاقی تربیت ہے، جو انسان کو یہ سکھاتا ہے کہ ہر فطری تقاضا فوراً پورا کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی درست۔ یہی تربیت نوجوان کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ مستقبل میں ازدواجی زندگی کو سنجیدگی، تحمل اور ذمہ داری کے ساتھ نبھا سکے۔
غیر مسلم ممالک میں قانونی عمر کی پابندی اس مسئلے کو مزید واضح کر دیتی ہے۔ جب کوئی نوجوان قانونی طور پر نکاح کے بعد درکار سماجی و خاندانی ذمہ داریاں ادا کرنے کا اہل ہی نہیں، جب وہ نہ آزادانہ رہائش فراہم کر سکتا ہے اور نہ ہی مکمل کفالت کا بوجھ اٹھا سکتا ہے، تو یہ سوال محض قانونی نہیں بلکہ اخلاقی اور شرعی بھی بن جاتا ہے کہ ایسا نکاح اپنے مقاصد کو کیسے پورا کرے گا۔ شریعت نکاح کو محض ایک رسمی یا علامتی عمل کے طور پر قبول نہیں کرتی، بلکہ اس کے نتائج، اثرات اور ذمہ داریوں کو اصل اہمیت دیتی ہے۔ اس لیے ایسے حالات میں نکاح کو خواہش کے دباؤ سے نکلنے کا فوری حل سمجھنا دراصل نکاح کے تصور کو کمزور اور اس کی معنویت کو مجروح کرنا ہے۔
یہی بات اس خیال پر بھی صادق آتی ہے کہ اگر شوہر خود کفالت کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو والدین کی مالی معاونت اس خلا کو پر کر دے گی۔ شریعت میں ذمہ داری کی نوعیت شخصی ہے، اجتماعی نہیں۔ والدین کی مالی حیثیت شوہر کی نااہلی کا نعم البدل نہیں بن سکتی۔ ایسا تصور نکاح کو ایک عارضی اور غیر سنجیدہ بندھن میں تبدیل کر دیتا ہے، جس کے نتائج اکثر ازدواجی کشیدگی، نفسیاتی دباؤ اور عورت کے حقوق کی پامالی کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔
جہاں تک اس سوال کا تعلق ہے کہ اگر نکاح مؤخر کیا جائے اور اس دوران اولاد گناہ کا ارتکاب کر لے تو اس کا وبال کس پر ہو گا، تو شریعت اس معاملے میں نہایت متوازن موقف اختیار کرتی ہے۔ بالغ اولاد اپنے اعمال کی بنیادی طور پر خود جواب دہ ہے، تاہم والدین پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تربیت، رہنمائی اور نگرانی میں غفلت نہ برتیں۔ لیکن یہ بات کسی طور درست نہیں کہ ممکنہ گناہ کے خوف سے ایک ایسے نکاح کو اختیار کر لیا جائے جو خود ناانصافی، ذمہ داری سے فرار اور شریعت کے مقاصد سے انحراف پر مبنی ہو۔ شریعت کا طریقہ علاج یہ نہیں کہ ایک غلطی سے بچنے کے لیے دوسری غلطی کو اختیار کر لیا جائے، بلکہ یہ ہے کہ خواہش کو اخلاقی تربیت، ضبطِ نفس اور تقویٰ کے ذریعے قابو میں رکھا جائے۔
اس پورے تناظر میں سب سے بنیادی اخلاقی اصول یہ ہے کہ اسلام کسی مرد کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ محض اپنی خواہش کی بنیاد پر کسی عورت کو نکاح کے بندھن میں لے آئے جبکہ وہ اس کے حقوق ادا کرنے کی عملی صلاحیت یا سنجیدہ نیت نہ رکھتا ہو۔ عورت اسلام میں ایک خود مختار اور باوقار انسان ہے، نہ کہ کسی کی خواہش کا موضوع یا وقتی حل۔ نکاح اس وقت عبادت بنتا ہے جب وہ ذمہ داری، انصاف اور تحفظ کا ذریعہ ہو، اور جب یہ عناصر غائب ہو جائیں تو وہ عبادت کے بجائے ظلم اور استحصال کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
لہٰذا موجودہ حالات میں والدین اور نوجوانوں کے لیے شریعت کی رہنمائی نہایت واضح ہے۔ نکاح کو اس کے اصل مقصد، یعنی گھر کے قیام اور ذمہ داری کے شعور، کے ساتھ جوڑا جائے۔ جب تک یہ ذمہ داریاں ادا کرنے کی حقیقی استطاعت پیدا نہ ہو، اس وقت تک صبر، روزہ، دینی تربیت، اخلاقی نگرانی اور پاکیزہ ماحول ہی وہ راستہ ہے جسے شریعت نے اختیار کرنے کا حکم دیا ہے۔ امت کی اخلاقی اصلاح خواہش کو آسان بنانے سے نہیں بلکہ ذمہ داری کو سنجیدگی سے قبول کرنے سے ممکن ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح فہم، فکری استقامت اور حکمت کے ساتھ فیصلے کرنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہماری اولاد کی عفت، ایمان اور مستقبل کی حفاظت فرمائے۔
قلمکار: ڈاکٹر محمد اکرم ندوی
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی