دبئی و ابوظہبی حملے

دبئی و ابوظہبی حملے: دو پاکستانی محنت کش جاں بحق، خاندان مالی بحران کا شکار

دبئی اور ابوظہبی میں حالیہ کشیدگی کے دوران ہونے والے حملوں میں دو پاکستانی محنت کش جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، جس سے ان کے خاندانوں پر غم اور شدید مالی دباؤ آ گیا ہے۔

Image

پہلا واقعہ سندھ کے ضلع جامشورو سے تعلق رکھنے والے 27 سالہ مظفر علی کا ہے۔ وہ چار سال پہلے قرض لے کر دبئی گئے تھے، جہاں وہ ڈرائیور اور مزدور کے طور پر کام کر رہے تھے۔ حال ہی میں انہوں نے اپنا قرض بھی ادا کر دیا تھا اور عید پر پہلی بار گھر آنے کی تیاری کر رہے تھے۔7 مارچ کو دبئی کے علاقے البرشا میں ایک ایرانی میزائل کو فضائی دفاع نے روکا، لیکن اس کا ملبہ نیچے گر گیا جس سے ان کی گاڑی متاثر ہوئی اور وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

Image

مظفر علی بچپن میں ہی یتیم ہو گئے تھے، اور اب ان کے تین کم عمر بچے، جن میں سب سے بڑا صرف 7 سال کا ہے، باپ کے سائے سے محروم ہو گئے ہیں۔ وہ اپنے گھر کے واحد کفیل تھے، اور اب خاندان کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔

دوسرا واقعہ خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں کے رہائشی 48 سالہ مرید زمان کا ہے، جو گزشتہ تقریباً 25 سال سے متحدہ عرب امارات میں بطور ڈرائیور کام کر رہے تھے۔ وہ پانچ بچوں کے والد تھے اور اپنے خاندان کا واحد سہارا تھے۔

Image

28 فروری کو ابوظہبی میں میزائل حملے کے دوران گرنے والے ملبے سے وہ بھی جاں بحق ہو گئے۔ ان کی میت 7 مارچ کو پاکستان لائی گئی اور اگلے دن انہیں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ان کے بھائی کے مطابق مرید زمان کا خواب تھا کہ وہ اپنے خاندان کی غربت ختم کریں اور کچے گھر کو پکا بنائیں، مگر جنگ نے ان کے تمام خواب ادھورے چھوڑ دیے۔

رپورٹس کے مطابق یہ حملے ایران کی جانب سے امریکہ اور اسرائیل کی کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے، جن میں خلیجی ممالک بھی متاثر ہوئے۔ ان حملوں میں متحدہ عرب امارات میں کم از کم چھ غیر ملکی شہری ہلاک ہوئے، جن میں پاکستانی، بنگلہ دیشی اور نیپالی محنت کش شامل ہیں۔

پاکستان کے لاکھوں مزدور خلیجی ممالک میں کام کرتے ہیں، اور اس طرح کے حالات ان کی زندگیوں اور روزگار کے لیے بڑا خطرہ بن جاتے ہیں۔متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ "جنگ کی قیمت ہمیشہ غریب مزدور ادا کرتے ہیں۔” پاکستانی حکام نے ان واقعات کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرہ خاندانوں کی مدد کا یقین دلایا ہے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے