کیا چھینک کے وقت دل کی دھڑکن رک جاتی ہے؟ الحمدللہ کہنے کی حکمت کا تحقیقی جائزہ
سوال: جلیل القدر ادیب اور داعی، مولانا محمد یوسف صدیقی ندوی مدّ ظلّہ العالیٰ کی جانب سے درجِ ذیل استفسار موصول ہوا ہے:
السلام علیکم – فضیلت مآب ڈاکٹر صاحب، ایک سوال کا تحقیقی جواب مطلوب ہے، کیا چھینک آتی ہے تو دل کی دھڑکن بند ہو جاتی ہے؟ الحمد للّٰہ کہنے کی کیا حکمت ہے؟
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، جناب مولانا يوسف صاحب،
آپ کا سوال بظاہر ایک طبی مسئلے سے متعلق ہے، مگر درحقیقت یہ علمی دیانت، دینی ذمہ داری اور منہجِ تحقیق کے ایک اساسی اصول سے مربوط ہے۔ وہ اصول یہ ہے کہ انسان، بالخصوص وہ جو علم کی نسبت رکھتا ہو، صرف وہی بات کہے جس کا اسے علم ہو، اور جس امر میں علم نہ ہو اس میں توقف اختیار کرے۔ قرآنِ حکیم کا صریح حکم ہے: "وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ”، اور مزید فرمایا: "أَنْ تَقُولُوا عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ”۔ اس بنا پر بلا تحقیق کسی امر کو دین یا سائنس کی طرف منسوب کرنا محض فکری لغزش نہیں بلکہ اخلاقی و شرعی مواخذے کا موجب بھی ہو سکتا ہے۔
اسلامی روایت میں "لا أدري” کہنا کم علمی نہیں بلکہ کمالِ علم کی علامت سمجھا گیا ہے۔ ائمۂ سلف نے اسی احتیاط کو شعار بنایا۔ اس پس منظر میں یہ بات کہ "چھینک کے وقت دل کی دھڑکن چند لمحوں کے لیے رک جاتی ہے” ایک ایسی مشہور مگر غیر مصدقہ بات ہے جسے تحقیق کے معیار پر پرکھنا ضروری ہے۔
طبی اعتبار سے عطاس (چھینک) ایک طبعی اور حفاظتی میکانزم ہے جو اللہ تعالیٰ نے انسانی جسم میں نظامِ تنفس کی تطہیر کے لیے رکھا ہے۔ اس کے ذریعے مضر ذرات اور اضافی رطوبات خارج ہو جاتی ہیں۔ اس عمل کے دوران نہ قلبی نظام موقوف ہوتا ہے اور نہ حیاتیاتی اعضاء معطل ہوتے ہیں۔ بلکہ بعض طبی مشاہدات کے مطابق بعض افراد میں، جنہیں ضربانِ قلب کی بے ترتیبی لاحق ہو، چھینک کے دوران پیدا ہونے والا شدید ہوائی دباؤ وقتی طور پر دل کی دھڑکن کو منظم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ لہٰذا یہ دعویٰ کہ دل رک جاتا ہے، سائنسی طور پر ثابت نہیں، اور اسے بیان کرنا درست نہیں۔
اب اس کے دینی پہلو پر غور کیجیے۔ شریعتِ مطہرہ نے عطاس کو ایک محمود امر قرار دیا ہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "إن الله يحب العطاس ويكره التثاؤب…” (رواہ البخاری)، یعنی اللہ تعالیٰ چھینک کو پسند فرماتا ہے اور جماہی کو ناپسند کرتا ہے۔ مزید ارشاد فرمایا: "إذا عطس أحدكم فليقل الحمد لله…” (رواہ البخاری)، اور صحیح مسلم میں ہے کہ اگر وہ الحمد للہ کہے تو اسے جواب دو، اور اگر نہ کہے تو جواب نہ دو۔ سنن ترمذی کی روایت کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام کو جب روح دی گئی تو انہیں چھینک آئی، انہوں نے کہا: "الحمد للہ”، تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: "یرحمک اللہ”۔
ان نصوص سے واضح ہوتا ہے کہ عطاس ایک نعمت ہے، اور "الحمد للہ” کہنا اس نعمت پر شکر اور اعترافِ ربوبیت ہے۔ اسلام انسان کو محض مادی وجود نہیں سمجھتا بلکہ اسے عبدِ رب قرار دیتا ہے، جس کی ہر حالت، حتیٰ کہ جسمانی افعال بھی، مقامِ ذکر و شکر بن سکتے ہیں۔ چھینک کے بعد حمد کہنا دراصل اس امر کا اعلان ہے کہ صحت و سلامتی کا ہر پہلو اللہ کی عطا ہے۔ پھر دوسرے مسلمان کا "یرحمک اللہ” کہنا باہمی رحمت اور اخوت کی تجدید ہے، اور جواب میں "یہدیکم اللہ ویصلح بالکم” کہنا دعا اور خیر خواہی کا اظہار۔ یوں ایک حیاتیاتی عمل روحانی اور سماجی معنویت اختیار کر لیتا ہے۔
فلسفیانہ اعتبار سے یہ تعلیم انسان کو اس حقیقت سے آشنا کرتی ہے کہ کائنات کا ہر نظام، خواہ وہ کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو، ارادۂ الٰہی کے تحت ہے۔ بندہ جب "الحمد للہ” کہتا ہے تو وہ اپنے وجود کی محتاجی اور رب کی ربوبیت کا اقرار کرتا ہے۔ یہی عبودیت کی روح ہے۔
واللہ اعلم بالصواب۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی