موجودہ دور ایک ترقی پذیر اور ایک تعلیم یافتہ دور ہے آدم علیہ السلام سے لے کر آج تک تاریخی انسانی نے انسان کی اتنی کامیابی نہیں دیکھی ہوگی جو آج دیکھ رہی ہے آسمان کو چھوتی فلک نما خوبصورت عمارتیں، زمین پر رینگتی چمچماتی گاڑیاں، آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی خوبصورت لباس، غرض انسانی زندگی کے لیے درپیش تمام مسائل کا حل کر لیا گیا ہے حتی کہ اپنے علم کی بنیاد پر انسان نے پرندوں کی طرح آسمان میں اڑنا سیکھ لیا مچھلیوں کی طرح سمندر میں غوطہ لگانا سیکھ لیا اور چاند کے علاوہ کائنات کے مختلف سیاروں پر کمندیں ڈال کر مسلسل جدوجہد میں لگا ہوا ہے مگر باوجود اس کے آج کا انسان پریشان حال اور مصیبت زدہ نظر آتا ہے موت کے علاوہ تمام امراض کی دوا پانے کے باوجود آج کا انسان روحانی سکون اور اطمینان سے خالی نظر اتا ہے کاغذ کے چند ٹکڑوں کے لیے اور زمین کے چھوٹے سے حصے پر قبضہ جمانے کے لیے ایک دوسرے پر بے دریغ ظلم و زیادتی کر رہا ہے اور ایک دوسرے کا خون بہا رہا ہے جسے دیکھ کر انسانیت کی روح کانپ جاتی ہے جس سے یہ بات تو واضح ہو جاتی ہے کہ صرف علم حاصل کر لینے سے آدمی با اخلاق یا مہذب نہیں بن جاتا آدمی با اخلاق اور مہذب اس وقت بنتا ہے جب وہ انبیاء کرام علیہم السلام کے طریقے پر کاربند ہو جس شخص نے اللہ کے پیارے انبیاء کرام کے طریقے کو چھوڑ دیا وہ گمراہ ہو جائے گا۔
مذہب اسلام کی پاکیزہ تعلیمات
مذہب اسلام کی ہما جہت خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ ہے کہ مذہب اسلام کی تعلیمات اور احکامات ایسی بے نظیر اور بے مثال ہیں کہ جو نہ صرف مسلمانوں کی راہنمائی کرتے ہیں بلکہ اس کی تعلیمات کے سائے تلے رہ کر غیر مسلم بھی ایک ہشاش بشاش اور خوش و خرم زندگی گزار سکتے ہیں موجودہ دور میں بالخصوص ہمارے ملک کے جو اندرونی حالات چل رہے ہیں، جو نفرت کا بیچ بویا جا رہا ہےاور دین و دھرم کے نام پر ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے لے کر قتل و غارت گری جیسے جرائم انجام دیے جا رہے ہیں، بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
ان نازک حالات میں ہمارے لیے سب سے بہترین حل اور مداوا یہ ہے کہ ہم اپنے مذہب اسلام کی تعلیمات پر اور سنت رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم پر مکمل عمل کرنے کی کوشش کریں اسی میں ہماری نجات ہے اور اسی میں ہماری کامیابی کا راز پنہاں ہے
انہی اسلامی تعلیمات میں مذہب اسلام کی ایک بہترین تعلیم اپنی زبان کو قابو میں رکھ کر اس کا صحیح استعمال کرنا ہے
حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ میں نے ایک مرتبہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا
قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , مَا النَّجَاةُ؟ قَالَ: ” أَمْسِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ وَلْيَسَعْكَ بَيْتُكَ وَابْكِ عَلَى خَطِيئَتِكَ ” ((, قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَن))ٌ.
عقبہ بن عامر رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! نجات کی کیا صورت ہے؟ آپ نے فرمایا: ”اپنی زبان کو قابو میں رکھو، اپنے گھر کی وسعت میں مقید رہو اور اپنی خطاؤں پر روتے رہو
صحيح الترمذي 2406
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بہترین تعلیم دی کہ کوئی بندہ جنت میں جانے کا خواہش مند ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنی زبان سے کسی مسلمان بھائی یا بہن کو تکلیف نہ پہنچائے دوسری حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
إِذَا أَصْبَحَ ابْنُ آدَمَ , فَإِنَّ الْأَعْضَاءَ كُلَّهَا تُكَفِّرُ اللِّسَانَ، فَتَقُولُ: اتَّقِ اللَّهَ فِينَا فَإِنَّمَا نَحْنُ بِكَ فَإِنِ اسْتَقَمْتَ اسْتَقَمْنَا وَإِنِ اعْوَجَجْتَ اعْوَجَجْنَا
”انسان جب صبح کرتا ہے تو اس کے سارے اعضاء زبان کے سامنے اپنی عاجزی کا اظہار کرتے ہیں اور کہتے ہیں: تو ہمارے سلسلے میں اللہ سے ڈر اس لیے کہ ہم تیرے ساتھ ہیں اگر تو سیدھی رہی تو ہم سب سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم سب بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے
صحيح الترمذي 2407
عام طور پر دو مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور عداوت پڑتی ہے تو سب سے پہلے اس کی شروعات زبان سے ہوتی ہے مذہب اسلام نے فتنہ و فساد کی جڑ ہی کو ختم کر دیا فرمایا کہ تم اپنی زبانوں کو قابو میں رکھا کرو ،
دیکھا جائے تو یہ بات سننے میں بڑی عام سی بات معلوم ہوتی ہے کہ زبان کو قابو میں رکھنا چاہیے حالانکہ غور کریں تو پتہ چلے گا کہ اس پر عمل کرنا بہت دشوار اور کٹھن ہے نادان ان پڑھ سے لے کر پڑھے لکھے سورما بھی زبان کی حفاظت کرنے میں چوک جاتے ہیں اور اپنی زبان کا بے جا اور غلط استعمال کر کے اپنے خویش و اقارب اور جملہ تمام مسلمانوں کو تکلیف پہنچاتے ہیں اسی لیے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو جنت کے ضمانت دی جو اپنی زبان اور ہاتھ اور پیر سے اپنے کسی مسلمان بھائی کو تکلیف نہ پہنچائے
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا
مَنْ يَضْمَنْ لِي مَا بَيْنَ لَحْيَيْهِ، وَمَا بَيْنَ رِجْلَيْهِ أَضْمَنْ لَهُ الْجَنَّةَ”.
میرے لیے جو شخص دونوں جبڑوں کے درمیان کی چیز (زبان) اور دونوں ٹانگوں کے درمیان کی چیز (شرمگاہ) کی ذمہ داری دیدے میں اس کے لیے جنت کی ذمہ داری دیتا ہوں
صحيح البخاري ،6474
اور ایک مقام پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
:” الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالْمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ”.
مسلمان وہ ہے جو مسلمانوں کو اپنی زبان اور ہاتھ سے (تکلیف پہنچنے سے) محفوظ رکھے اور مہاجر وہ ہے جو ان چیزوں سے رک جائے جس سے اللہ نے منع کیا ہے۔“
صحيح البخاري 6484
احترام مسلم کا اندازہ اپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ حجت الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی عزت وہ ناموس کی حفاظت کرنے کو اسی طرح قرار دیا جس طرح مسلمان خانہ کعبہ یعنی بیت اللہ کا احترام کرتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا
فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ، وَأَمْوَالَكُمْ، وَأَعْرَاضَكُمْ، وَأَبْشَارَكُمْ، عَلَيْكُمْ حَرَامٌ كَحُرْمَةِ يَوْمِكُمْ هَذَا، فِي شَهْرِكُمْ هَذَا، فِي بَلَدِكُمْ هَذَا،
”پھر تمہارا خون، تمہارے مال، تمہاری عزت اور تمہاری کھال تم پر اسی طرح حرمت والے ہیں جس طرح اس دن کی حرمت اس مہینے اور اس شہر میں ہے۔
صحيح البخاري ، 7078
اللہ اکبر احترام مسلم کو اتنی بڑی اہمیت اور فضیلت دی گئی مگر افسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے پیارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیاری تعلیمات پر عمل پیرا ہو کر آپس میں اتحاد اور یک جہتی کا مظاہرہ کرنے کی بجائے آج ہمارا عمل اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اخلاقی تعلیمات کے بالکل برعکس نظر آتا ہے
کہنے کو ہم نمازی ہیں، روزے دار ہیں، زکوۃ اور صدقہ خیرات کرنے والے ہیں، اور حاجی بھی ہیں مگر افسوس ہے کہ حقوق العباد میں ہم بہت کوتاہ ہیں بالخصوص اپنے مسلمان بھائیوں کے تیں اپنی زبان کا ہم بہت غلط استعمال کرتے ہیں، زبان کا غلط استعمال کرنا تو کجا ہم میں سے بہت سے پڑھے لکھے جاہل بھی ہیں جو امت مسلمہ کو زک پہنچا رہے ہیں جسے دیکھ کر لگتا ہے کہ ہم مسلمانوں کا ایک دوسرے کے خلاف سازشیں کرنا ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا، ایک دوسرے کی ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کرنا ، ہمارا اخلاقی شیوا بن گیا ہم میں سے بہت سی تیس مارخاں اور سورما ایسے بھی ہیں جو دین دھرم کا چوبا اوڑھ کر قوم ملت کی خدمت کے نام پر معصوم عوام سے لاکھوں کروڑوں روپے وصول کر کے عوام کی محنت کی کمائی کو اپنی ذاتی دشمنیوں پر خرچ کر رہے ہیں، امت مسلمہ کی محنت کی کمائی کو ذاتی دشمنی نبھانے کے لیے پولیس کو رشوت دی جا رہی ہے وکیلوں کی فیس ادا کی جا رہی ہے جب کہ امام کائنات
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازی اور روزہ دار ہونے کے باوجود اس انسان کو جہنمی قرار دیا جو اپنے پڑوسی یا کسی مسلمان کو تکلیف یا اذیت پہنچایے ،فرمایا
” وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ وَاللَّهِ لَا يُؤْمِنُ” قِيلَ: وَمَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:” الَّذِي لَا يَأْمَنُ جَارُهُ بَوَايِقَهُ
واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ واللہ! وہ ایمان والا نہیں۔ عرض کیا گیا کون: یا رسول اللہ؟ فرمایا وہ جس کے شر سے اس کا پڑوسی محفوظ نہ ہو
صحيح البخاري ، 6016
مزید احادیث ملاحظہ فرمالیں کہ
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بے زبان اور معصوم جانور کو تکلیف پہنچانے پر بھی آپ نے جہنم کی سخت وعید سنائی فرمایا ،
يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ كَثْرَةِ صَلَاتِهَا، وَصِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، غَيْرَ أَنَّهَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ: ” هِيَ فِي النَّارِ”، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّ فُلَانَةَ يُذْكَرُ مِنْ قِلَّةِ صِيَامِهَا، وَصَدَقَتِهَا، وَصَلَاتِهَا، وَإِنَّهَا تَصَدَّقُ بِالْأَثْوَارِ مِنَ الْأَقِطِ، وَلَا تُؤْذِي جِيرَانَهَا بِلِسَانِهَا، قَالَ:” هِيَ فِي الْجَنَّةِ”
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے بارگاہ نبوت میں عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت کثرت سے نماز، روزہ اور صدقہ کرنے میں مشہور ہے لیکن وہ اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو ستاتی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ جہنمی ہے پھر اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فلاں عورت نماز، روزہ اور صدقہ کی کمی میں مشہور ہے وہ صرف پنیر کے چند ٹکڑے صدقہ کرتی ہے لیکن اپنی زبان سے اپنے پڑوسیوں کو نہیں ستاتی فرمایا وہ جنتی ہے۔
احمد9675 و ابن حبام5764
اسلامی تعلیمات اس بات کا حکم دیتی ہیں کہ آدمی اپنی زبان سے خیر یا بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے اسی میں اس کی نجات ہے فرمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے
مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيُكْرِمْ ضَيْفَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ، وَمَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَلْيَقُلْ خَيْرًا أَوْ لِيَصْمُتْ”.
جو شخص اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے اپنے مہمان کی عزت کرنی چاہیئے اور جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اسے چاہئے کہ وہ صلہ رحمی کرے، جو شخص اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اسے چاہیئے کہ اچھی بات زبان سے نکالے ورنہ چپ رہے۔“
صحیح بخاری 6138
گویا مفہوم مخالف یہ نکلا کہ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کو اذیت یا تکلیف پہنچائیے تو وہ شخص مومنوں کی صف میں شامل نہیں ہو سکتا حتی کہ اپنے کسی مسلمان بھائی کو اذیت اور تکلیف یا برا بھلا کہنے پر اپ صلی اللہ علیہ وسلم اتنا ناراض ہویے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشہور صحابی رسول حضرت ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو بھی سخت تنبیہ فرمائی ،
فرمایا
: رَأَيْتُ أَبَا ذَرٍّ الْغِفَارِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَعَلَيْهِ حُلَّةٌ وَعَلَى غُلَامِهِ حُلَّةٌ، فَسَأَلْنَاهُ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي سَابَبْتُ رَجُلًا فَشَكَانِي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَعَيَّرْتَهُ بِأُمِّهِ، ثُمَّ قَالَ:” إِنَّ إِخْوَانَكُمْ خَوَلُكُمْ، جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلَا تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، فَإِنْ كَلَّفْتُمُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ فَأَعِينُوهُمْ
میں نے ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کے بدن پر بھی ایک جوڑا تھا اور ان کے غلام کے بدن پر بھی اسی قسم کا ایک جوڑا تھا۔ ہم نے اس کا سبب پوچھا تو انہوں نے بتلایا کہ ایک دفعہ میری ایک صاحب (یعنی بلال رضی اللہ عنہ سے) سے کچھ گالی گلوچ ہو گئی تھی۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میری شکایت کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تم نے انہیں ان کی ماں کی طرف سے عار دلائی ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، تمہارے غلام بھی تمہارے بھائی ہیں اگرچہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تمہاری ماتحتی میں دے رکھا ہے۔ اس لیے جس کا بھی کوئی بھائی اس کے قبضہ میں ہو اسے وہی کھلائے جو وہ خود کھاتا ہے اور وہی پہنائے جو وہ خود پہنتا ہے اور ان پر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے۔ لیکن اگر ان کی طاقت سے زیادہ بوجھ ڈالو تو پھر ان کی خود مدد بھی کر دیا کرو۔
صحیح بخاری۔ 2545
آخر میں رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی زبان کو قابو میں رکھنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت و شفقت سے پیش آنے کی توفیق عطا فرمائے ،آمین یا رب العالمین_
✒️ ڈی محمد خالد جامعی سلفی ندوی
ہری ہر ، کرناٹک
استاذ جامعہ محمدیہ عربیہ رائیدرگ
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !