سکونِ قلب کی تلاش

فتنوں کے شور میں سکونِ قلب کی تلاش: دنیا سے بے رغبتی اور رب کی طرف رجوع

جہاں کہیں نگاہ ڈالو، پھیلا ہوا شر اور بھڑکتا ہوا فساد دکھائی دیتا ہے؛ جہاں بھی قیام کرو اور جہاں بھی سفر کرو، فتنوں کی یلغار تمہارا استقبال اس طرح کرتی ہے جیسے بےقرار سمندر کی نہ تھمنے والی موجیں، اور جنگیں یکے بعد دیگرے اس انداز سے آتی ہیں گویا وہ ایک ایسا مقدر ہوں جو اس زمین کا دامن چھوڑنے پر آمادہ ہی نہیں۔
پس اس دنیا سے منہ موڑ لو پورے عزم کے ساتھ، اور اس سے وقارِ یقین کے ساتھ کہو: تم پر سلام ہو؛ نہ میں تم میں سے ہوں اور نہ تم مجھ میں سے ہو۔ اپنے دل میں خلیل کے اس قول کی تلاوت کرو: "میں ڈوب جانے والوں سے محبت نہیں رکھتا”، کیونکہ جو غروب ہو جائے وہ محبت کے لائق نہیں، اور جو فنا پزیر ہو وہ دل کا وطن نہیں بن سکتا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے


اپنے لیے ایک اور جہان تعمیر کرو، ایسا جہان جسے آنکھیں نہ پا سکیں مگر بصیرت اسے پا لے؛ ایک عالم جسے تم اپنے باطن کی گہرائیوں میں اینٹ بہ اینٹ استوار کرو: ایک اینٹ صبر کی، ایک اینٹ یقین کی، اور ان پر بلند امید کی چھت۔ اپنی ذات کی طرف اس طرح متوجہ ہو جاؤ جیسے عاشق اپنے محبوب کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور ایک باطنی اعتکاف اختیار کرو جس میں تم اپنے فکر کو اس کی آلائشوں سے پاک کرو، دل کو اس کی گرد سے صاف کرو، اور روح کو اس کی اولین صفا پر لوٹا دو، جب وہ خاک سے زیادہ افلاک سے قریب تھی۔
اس کے بعد لوگوں کے شور و غوغا کو اپنے لیے موجبِ اضطراب نہ بننے دو، نہ ان کے اختلافات کو، نہ ان حقیر متاعوں کو جن پر وہ جھگڑتے رہتے ہیں؛ یہ سب محض گزرتے ہوئے سائے ہیں، اور ایسا سراب جسے پیاسا پانی گمان کرتا ہے۔ اپنا اصل مقصد اپنے رب کی عبادت اور اس کی رضا کی جستجو کو بنا لو، اور عارفانہ خشوع اور مومنانہ یقین کے ساتھ یوں کہو:
"بے شک میں نے یکسو ہو کر اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا، اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔”
جب تم ایسا کرو گے تو جو کچھ تمہارے باطن میں مضطرب تھا وہ سکون پا جائے گا، جو بھڑکا ہوا تھا وہ تھم جائے گا، اور تم جان لو گے کہ اگرچہ دنیا کے کنارے ہنگامہ و آشوب سے لرزاں ہوں، دل کے اندر ایک ایسی وسعت باقی رہتی ہے جس میں ایسا امن بس سکتا ہے جسے کوئی جنگ مکدر نہیں کر سکتی، اور ایسی روشنی جلوہ گر رہتی ہے جسے کوئی فتنہ بجھا نہیں سکتا۔
تب تم پر منکشف ہوگا کہ نجات لوگوں سے بھاگنے میں نہیں، بلکہ ان سے بلند ہو جانے میں ہے؛ اپنی روح کو اس قدر رفعت بخشنے میں ہے کہ تم اشیاء کو ان کی اصل حقیقت میں دیکھ سکو: چھوٹی، خواہ وہ بڑی معلوم ہوں؛ فانی، خواہ وہ پائیدار دکھائی دیں۔ اور باقی رہتا ہے صرف تمہارے رب کا چہرہ، جو صاحبِ جلال و اکرام ہے۔

Dr Akram Nadwi

مزید خبریں:

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے