ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنائی کو نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا
ایران میں قیادت کی تبدیلی: مجتبیٰ خامنائی نئے سپریم لیڈر منتخب
ایران میں جاری جنگی صورتحال کے دوران ایک اہم سیاسی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ایران کی مجلسِ خبرگان نے مجتبیٰ خامنائی کو ملک کا نیا سپریم لیڈر منتخب کر لیا ہے۔ یہ فیصلہ ان کے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد کیا گیا۔
رپورٹس کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری 2026 کو تہران میں ایک فضائی حملے میں مارے گئے تھے۔ اس واقعے کے بعد ایران کی اعلیٰ مذہبی قیادت کو فوری طور پر نیا سپریم لیڈر منتخب کرنا پڑا۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
ایرانی سرکاری میڈیا نے 9 مارچ 2026 کو اس فیصلے کا اعلان کیا اور بتایا کہ مجلسِ خبرگان کے ہنگامی اجلاس میں مجتبیٰ خامنہ ای کو واضح اکثریت سے منتخب کیا گیا۔
ایران کے تیسرے سپریم لیڈر
مجتبیٰ خامنہ ای 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد ایران کے تیسرے سپریم لیڈر بن گئے ہیں۔
ان سے پہلے:
- آیت اللہ روح اللہ خمینی ایران کے پہلے سپریم لیڈر تھے۔
- ان کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای نے 1989 سے 2026 تک یہ عہدہ سنبھالا۔
مجتبیٰ خامنہ ای کون ہیں؟
مجتبیٰ خامنہ ای کی پیدائش 8 ستمبر 1969 کو ایران کے شہر مشہد میں ہوئی۔ وہ سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے دوسرے بیٹے ہیں۔
ان کے بارے میں چند اہم معلومات:
- وہ ایک شیعہ مذہبی عالم ہیں۔
- انہیں ایران کے قدامت پسند حلقوں کے قریب سمجھا جاتا ہے۔
- ان کے اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے ساتھ قریبی روابط بتائے جاتے ہیں۔
- وہ زیادہ تر پسِ پردہ سیاست میں فعال رہے اور عوامی سطح پر کم نظر آئے۔
- امریکہ نے 2019 میں ان پر پابندیاں بھی عائد کی تھیں۔
باپ سے بیٹے تک اقتدار کی منتقلی
ایران کی تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ سپریم لیڈر کا عہدہ براہِ راست باپ سے بیٹے کو منتقل ہوا ہے۔
کچھ ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ ایران کے طاقتور اداروں اور قدامت پسند حلقوں کی حمایت سے ممکن ہوا۔ تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ نظام موروثی سیاست کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
عالمی ردِعمل اور اثرات
مجتبیٰ خامنہ ای کی تقرری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
- ایرانی حکام نے اس فیصلے کو ملکی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔
- بعض مغربی رہنماؤں نے اس فیصلے پر تنقید کی ہے۔
- مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر سیاسی اور معاشی خدشات بھی بڑھ گئے ہیں۔
آگے کیا ہوگا؟
ماہرین کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای کو اقتدار سنبھالتے ہی کئی بڑے چیلنجز کا سامنا ہوگا، جن میں:
- جاری جنگی صورتحال
- داخلی سیاسی دباؤ
- عالمی پابندیاں اور سفارتی کشیدگی
اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ ایران کی قیادت کس طرح کرتے ہیں اور موجودہ بحران سے ملک کو کیسے نکالتے ہیں۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی