گومتى ندى كا پانى كہاں سے آتا ہے؟

مانی کلاں اور جمدہاں کے درمیان فاصلہ اگر ناپا جائے تو کچھ خاص نہیں، مگر شعور کے ابتدائی ایام میں یہ فاصلہ میلوں پر محیط محسوس ہوتا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب راستے کچے تھے، سوال ناپختہ، اور علم ایک اجنبی شے۔ سردیوں کے موسم میں اوس کی کثرت رہتی، اور ہمارے پیر شبنم اور مٹی میں لتھڑے رہتے، برسات میں کیچڑ ہمیں اپنی گرفت میں لے لیتا، ضیاء العلوم میں سائنس کی تعلیم نہ دی جاتی تھی، اس لیے یہ تعجب کی بات نہ تھی کہ ہماری معلومات تقریباً صفر تھیں۔ ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
ہم روزانہ صبح سویرے مانی کلاں جاتے اور شام کو واپس آتے۔ بارش کے دنوں میں ایک سوال ہمیں بے چین رکھتا: بادلوں میں پانی آتا کہاں سے ہے؟ ہمارے پاس اس کا کوئی جواب نہ تھا۔ اتفاق سے ایک لڑکے سے دوستی ہو گئی جو کسی اور گاؤں کا رہنے والا تھا، اگرچہ اس کا ننھیال جمدہاں میں تھا۔ وہ بھی ہمارے ساتھ روزانہ آنے جانے لگا۔ ایک دن جب بادلوں کے پانی کا سوال پھر اٹھا تو اس نے بتایا کہ اس کے دادا جونپور شہر گئے تھے، جہاں انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ بادل نیچے اتر اتر کر گومتی ندی سے پانی پیتے ہیں، اور پھر وہی پانی ہر سمت برسا دیتے ہیں۔ اس نے یہ بھی بتایا کہ اس کے دادا نے ان بادلوں کا ایک ٹکڑا توڑ کر اٹھا لیا تھا، جو آج تک ان کے گھر میں محفوظ ہے۔


اپنے سوال کا جواب پا کر ہمیں بے حد خوشی ہوئی، اور ذہن پر پڑی ہوئی گرہ کھل گئی۔ البتہ دل میں ایک خلش باقی رہی کہ میرے دادا جونپور جا کر یہ منظر کیوں نہ دیکھ سکے؟ اور ہمارے گھر میں بادل کا کوئی ٹکڑا کیوں نہ آیا؟
جب میں نے مولانا آزاد تعلیمی مرکز میں پڑھنا شروع کیا تو منطق اور فلسفہ کی پہلی کتاب میرے ہاتھ آئی۔ استاد نے بتایا کہ یہ کائنات حوادث و مخلوقات کے ایک مسلسل سلسلے کا نام ہے، اور یہ تسلسل کہیں جا کر ختم نہیں ہوتا۔ تسلسلِ غیر متناہی فلسفے کا ایک قدیم مسئلہ ہے۔ البتہ متکلمینِ اسلام نے ممکن اور واجب الوجود کی بحث کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کے نزدیک واجب الوجود تمام ممکنات کا مبدأ ہے، اور خود واجب الوجود کا کوئی مبدأ نہیں۔
میں نے اس پر اشکال کیا کہ مسئلہ تو وہیں کا وہیں رہا۔ فلاسفہ اسباب و مسببات کے لامتناہی سلسلے کے قائل ہیں، اور متکلمین نے "واجب” کا نام رکھ کر اسی تسلسل کو لامتناہی قرار دے دیا ہے۔ تسلسل برقرار ہے، صرف اصطلاح بدل گئی ہے۔ استاد اس پر خفا ہو گئے اور فرمایا کہ یہ فضول سوال ہے، اور میں فضول بحث نہیں کرتا، لہٰذا آج کا سبق یہیں ختم ہوا۔
تسلسلِ غیر متناہی کا مسئلہ تو حل نہ ہوا، البتہ مذاکرے کے دوران میں نے اپنے ساتھیوں کو بتایا کہ بادل گومتی ندی سے پانی پیتے ہیں اور پھر بارش کرتے ہیں۔ آج کا سبق پڑھ کر میرے ذہن میں ایک نیا سوال پیدا ہوا کہ خود گومتی ندی کہاں سے آتی ہے؟ ایک ساتھی نے جواب دیا کہ اس کا بھائی ندوہ میں پڑھتا ہے، اور اس کے مطابق گومتی ندوہ کے سامنے بہتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ گومتی لکھنؤ سے آتی ہے۔ میں نے پوچھا: لکھنؤ میں کہاں سے آتی ہے؟ کسی نے کہا کہ لکھنؤ کی آگے کہیں سے آتی ہوگی۔ یوں ہم ایک بار پھر تسلسلِ غیر متناہی کے شکنجے میں جکڑ گئے۔
ایک ساتھی نے کہا کہ تسلسل باطل ہے۔ لکھنؤ کے باہر ایک سادھو رہتا ہے جو اپنے منہ سے پانی اگلتا ہے، وہیں سے گومتی ندی نکلتی ہے۔ ہم نے پوچھا: تمہیں یہ کیسے معلوم ہوا؟ اس نے جواب دیا: عقل سے۔ جب حوادث و مخلوقات کے غیر متناہی سلسلے کا حل واجب الوجود ہے، تو میری عقل نے فوراً فیصلہ کیا کہ گومتی کے تسلسل کا حل بھی وہی سادھو ہے۔ ہم اس جواب سے مطمئن ہو گئے، اور تسلسل کا اشکال رفع ہو گیا۔
میرا داخلہ ندوۃ العلماء میں ہو گیا، اور یوں میری فکری زندگی ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ یہاں آ کر میں نے خود کو علومِ ادبیہ، تجريبیہ اور یقینیہ کے حصول میں پوری یکسوئی کے ساتھ مشغول کر لیا، اور ظنون و تخمینات، ذہنی قیاس آرائیوں اور بے حاصل مباحث سے طبعاً بیزار ہوتا چلا گیا۔ ندوہ نے مجھے یہ سکھایا کہ علم وہ نہیں جو ذہن کو محض مشغول رکھے، بلکہ وہ ہے جو عقل کو ضبط دے، فکر کو سمت عطا کرے، اور انسان کو حقیقت کے قریب لے جائے۔
ندوہ کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ اس کے بانیوں نے علم کے نام پر ذہنی عیاشی کے تمام دروازے بند کر دیے، اور طلبہ کی توجہ ان علوم کی طرف مبذول کرا دی جو نافع بھی ہیں اور مؤثر بھی۔ یہاں علم کو نہ محض تفننِ طبع سمجھا گیا، نہ محض فکری کرتب؛ بلکہ اسے زندگی کی تعمیر، فکر کی تہذیب اور یقین کی آبیاری کا ذریعہ بنایا گیا۔ چنانچہ ندوہ کی فضا میں قدم رکھتے ہی یہ احساس غالب آ جاتا ہے کہ یہاں سوال پوچھنے کی آزادی بھی ہے، مگر سوال کو انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی۔
یہی وجہ ہے کہ ندوہ نے مجھے ظن وتخمين کے شور سے نکال کر یقین کے سکوت تک پہنچایا، اور یہ سمجھا دیا کہ عقل کا کمال سوالات کی کثرت میں نہیں، بلکہ ان سوالات کے صحیح محل پر آ کر ٹھہر جانے میں ہے۔ یہاں میں نے جانا کہ فلسفہ اگر حد سے بڑھ جائے تو ذہن کو منتشر کر دیتا ہے، اور علم اگر وحی، تجربہ اور ادب کے توازن سے محروم ہو تو محض گمان رہ جاتا ہے۔ ندوہ نے اسی توازن کا نام علم رکھا، اور اسی علم کو زندگی کا سرمایہ قرار دیا۔
میں آکسفورڈ آیا تو یہاں میری دوستی ایک امریکی عیسائی نوجوان سے ہو گئی، جسے میں یہاں داود کے نام سے یاد کروں گا (یہ نام حقیقی نہیں)۔ ہماری گفتگو کبھی علمی ہوتی، کبھی تفریحی، اور کبھی محض انسانی حیرتوں کے گرد گھومتی۔
ایک دن میں نے داود کو بادل اور گومتی ندی کی پوری کہانی سنائی—سادھو، تسلسلِ غیر متناہی، اور عقل کے وقتی اطمینان تک۔ اس نے تعجب سے کہا: یہ حیرت کی بات ہے کہ تم اس بيانيہ پر کیسے مطمئن ہو گئے کہ گومتی ندی کا منبع ایک سادھو کا منہ ہے؟
میں نے کہا: ہم اس وقت فلسفے کے نوآموز طالب علم تھے۔ تسلسلِ غیر متناہی کا مسئلہ ہمیں بے چین کیے ہوئے تھا۔ اس جواب نے ہمیں وقتی سکون دے دیا، اس لیے ہم نے سادھو کے وجود پر مزید غور نہ کیا۔ پھر ہم بچے تھے، اتنی باریکی میں کہاں جا سکتے تھے؟
داود نے مسکرا کر کہا: اب تو تم بڑے ہو چکے ہو۔
میں نے جواب دیا: ہاں، اور اب مجھے یہ بھی معلوم ہو چکا ہے کہ گومتی ندی کا پانی کہاں سے آتا ہے۔ وہ پوری توجہ سے سننے لگا۔ میں نے اس کے سامنے امام ذہبی کی وہ روایت پیش کی جو سیر اعلام النبلاء جلد 11، صفحہ 539 میں مذکور ہے، قاسم المطرِّز بیان کرتے ہیں کہ میں کوفہ میں عباد بن یعقوب الرواجنی کے پاس حاضر ہوا۔ وہ نابینا تھے اور طلبہ کا امتحان ليتے تھے۔ انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بتاؤ، سمندر کس نے کھودا؟ میں نے عرض کیا: اللہ نے۔ انہوں نے کہا: یہ تو درست ہے، مگر بتاؤ کہ کس نے کھودا؟ میں نے کہا: شیخ ہی بتائیں۔ انہوں نے فرمایا: علیؓ نے کھودا۔ پھر پوچھا: بتاؤ، اس میں پانی کس نے جاری کیا؟ میں نے کہا: اللہ نے۔ انہوں نے کہا: یہ بھی صحیح ہے، مگر بتاؤ، اس میں پانی کس نے جاری کیا؟ میں نے کہا: شیخ ہی بتائیں۔ انہوں نے فرمایا: حسینؓ نے اسے جاری کیا۔ جب میں ان سے ان کی احادیث سن چکا تو دوبارہ ان کے پاس حاضر ہوا۔ انہوں نے پھر وہی سوال دہرایا کہ بتاؤ، سمندر کس نے کھودا؟ میں نے جواب دیا: سمندر کو معاویہؓ نے کھودا اور عمرو بن العاصؓ نے اس میں پانی جاری کیا۔ یہ کہتے ہی میں اچھل پڑا اور دوڑ لگا دی، اور وہ پیچھے سے چیختے جاتے تھے: اس فاسق، دشمنِ خدا کو پکڑ لو۔
داود نے فوراً کہا: یہ تو کھلا تضاد ہے! کہیں حسینؓ، کہیں عمرو بن العاصؓ؟
میں نے کہا: یہ تضاد نہیں، یہی فلسفے اور کلام کی اصل کہانی ہے۔ جس طرح ایک گروہ کہتا ہے کہ کائنات اسباب و حوادث کے لامتناہی سلسلے پر قائم ہے، اور دوسرا کہتا ہے کہ یہ سلسلہ واجب الوجود پر جا کر رک جاتا ہے، حالانکہ درحقیقت سلسلہ برقرار رہتا ہے، صرف ایک نيا نام اس پر رکھ دیا جاتا ہے۔ اختلاف حقیقت کا نہیں، تعبیر کا ہے۔
یہاں بھی حقیقت ایک ہی ہے، نام الگ الگ ہیں۔ شیعہ تعبیر میں دریا علیؓ نے بنایا اور حسینؓ نے جاری کیا، اور سنی تعبیر میں معاویہؓ نے بنایا اور عمرو بن العاصؓ نے جاری کیا۔
یہ سن کر داود زور سے ہنس پڑا۔ میں نے پوچھا: کیا بات ہے؟ کہنے لگا: مجھے امام غزالی کی بات یاد آ گئی—کہ فلاسفہ کے بعض اقوال ایسے ہیں کہ اگر کوئی انہیں خواب میں بڑبڑائے تو لوگ اس کی عقل پر شک کرنے لگیں۔
میں نے کہا: تم نے تو فلسفہ اور علمِ کلام دونوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا! داود نے سنجیدگی سے کہا: یہی بات تو امام فخرالدین رازی نے کہی تھی: میں نے کلامی اور فلسفیانہ راستوں کو آزما لیا، مگر وہ نہ دل کی بیماری کا علاج بنے، نہ روح کی پیاس بجھا سکے۔ مجھے سب سے قریب راستہ قرآن کا راستہ نظر آیا۔
داود نے مجھ سے نہایت سنجیدگی کے ساتھ سوال کیا: جب قرآن خود خدا کا تعارف کراتا ہے، تو تم مجھے یہ کیوں نہیں بتاتے کہ خدا اپنی کتاب میں اپنا تعارف کس اسلوب اور کن دلائل کے ساتھ کراتا ہے؟ میں نے اس کی بات سن کر محسوس کیا کہ یہ محض ایک سوال نہیں، بلکہ ایک فکری تقاضا ہے، اس لیے میں نے کہا: تم نے نہایت بجا، معقول اور فکر انگیز مطالبہ کیا ہے۔ اس کا جواب کسی سرسری گفتگو میں نہیں دیا جا سکتا۔ آئندہ نشست میں ہم توحیدِ قرآنی پر ٹھہر کر، تدبر کے ساتھ اور پوری تفصیل سے گفتگو کریں گے، تاکہ یہ دیکھا جا سکے کہ قرآن عقل سے مخاطب ہو کر خدا کو کیسے پہچنواتا ہے، اور انسان کو گمان سے نکال کر یقین کی سرحد تک کیسے لے آتا ہے۔
اور اسی لمحے مجھے پہلی بار پوری وضاحت کے ساتھ یہ ادراک حاصل ہوا کہ اصل مسئلہ نہ بادل تھا، نہ گومتی ندی، اور نہ ہی تسلسلِ غیر متناہی کی الجھن؛ اصل مسئلہ یہ تھا کہ ہم حقیقت کے بجائے ناموں پر قانع ہو گئے تھے، اور مفہوم کے بجائے اصطلاحات میں الجھ کر رہ گئے تھے۔
ہم نے سبب کو حقیقت سمجھ لیا تھا اور تعبیر کو وجود کا قائم مقام بنا بیٹھے تھے، حالانکہ علم کا راستہ ناموں سے آگے، اور یقین کی منزل تعبیرات سے ماورا ہوتی ہے۔

Dr Akram Nadwi

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

One Comment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے