اسرائیل سے بڑھتے تعلقات

اسرائیل سے بڑھتے تعلقات: کیا ہندوستان اپنی اخلاقی وراثت سے دور ہو رہا ہے؟

انڈیا اور اسرائیل کے درمیان گہرے ہوتے رشتے کسی بھی اعتبار سے انڈیا کے لئے مناسب نہیں ہیں۔ ہمارے ملک کی تاریخ یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا ہے اور ظالموں سے اپنی دوری بنائی ہے۔ فلسطین کی مظلومیت اور اسرائیل کی جارحیت اور اس کے نسل کشی سے متعلق جرائم دنیا سے اب ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ اسرائیل کو اس وقت ایک اپارتھائیڈ اسٹیٹ سے زیادہ کوئی حیثیت حاصل نہیں ہے۔ غزہ پر مظالم کے جو پہاڑ توڑے گئے ہیں اور ستر ہزار سے بھی زائد معصوموں کو جس بے دردی سے شہید کیا گیا اس کے پیش نظر مغربی ملکوں کے عوام تک میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے۔ سرکاری سطح پر یورپ کے ملکوں میں سے اسپین اور آئر لینڈ نے اسرائیل کے خلاف اپنا سخت موقف واضح کیا ہے۔ لاطینی امریکی ممالک میں سے کولمبیا اور برازیل نے بھی اسرائیل کے جرائم اور جنگی مجرم نتن یاہو کی وحشت ناکی پر تیکھے تبصرے کئے ہیں اور اپنے سفارتی تعلقات کو ختم کیا ہے۔ افریقی ممالک میں سے جنوبی افریقہ تو وہ پہلا ملک رہا ہے جس نے اسرائیل کے ذریعہ فلسطینیوں کی نسل کشی اور قتل عام سے متعلق جرائم کی شکایت انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں پہونچایا ہے اور جس کے ساتھ بعد میں کئی ممالک نے اپنی حمایت پیش کی اور اس شکایت کا حصہ بنے۔ اسی کی بناء پر نتن یاہو اور اس کے وزراء کو جنگی جرائم کے ارتکاب کے لئے ملزم مانا گیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ نتن یاہو دنیا کے بیشتر ممالک کا دورہ نہیں کر سکتا۔ امریکہ چونکہ اپنی ڈھٹائی اور عالمی قوانین کی عدم پاسداری کے لئے بدنام زمانہ ہے اس لئے اس نے نتن یاہو کا دفاع کیا ہے اور ٹرمپ نے اس کو گلے سے لگایا ہوا ہے۔ لیکن یورپ کے ملکوں میں آج بھی نتن یاہو آسانی سے سفر نہیں کر سکتا۔ جہاں تک ان ملکوں کے عوام کا تعلق ہے تو وہاں اسرائیل اور نتن یاہو کے خلاف سخت غصہ اور شدید نفرت پائی جاتی ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ غزہ اور ویسٹ بینک میں اسرائیلی جرائم کی وجہ سے اسرائیل اس وقت پوری دنیا میں اچھوت بنا ہوا ہے تو ایسا کہنا بالکل غلط نہیں ہوگا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

ایسے اچھوت اور مجرم ملک کے ذمہ داروں سے انڈیا کے وزیر اعظم کا ملنا افسوس ناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ مغربی ایشیا اور بالخصوص خلیج کے ممالک کی نظر اسرائیلی دورہ پر گئے مودی کے ہر لفظ اور ہر ایکشن پر رہے گی۔ انڈیا کا تعلق خود ایران کے ساتھ تاریخی نوعیت کا رہا ہے۔ اس وقت ایران پر برا وقت چل رہا ہے۔ وہ امریکہ اور اسرائیل کے نشانہ پر کھڑا ہے۔ ایسے وقت میں بھلا انڈیا کے وزیر اعظم کو اسرائیل دورہ کی کیا ضرورت پیش آگئی؟ عالمی سطح پر اس قدم کو اچھی نظروں سے ہرگز نہیں دیکھا جائے گا۔ ایران جس نے کئی حساس موقعوں پر انڈیا کا ساتھ پوری مستعدی کے ساتھ دیا ہے اس کو بطور خاص مودی کے اس فیصلہ سے تکلیف ہوگی اور دونوں ملکوں کے طویل و عمیق تاریخی رشتوں پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہوں گے۔

انڈیا نے فلسطین کے حوالہ سے ہمیشہ منصفانہ اور عادلانہ بلکہ ہمدردانہ موقف رکھا ہے۔ اخلاقی بلندی اور اعلی انسانی قدروں پر ہی ان رشتوں کی بنیاد گاندھی جی اور نہرو جی نے رکھی تھی۔ گاندھی جی نے تو ہمیشہ فلسطین کے ساتھ روا رکھے جا رہے جرائم کے خلاف کھل کر بولا تھا اور فلسطین کی آزادی کے بغیر ہندوستان کی آزادی کو بھی ادھورا مانتے تھے۔ نوے کی دہائی تک اسی لئے ہندوستان نے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم تک نہیں کیا تھا۔ نہرو جی بھی انہی اعلی انسانی اور اخلاقی اصول کے حامل انسان تھے۔ آزادی سے قبل بھی جب نہرو جی یورپ کے دورہ پر تھے تو مسولینی نے انہیں دعوت دی کہ بس چند گھنٹوں کے لئے اٹلی تشریف لے آئیں۔ لیکن نہرو جی نہیں گئے اور فاشسٹ مسولینی کی دعوت کو ٹھکرا دیا تھا۔ یہ واقعہ 1936 کا ہے۔ یہی سلوک انہوں نے ہٹلر کی نازی جرمنی کے ساتھ کیا تھا۔ دوسری عالمی جنگ عظیم سے قبل ان کو دعوت دی گئی اور خط میں اس بات کا ذکر بھی کیا گیا کہ ہم جانتے ہیں کہ آپ نازی نظریہ کے خلاف موقف رکھتے ہیں لیکن ہم پھر بھی چاہیں گے کہ آپ جرمنی تشریف لائیں۔ نہرو جی نے اصولی موقف اختیار کرتے ہوئے اس دعوت کو بھی قبول نہیں کیا۔ نہرو جی جانتے تھے کہ فاشزم اور نازی ازم انسانیت مخالف نظریات پر قائم ایک نسلی برتری کا فلسفہ ہے جس کے ساتھ معمولی اتفاق رکھنا بھی مشترک انسانی قدروں سے غداری کہلائے گی اس لئے ان نظریات کے ساتھ ادنی درجہ کی ہمدردی کو بھی انہوں نے گناہ تصور کیا اور ان سے ملنے نہیں گئے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ جس برطانوی سامراج کے خلاف وہ لڑ رہے ہیں وہ صرف ان کی یا ان کے ملک کی ہی لڑائی نہیں ہے بلکہ ان کی یہ لڑائی دنیا کی ان تمام کمزور اور آزادی کے لئے کوشاں قوموں اور ملکوں کے لئے بھی ہے جن کو سامراجیت کے خلاف جنگ میں بڑی قیمتیں چکانی پڑ رہی ہیں۔

گاندھی جی اور نہرو دونوں ہی اسرائیل کو مغربی سامراج کی ایک توسیعی شکل تصور کرتے تھے اور اسی لئے فلسطین کی آزادی کے بارے میں نہایت سنجیدہ تھے۔
جہاں تک نریندر مودی کے نظریاتی مرکز و مصدر آر ایس ایس کا تعلق ہے تو ان کا بڑا گہرا تعلق مسولینی کے فاشزم اور جرمنی کے نازی ازم کے ساتھ تھا۔ آر ایس ایس کا یونیفارم اور پریڈ تک مسولینی کی نسل پرست پولیس سے متاثر ہے۔ اُن دنوں آر ایس ایس یہودیوں کے دشمن نازی جرمنی کے ساتھ کھڑا تھا اور آج آر ایس ایس اور بی جے پی مسلمانوں کے دشمن صہیونیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ یہاں تک کہ اسرائیل نے فلسطینیوں کے خلاف جو سلوک اختیار کر رکھا ہے اسی نہج پر بی جے پی اور آر ایس ایس مسلمانوں کو انڈیا میں نشانہ بناتی ہیں۔ تو کیا یہ مان لیا جائے کہ ملک کے مفادات کو پس پشت ڈال کر نریندر مودی اسلام اور مسلمان دشمنی میں اسرائیل کا دورہ ایسے وقت میں کر رہے ہیں جبکہ غزہ میں معصوموں کی چیخیں ابھی تک خاموش بھی نہیں ہوئی ہیں؟ دنیا جانتی ہے کہ غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کے لئے جن ملکوں نے ہتھیار بھیجے تھے ان میں مودی کی قیادت والی سرکار بھی شامل تھی۔ دنیا یہ بھی جانتی ہے کہ دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کو بڑھاوا دینے کے لئے سوشل میڈیا پر جو پروپیگنڈہ چلتا ہے اس کا اسّی فیصد مواد ہندوستان کے سنگھی تیار کرتے ہیں۔ دنیا اس حقیقت سے بھی باخبر ہے کہ ابھی حال ہی میں جب مقبوضہ ویسٹ بینک کی زمینوں کو اسرائیل کا حصہ بنانے کا فیصلہ نتن یاہو کی سرکار نے کیا تو انڈیا نے اس کے خلاف موقف اختیار کرنے میں کافی وقت لگایا تھا۔ بڑی گومگو کے بعد ہی اسرائیل کی اس پالیسی کے خلاف ہندوستان نے اپنا دستخط اقوام متحدہ کے اس بے جان پرچہ پر کیا تھا جس میں اسرائیل کی مذمت کی گئی تھی۔ ملک کی خارجہ پالیسی میں اس قسم کی بنیادی تبدیلی پیدا کرنا بالکل ٹھیک نہیں ہے۔ اس کا بڑا نقصان ہندوستان کو ہو سکتا ہے۔ اچھا ہوتا کہ نریندر مودی کی سرکار اسرائیل کے تئیں وہی پالیسی اختیار کرتی جس کی جڑیں گاندھی جی کی انسانیت نوازی اور حق پسندی میں گڑی ہوئی ہیں۔ کیا خبر نتن یاہو کو کب اس کے انسانیت سوز جرائم کے لئے سزا مل جائے؟ اس دنیا میں بڑے بڑے تاناشاہ آئے اور گئے۔ لیکن تاریخ نے ہمیشہ حق پسندوں اور منصف مزاج لوگوں اور ملکوں کو ہی یاد رکھا ہے۔ مودی جی خواہ گاندھی جی اور نہرو کا قد کتنا ہی کم کرنے کی کوشش کرلیں لیکن دنیا ہمیشہ انڈیا کو گاندھی اور نہرو کے ناموں سے ہی یاد رکھے گی۔ ساورکر اور دین دیال اپادھیائے کو یہ سُکھ کبھی نصیب نہیں ہوگا۔

قلم کار:ڈاکٹر محمد ضیاءاللہ ندوی

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے