حریت رہنما شبیر احمد شاہ

سپریم کورٹ نے کشمیری حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو دہشت گردی کی مالی معاونت کے مقدمے میں ضمانت دے دی

نئی دہلی: بھارت کی سپریم کورٹ نے جمعرات کو کشمیری حریت رہنما شبیر احمد شاہ کو 2017 کے دہشت گردی کی مالی معاونت (ٹیرر فنڈنگ) کے مقدمے میں ضمانت دے دی۔ عدالت نے یہ فیصلہ مقدمے کی سماعت میں غیر معمولی تاخیر کو بنیاد بناتے ہوئے سنایا۔ شبیر شاہ تقریباً سات برس سے حراست میں تھے۔

یہ فیصلہ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس سندیپ مہتا پر مشتمل بنچ نے سنایا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے قانون (یو اے پی اے) کے تحت چلنے والے اس مقدمے میں سماعت کی رفتار انتہائی سست رہی ہے۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے


مقدمے کی کارروائی انتہائی سست رفتار

عدالت نے نوٹ کیا کہ شبیر شاہ کو 4 جون 2019 کو گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے مسلسل جیل میں ہیں۔ تاہم مقدمے کی پیش رفت نہایت سست رہی۔

قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) کی طرف سے پیش کیے گئے 248 گواہوں میں سے اب تک صرف 34 گواہوں کے بیانات ہی قلم بند کیے جا سکے ہیں۔

سماعت کے دوران عدالت نے این آئی اے کے وکیل سے کہا:

“تاخیر ایک ایسا پہلو ہے جس کی وضاحت نہیں کی جا سکتی۔ یہ دیکھنے سے قطع نظر کہ تاخیر کا ذمہ دار کون ہے، لیکن ملزم مسلسل حراست میں ہے۔”


عدالت میں پیش کیے گئے دلائل

شبیر شاہ کی جانب سے سینئر وکیل کولن گونسالویس پیش ہوئے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ 74 سالہ رہنما اپنی سیاسی زندگی میں مجموعی طور پر 38 برس مختلف ادوار میں حراست میں گزار چکے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ مقدمے میں لگائے گئے بیشتر الزامات 1990 کی دہائی کی تقاریر سے متعلق ہیں اور مقدمے کے جلد مکمل ہونے کے امکانات بھی کم دکھائی دیتے ہیں۔

دوسری جانب این آئی اے کے وکیل سدھارتھ لوتھرا نے ضمانت کی سخت مخالفت کی۔ انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ شبیر شاہ نے جموں و کشمیر میں علیحدگی پسند سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔

این آئی اے کے مطابق شبیر شاہ پر درج ذیل الزامات ہیں:

  • دہشت گردی کی مالی معاونت: حوالہ نیٹ ورک اور لائن آف کنٹرول کے پار تجارت کے ذریعے فنڈز حاصل کرنا
  • اشتعال انگیزی: پرتشدد مظاہروں اور پتھراؤ کی ترغیب دینا
  • بیرونی روابط: پاکستان میں موجود شدت پسند رہنماؤں سے رابطے

ضمانت سخت شرائط کے ساتھ

سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ شبیر شاہ کی رہائی سخت شرائط کے تحت ہوگی تاکہ وہ گواہوں پر اثر انداز نہ ہوں اور کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہ ہوں۔

عدالت کی جانب سے تفصیلی تحریری حکم نامہ جلد جاری کیا جائے گا جس میں ممکنہ طور پر سفر اور عوامی بیانات پر پابندیاں شامل ہوں گی۔


مقدمے کا پس منظر

یہ مقدمہ 2017 میں شروع ہونے والی ایک تحقیقات سے متعلق ہے جس میں این آئی اے نے 12 افراد کو حکومت ہند کے خلاف سازش اور دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزامات میں نامزد کیا تھا۔

شبیر شاہ جموں کشمیر ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی (جے کے ڈی ایف پی) کے سربراہ ہیں۔ انہیں اس سے قبل جون 2024 میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے ایک منی لانڈرنگ کیس میں قانونی ضمانت بھی مل چکی ہے۔

سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد شبیر شاہ کی تہاڑ جیل سے رہائی کی راہ ہموار ہو گئی ہے، جہاں وہ گزشتہ سات برس سے بطور زیرِ سماعت قیدی قید تھے۔

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے