سوڈان کی خانہ جنگی: آر ایس ایف کا خونی چہرہ، کمانڈر ابو لولو کی درندگی، الفاشر کا المیہ اور قتل عام کی لرزہ خیز ویڈیوز

کمانڈر ابو لولو

سوڈان کی جاری خانہ جنگی نے نہ صرف ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے بلکہ انسانی حقوق کی دنیا کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اکتوبر 2025 میں دارفور کے اہم شہر الفاشر (El Fasher) کے زوال نے اس المیے کو نئی شدت عطا کر دی، جہاں ریپڈ سپورٹ فورسز (RSF) نامی نیم فوجی گروپ نے ہزاروں شہریوں کو بے دردی سے قتل کر دیا۔ اس حملے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جن میں RSF کے ایک کمانڈر، جسے "ابو لولو” کہا جاتا ہے، نے زخمی اور معصوم لوگوں کو قتل کرتے ہوئے جشن منایا۔ کمانڈر ابو لولو کا یہ بیان کہ "میں رحم نہیں کر سکتا، ہمارا کام صرف قتل کرنا ہے”، سوڈان کی اس جنگ کی بے رحمی کی علامت بن گیا ہے۔ یہ رپورٹ بی بی سی، الجزیرہ، ہیومن رائٹس واچ، اور دیگر معتبر ذرائع کی تحقیقات پر مبنی ہے، جو شاہدوں، ویڈیوز، اور سیٹلائیٹ تصاویر سے تصدیق شدہ ہے۔

خانہ جنگی کا پس منظر: طاقت کی لڑائی اور نسلی صفائی

سوڈان کی یہ خانہ جنگی اپریل 2023 میں شروع ہوئی، جب سوڈانی مسلح افواج (SAF) کے سربراہ جنرل عبد الفتاح البرہان اور RSF کے کمانڈر محمد حمدان دگلو (حمیدتی) کے درمیان طاقت کی تقسیم پر جھگڑا ہو گیا۔ SAF، جو مرکزی فوج ہے، نے 2021 کے فوجی بغاوت کے بعد اقتدار سنبھالا تھا، جبکہ RSF ایک نیم فوجی گروپ ہے جو دارفور کی جنگ کے دوران جنجاweed ملیشیاؤں سے وجود میں آیا۔ جنجاweed، جو عرب قبیلوں پر مشتمل تھے، نے 2003 سے 2005 تک دارفور میں نسلی صفائی کی مہم چلائی، جس میں 3 لاکھ سے زائد لوگ مارے گئے اور 25 لاکھ بے گھر ہوئے۔ اقوام متحدہ نے اسے نسل کشی قرار دیا تھا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

2013 میں، سابق صدر عمر البشیر نے جنجاweed کو RSF میں تبدیل کر دیا تاکہ انہیں فوج میں ضم کیا جا سکے، لیکن حمیدتی نے اسے اپنا ذاتی دستہ بنا لیا۔ حمیدتی، جو دارفور کے عرب قبیلے رزیگات سے تعلق رکھتے ہیں، نے اپنی دولت سونے کی کانوں اور اونٹوں کی تجارت سے کمائی۔ RSF نے یمن کی جنگ میں سعودی اتحاد کے لیے کرائے کے سپاہی کے طور پر کام کیا، جہاں 40 ہزار ارکان نے حصہ لیا۔ 2023 کی جنگ میں RSF نے خرطوم پر قبضے کی کوشش کی، جس سے ملک دو حصوں میں تقسیم ہو گیا: SAF مشرقی سوڈان میں اور RSF دارفور میں۔

اس جنگ نے 1 لاکھ 50 ہزار سے زائد لوگوں کی جانیں لی ہیں، 12 ملین بے گھر ہوئے، اور 25 ملین کو شدید بھوک کا سامنا ہے۔ RSF پر نسلی صفائی، ریپ، لوٹ مار، اور بچوں کو بھرتی کرنے کا الزام ہے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق، RSF نے دارفور میں غیر عرب قبیلوں (جیسے ماسالیت اور زغاوہ) کو نشانہ بنایا، جو 2025 میں الفاشر کے حملے میں عیاں ہوا۔

الفاشر کا محاصرہ اور زوال: 18 ماہ کی تباہی

الفاشر، شمال دارفور کا دارالحکومت، SAF کا آخری مضبوط قلعہ تھا، جہاں 2 لاکھ 60 ہزار شہری، جن میں آدھے بچے تھے، محاصرے میں قید تھے۔ RSF نے مئی 2024 سے شہر کو گھیر رکھا تھا، جس سے امداد روک دی گئی اور ہسپتال بند ہو گئے۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک نے اکتوبر 2025 میں خبردار کیا کہ "نسلی بنیادوں پر بڑے پیمانے پر قتل عام کا خطرہ بڑھ رہا ہے”۔

26 اکتوبر 2025 کو RSF نے شہر پر قبضہ کر لیا، SAF کی پسپائی کے بعد۔ ییل یونیورسٹی کی ہیومینیٹرین ریسرچ لیب کی سیٹلائیٹ تصاویر سے ثابت ہوتا ہے کہ RSF نے گھر گھر تلاشی لی، شہر کی گلیوں میں انسانی لاشیں بکھیر دیں، اور خون کی ندیاں بہا دیں۔ سعودی ہسپتال، جو شہر کا آخری فعال ہسپتال تھا، RSF نے تباہ کر دیا، جہاں 460 مریض، ڈاکٹرز، اور ملازمین مارے گئے۔ ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق، یہ حملہ "بے دردی کا قتل عام” تھا۔ سوڈان ڈاکٹرز نیٹ ورک نے بتایا کہ RSF نے ہسپتال میں بیٹھے لوگوں کو گولی مار دی، بشمول زخمیوں اور بچوں کے۔

اس حملے میں کم از کم 1,500 شہری مارے گئے، جبکہ جوائنٹ فورسز (SAF کے اتحادی) نے 2,000 سے زائد کا دعویٰ کیا۔ ہزاروں لوگ شہر سے بھاگنے کی کوشش میں قتل ہوئے، جب RSF نے فرار ہونے والوں کو روک کر ان کی قبائلی شناخت پوچھی اور غیر عربوں کو قتل کر دیا۔ الجزیرہ کی رپورٹنگ کے مطابق، یہ حملے "نسلی صفائی” کا حصہ تھے، جو دارفور کی 2003 کی نسل کشی کی یاد دلاتے ہیں۔

ابو لولو: "الفاشر کا قصائی” اور اس کی بے رحمی کی ویڈیوز

ابو لولو، جس کا اصل نام الفاتح عبداللہ ادریس (Al-Fateh Abdullah Idris) ہے، RSF کا بریگیڈیئر جنرل ہے اور رزیگات قبیلے کے عوام راشد ذیلی قبیلے سے تعلق رکھتا ہے۔ وہ الفاشر حملے کا مرکزی کردار بنا، جہاں اس کی ویڈیوز نے دنیا کو ہلا دیا۔ بی بی سی ویریفائی اور سنٹر فار انفارمیشن ریزائلنس نے ان ویڈیوز کی تصدیق کی، جو RSF کے ارکان نے خود ریکارڈ کیں۔

  • پہلی ویڈیو (27 اکتوبر 2025): ایک زخمی شخص رحم کی بھیک مانگتا ہے، "میں تمہیں جانتا ہوں، چند دن پہلے ملا تھا۔” ابو لولو ہنستے ہوئے کہتا ہے، "میں رحم نہیں کر سکتا، ہمارا کام صرف قتل کرنا ہے”، اور پھر بندوق سے اسے گولی مار دیتا ہے۔ یہ ویڈیو الفاشر یونیورسٹی کے میڈیکل سکول کے قریب فلم ہوئی۔
  • دوسری ویڈیو (ٹک ٹاک لائیو، 28 اکتوبر 2025): ابو لولو دعویٰ کرتا ہے کہ اس نے 2,000 سے زائد لوگوں کو قتل کیا، بشمول بچوں اور عورتوں۔ وہ اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے، "بس مارو، کوئی رحم نہیں”، اور قتل کے بعد نعرے لگاتے اور رقص کرتے دکھائی دیتا ہے۔ ٹک ٹاک نے اس اکاؤنٹ کو بلاک کر دیا۔
  • تیسری ویڈیو: ابو لولو ایک اجتماعی قبر کے سامنے مسکراتا کھڑا ہے، جہاں درجنوں لاشیں پڑی ہیں، اور جلتے گاڑیوں کے پس منظر میں فخر سے پوز دیتا ہے۔ عینی شاہدوں کے مطابق، اس نے تین مقامات پر کم از کم 57 لوگوں کو قتل کیا۔

ان ویڈیوز میں RSF کے ارکان قتل کے بعد جشن مناتے ہیں – نعرے لگاتے، گانے گاتے، اور فتح کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے، جو مخالفین کو خوفزدہ کرتا ہے اور حامیوں کو متحرک۔ ہیومن رائٹس واچ کے جان باپٹسٹ گیلوپن کا کہنا ہے کہ RSF کی یہ بے خوفی ان کی جزوی سزا سے مستثنیٰ ہونے کی وجہ سے ہے۔

گرفتاری کا ڈرامہ: PR اسٹنٹ یا انصاف؟

30 اکتوبر 2025 کو RSF نے اعلان کیا کہ ابو لولو سمیت کئی ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، اور حمیدتی نے "اندرونی تحقیقات” کا حکم دیا۔ RSF کی ٹیلی گرام پر ویڈیو جاری کی گئی جس میں ابو لولو ہتھکڑیوں میں شالہ جیل لے جاتے دکھایا گیا۔ تاہم، یہ گرفتاری ایک "PR اسٹنٹ” ثابت ہوئی۔ 5 نومبر 2025 کو ابو لولو بابنوسا (Babanusa) میں ایک نئی ویڈیو میں نظر آیا، جہاں وہ آزادانہ طور پر کام کر رہا تھا۔ سوڈانی سوشل میڈیا پر #YouAreAllAbuLulu ہیش ٹیگ وائرل ہوا، جو RSF کی پوری قیادت پر تنقید کرتا ہے۔

حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری صرف عالمی دباؤ (جیسے UN کی پابندیوں کی دھمکی) کو کم کرنے کی کوشش تھی۔ الجزیرہ اور گارڈین کی رپورٹس کے مطابق، RSF نے پہلے ابو لولو سے انکار کیا، پھر گرفتاری کا دعویٰ کیا، جو ان کی روایتی حکمت عملی ہے – فیلڈ کمانڈروں کو الگ کر کے گروپ کی ساکھ بچانا۔

عالمی ردعمل: خاموشی اور مداخلت

عالمی برادری نے الفاشر کے قتل عام کی شدید مذمت کی۔ UN، US، EU، سعودی عرب، مصر، اور قطر نے RSF کو شہریوں کی حفاظت کا حکم دیا۔ US نے جنوری 2025 میں RSF کو نسل کشی کا مرتکب قرار دیا۔ تاہم، مداخلت متنازع ہے: متحدہ عرب امارات (UAE) پر RSF کو ہتھیار اور مالی مدد دینے کا الزام ہے، جس کی وجہ سے سوڈان نے ICJ میں کیس دائر کیا۔ X (سابقہ ٹوئٹر) پر UAE کے انفلوئنسرز نے RSF کی حمایت میں سوڈانی فوج اور شہریوں کو طعنے دیے، جیسے "ابو لولو تمہارے پیچھے آ رہا ہے”۔

حمیدتی نے امن کی کوششوں میں حصہ لیا، جیسے جدہ مذاکرات، لیکن RSF کی کارروائیاں جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں کیونکہ حمیدتی پر پابندیاں نہیں لگائی گئیں، جو جنگ بندی کی راہ میں رکاوٹ تھیں۔

انسانی المیہ: بھوک، بیماری، اور مستقبل کا اندھیرا

یہ جنگ صرف سیاسی نہیں، بلکہ انسانی بحران ہے۔ 10 ملین لوگ بے گھر، بھوک اور بیماریوں سے لڑ رہے ہیں۔ الفاشر کے بعد، ہزاروں لوگ تاویلا جیسے کیمپوں میں پناہ لے رہے ہیں، جہاں RSF حملے جاری ہیں۔ عیسائی شہریوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جنہیں زبردستی شادیاں یا مذہبی تبدیلی کی دھمکی دی جاتی ہے۔

شہریوں کی آوازیں، جیسے محمد زکریا کی، جو نے سوشل میڈیا پر اپنے uncles کی ہلاکت دیکھی، دل دہلا دینے والی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، "ہم نے الفاشر کے زوال کی رات ساری رات جاگ کر گزار دی، پھر ویڈیوز میں اپنے خاندان کو مرتے دیکھا۔”

انصاف کی راہ اور عالمی ذمہ داری

ابو لولو جیسی شخصیات اور RSF کی کارروائیاں سوڈان کی تباہی کی علامت ہیں۔ یہ جنگ افریقی براعظمی کو توڑ رہی ہے، اور عالمی خاموشی اسے مزید لمبی کر رہی ہے۔ ICC نے پہلے ہی جنجاweed کمانڈر علی کشیب کو سزا دی، اب حمیدتی اور RSF کو جواب دہ ہونا چاہیے۔ سوڈانی عوام کی آواز – ترقی، روزگار، اور انسانی حقوق – کو سننا ہوگا۔ فوری جنگ بندی، امداد کی رسائی، اور جنگی جرائم کی تحقیقات ضروری ہیں۔ سوڈان کی یہ کہانی بتاتی ہے کہ طاقت کی ہوس کس طرح انسانیت کو نگل جاتی ہے، اور عالمی برادری کو اب عمل کرنا ہوگا، ورنہ "نویر اگین” کا وعدہ خالی رہے گا۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے