عمان/کراچی، 7 اکتوبر 2025
سابق پاکستانی سینیٹر مشتاق احمد خان کو اسرائیلی حکام نے غزہ کے لیے امدادی فلوٹیلا پر گرفتاری کے بعد رہا کر دیا ہے۔ مشتاق احمد خان، جو "گلوبل صمود فلوٹیلا” کے حصے کے طور پر غزہ کی ناکہ بندی توڑنے کی کوشش کر رہے تھے، نے رہائی کے بعد اسرائیلی جیل میں بدسلوکی اور تشدد کے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔
مشتاق احمد خان نے اردن کے دارالحکومت عمان سے جاری کردہ ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ اسرائیلی حکام نے ان کے ساتھ ساتھ دیگر 150 کارکنوں پر شدید تشدد کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ "ہم پر کتے چھوڑے گئے، ہمیں زنجیروں میں جکڑا گیا، اور جسمانی و نفسیاتی تشدد کیا گیا۔” انہوں نے اسرائیلی جیل کو "بدنام زمانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہاں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔
یہ واقعہ 6-7 اکتوبر 2025 کو پیش آیا، جب اسرائیلی فورسز نے بحیرہ روم میں فلوٹیلا کو روک کر 479 کارکنوں کو گرفتار کیا، جن میں مشہور ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ بھی شامل تھیں۔ گریٹا کو 6 اکتوبر کو جلاوطن کر دیا گیا تھا، جبکہ مشتاق احمد خان کی رہائی 7 اکتوبر کو عمل میں آئی۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق، مشتاق احمد خان فی الحال عمان میں پاکستانی سفارت خانے میں محفوظ ہیں اور جلد وطن واپس آئیں گے۔
پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر مشتاق کی رہائی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی سفارت کاروں اور دوست ممالک کی مدد سے یہ ممکن ہوا۔ مشتاق نے اپنے بیان میں فلسطین کی آزادی اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
اس واقعے نے غزہ تنازعے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر عالمی توجہ مبذول کرائی ہے۔ عالمی برادری سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کی تحقیقات کرے۔
مزید خبریں:
گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد 137 کو اسرائیل نے کیارہا
گلوبل صـمود فلوٹیلا کے گرفتار رکن ‘توماسو بورٹولازی’ نے اسـرائیلی جیل میں اسـلام قبول کرلیا
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں