نیویارک میں زہران ممدانی کی تاریخی جیت سے امریکی ارب پتیوں میں اضطراب کیوں ہے ؟

زہران ممدانی زہران ممدانی / تصویر یاھو ڈاٹ کام سے لی گئی ہے

نیویارک سٹی، جسے دنیا کا مالیاتی دارالحکومت کہا جاتا ہے، ۵ نومبر ۲۰۲۵ کو ایک سیاسی زلزلے سے دوچار ہوا۔
ڈسٹرکٹ ۳۶ کی اسٹیٹ اسمبلی کی نشست پر ۳۳ سالہ سوشلسٹ ڈیموکریٹ زہران ممدانی نے نہ صرف دوبارہ شاندار کامیابی حاصل کی بلکہ اپنے حریف کو ۳۰ پوائنٹس کے واضح فرق سے شکست دے کر شہر کی سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

یہ کامیابی محض ایک نشست جیتنے کا معاملہ نہیں بلکہ نیویارک کے ریئل اسٹیٹ کے سرمایہ داروں، وال اسٹریٹ کے بااثر تاجروں اور ٹیکنالوجی کے ارب پتیوں کے لیے ایک کھلا پیغام تھا:

“تمہارا دور ختم ہو چکا ہے۔”


جب دولت ہار گئی

زہران ممدانی کے خلاف امیر ڈونرز کا جو اتحاد بنا، اس نے اس انتخابی مہم کو امریکی تاریخ کے سب سے مہنگے پرائمری مقابلوں میں بدل دیا۔
ریئل اسٹیٹ بورڈ آف نیویارک (REBNY) کے علاوہ LinkedIn کے بانی ریڈ ہافمین، Quicken Loans کے ڈین گلبرٹ، اور Ripple کے کرس لارسن جیسے ارب پتیوں نے مل کر دو ملین ڈالر سے زائد رقم ممدانی کے مخالف امیدوار کی مہم میں جھونک دی۔

جیسا کہ نیویارک پوسٹ نے لکھا:

“Billionaires bet big to stop a socialist – and lost bigger.”

مگر جب ووٹوں کی گنتی مکمل ہوئی تو نتیجہ واضح تھا —
پیسہ ہار گیا، عوام جیت گئے۔

اپنی فتح کی تقریر میں زہران ممدانی نے براہِ راست ارب پتی طبقے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:

“انہوں نے سمجھا تھا کہ دولت سے جمہوریت خریدی جا سکتی ہے۔
آج بروکلین، کوئینز اور مین ہٹن کے عوام نے ثابت کر دیا کہ ہماری آواز کو دبایا نہیں جا سکتا۔”


ریئل اسٹیٹ لابی میں کھلبلی

زہران ممدانی کی جیت نے نیویارک کے ریئل اسٹیٹ مافیا میں کھلبلی مچا دی ہے۔
اب وہ انہیں “نیویارک کی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ” قرار دے رہے ہیں۔
تاہم ممدانی کا ایجنڈا بالکل واضح اور عوام دوست ہے:

  • تمام اپارٹمنٹس کے لیے رینٹ سٹیبلائزیشن لازمی قرار دینا
  • “Good Cause Eviction” بل منظور کر کے کرایہ داروں کو تحفظ دینا
  • خالی عمارتوں پر بھاری ٹیکس لگا کر ۱۰ ارب ڈالر کی سوشل ہاؤسنگ تعمیر کرنا
  • ارب پتیوں کے دوسرے گھروں پر “Pied-à-terre” ٹیکس عائد کرنا

REBNY کے صدر جیمز وھیلَن نے وارننگ دی:

“یہ نیویارک کی معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہو گا۔”

ادھر نیویارک ٹائمز کے مطابق ریئل اسٹیٹ لابی نے اسمبلی اسپیکر کارل ہیسٹی پر دباؤ ڈالنا شروع کر دیا ہے کہ زہران ممدانی کو ہاؤسنگ کمیٹی سے ہٹا دیا جائے۔


وال اسٹریٹ کا غصہ اور میڈیا کا ردِعمل

بلومبرگ نیوز، فاکس نیوز اور نیویارک پوسٹ جیسے میڈیا اداروں نے زہران ممدانی کو “خطرناک سوشلسٹ” قرار دینا شروع کر دیا ہے۔
ایک ارب پتی ڈونر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر The Intercept کو بتایا:

“ہم نے اسے ہرانے کے لیے سب کچھ کیا۔ اب وہ اسمبلی میں بیٹھا ہے اور ہمارے ٹیکس بڑھانے والا ہے۔ یہ ہمارے کاروبار کے لیے موت کا پروانہ ہے۔”

ریڈ ہافمین نے کھل کر کہا کہ وہ “سوشلسٹ امیدواروں” کی کبھی حمایت نہیں کریں گے اور اپنے عطیات واپس مانگ لیے۔


ڈیموکریٹک قیادت کی بے چینی

ریاستی گورنر کیتھی ہوچل اور نیویارک کے میئر ایرک ایڈمز — جو دونوں ریئل اسٹیٹ لابی کے قریبی سمجھے جاتے ہیں — نے زہران ممدانی کو “انتہا پسند” قرار دیا۔
ہوچل نے پریس کانفرنس میں کہا:

“ہمارے شہر کو کاروبار دوست ماحول چاہیے، سوشلسٹ نظام نہیں۔”

لیکن عوامی فضا اس کے برعکس ہے۔
ممدانی کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر #MamdaniWave ٹرینڈ کرنے لگا،
اور نیویارک بھر میں نوجوانوں، مزدوروں اور کرایہ داروں نے اسے عوامی بیداری کی نئی صبح قرار دیا۔


ایک نئے دور کا آغاز

زہران ممدانی کی یہ جیت محض انتخابی کامیابی نہیں بلکہ نیویارک کی سیاست میں عوامی انقلاب کا آغاز ہے۔
جہاں پہلے دولت اور لابیز کا راج تھا، اب وہاں عوامی آواز سنائی دے رہی ہے۔

اپنی تقریر کے اختتام پر ممدانی نے کہا:

“یہ فتح میری نہیں، ہر اس کرایہ دار کی ہے جو بے دخلی کے خوف میں رات گزارتا ہے۔
ہر اس طالب علم کی ہے جو قرض میں ڈوبا ہوا ہے۔
اور ہر اس مزدور کی ہے جو دو نوکریاں کر کے بھی گزر بسر نہیں کر پاتا۔
آج ہم نے ثابت کر دیا کہ نیویارک اب ارب پتیوں کا نہیں، عوام کا شہر ہے۔”

نیویارک کے ارب پتی شاید صرف ایک الیکشن نہیں ہارے —
انہوں نے اپنی آرام دہ نیند بھی کھو دی ہے۔
اور شاید، یہ خوف اب صرف شروعات ہے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے