مدارس کے سفراء اور زکات کا کمیشن: شرعی حکم اور موجودہ نظام پر ایک اہم سوال
سوال: مولانا محمد يوسف صديقى ندوى مد ظله كى جانب سے درجِ ذیل استفسار آیا ہے:
فضیلت مآب ڈاکٹر صاحب ۔۔۔۔ السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ – ایک سوال کا جواب مطلوب ہے ، کیا مدارس کے سفراء چندہ کرنے والے “ عاملین زکات “ میں داخل ہیں ؟ کیا کمیشن لے کر چندہ کرنا درست ہے ؟ اس سلسلہ میں شرعی حکم کیا ہے ؟ جو سفراء 25، 30 فیصد زکات میں سے کمیشن لیتے ہیں ، کیا وہ جائز ہے ؟ ارباب مدارس کہتے ہیں کہ اگر انہیں کمیشن نہیں دیا جاۓ گا وہ چندہ کیوں کر کریں گے ؟
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
جواب:
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
زکات اور صدقات اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقرر کردہ وہ مقدس مالی حقوق ہیں جو براہِ راست مستحقین یعنی غریب، مسکین، محتاج اور دیگر اہلِ حق کے لیے مخصوص ہیں۔ یہ محض چندہ یا عطیہ نہیں بلکہ فقہاء کے نزدیک واجب اور شرعی ذمہ داری ہیں۔ ہر مسلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود کے مطابق اپنے مال کا حصہ ان مستحقین تک پہنچائے۔ یہ مال غریب اور محتاج مسلمانوں کا حق ہے اور ان کے لیے مخصوص ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اسے جمع کرنے یا خرچ کرنے والے افراد کو اس میں ذاتی مفاد نہیں لینا چاہیے۔ زکات اور صدقات کا اصل مصرف معاشرتی انصاف قائم کرنا، فقر و مسکینی کو کم کرنا اور معاشرے کے کمزور طبقات کی کفالت کرنا ہے۔
بدقسمتی سے موجودہ دور میں ہندوستان میں کوئی مضبوط اسلامی نظام نہیں ہے جو زکات اور صدقات کے جمع و تقسیم کا ذمہ دار ہو۔ اس خلا کی وجہ سے بڑے اور چھوٹے مدارس خود زکات اور صدقات جمع کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم، یہ نظام اکثر غیر شفاف اور مقابلتی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ متعدد چھوٹے مدارس اور عاملین زکات ۲۵ تا ۳۰ فیصد تک کمیشن لے کر چندہ جمع کرتے ہیں۔ اس عمل میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ مستحقین کا حق ضائع ہو رہا ہے۔ زکات اور صدقات کو کمیشن کے ذریعے جمع کرنا دراصل مستحقین کے مال کو ذاتی فائدے کے لیے استعمال کرنے کے مترادف ہے، جو کہ شرعاً ناجائز اور اخلاقی اعتبار سے بھی غلط ہے۔ عاملین زکات کا کام صرف اخلاص اور خدمت کے جذبے کے ساتھ مال کو مستحقین تک پہنچانا ہے، نہ کہ اس سے ذاتی فائدہ اٹھانا۔
یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ موجودہ مدارس کا سارا نظام صرف چندہ جمع کرنے کے لیے انتہائی منظم اور مؤثر بنایا گیا ہے، لیکن اس میں غریب لوگوں کی براہِ راست رسائی تقریباً ناممکن ہے۔ عام لوگ اپنے حق کے لیے زکات وصول نہیں کر سکتے کیونکہ مدارس کے سفراء اور عاملین جمع شدہ رقم پر مکمل کنٹرول رکھتے ہیں۔ مدارس کے درمیان رقابت اور مسابقت کی وجہ سے کمیشن کا طریقہ وضع کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ چندہ جمع کیا جا سکے۔ اس نظام میں مستحقین کے حقوق پس منظر میں رہ جاتے ہیں اور صرف مدارس یا عاملین کو مالی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ نتیجتاً، وہ لوگ جو اصل میں زکات اور صدقات کے مستحق ہیں، اپنی جائز ضرورتیں پوری نہیں کر پاتے۔
اس موجودہ صورتِ حال میں اہلِ علم اور معتبر مدارس کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اس نظام کو شرعی اور منصفانہ اصولوں کے مطابق ڈھالیں۔ بڑے اور معتبر مدارس جیسے دارالعلوم دیوبند اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کو چاہیے کہ صرف وہی زکات اور صدقات جمع کریں جو اصل شرعی اہلیت کے مطابق مستحقین تک پہنچ سکے۔ جمع شدہ رقم کا کم از کم نصف حصہ براہِ راست غریب اور مسکین مسلمانوں میں تقسیم کیا جائے تاکہ ان کا حق ادا ہو۔ باقی مال، جو مدارس اور دیگر اہلِ حق کے لیے مخصوص ہو، اسی میں استعمال کیا جائے۔ دیگر چھوٹے مدارس یا اداروں کو زکات جمع کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے تاکہ مال کا صحیح اور شفاف استعمال ممکن ہو اور مستحقین کے حقوق محفوظ رہیں۔ عاملین زکات کے لیے کسی بھی قسم کا کمیشن یا ذاتی فائدہ شرعاً جائز نہیں ہے؛ ان کا کام صرف اخلاص اور خدمت کے جذبے کے ساتھ مال جمع کرنا اور مستحقین تک پہنچانا ہونا چاہیے۔
زکات اور صدقات کا اصل مصرف یاد رکھیں، یہ مدارس کی مالی ضروریات کے لیے نہیں بلکہ مستحقین کے حقوق کے لیے ہیں۔ کمیشن لینا یا جمع کرنے والوں کا ذاتی فائدہ مستحقین کے حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔ موجودہ مسابقتی چندہ جمع کرنے والے نظام کو ختم کر کے بڑے اور معتبر مدارس کو ذمہ دار بنانا سب سے مناسب اور شرعی حل ہے۔ اس سے نہ صرف مستحقین کا حق محفوظ ہوگا بلکہ اسلامی معاشرتی انصاف قائم ہوگا اور مدارس اپنی شرعی ذمہ داریوں کو شفاف اور مؤثر طریقے سے ادا کر سکیں گے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی