امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایرانی عوام کو حکومت کے خلاف بھڑکانے کا کیا آغاذ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران میں جاری شدید حکومت مخالف احتجاجات کے دوران ایرانی عوام کو براہ راست پیغام دیتے ہوئے احتجاج جاری رکھنے اور اداروں پر قبضہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے واضح طور پر کہا ہے کہ "مدد پہنچنے والی ہے” اور ایرانی حکام کے ساتھ تمام ملاقاتیں منسوخ کر دی گئی ہیں جب تک مظاہرین کے خلاف "بے حس قتل عام” نہ رک جائے۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
ٹرمپ نے 13 جنوری 2026 کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک طویل پوسٹ میں لکھا:
"ایرانی محب وطن، احتجاج جاری رکھو – اپنے اداروں کا کنٹرول سنبھال لو!!! قاتلوں اور مظالم کرنے والوں کے نام یاد رکھ لو۔ وہ اس کی بھاری قیمت چکائیں گے۔ میں نے ایرانی حکام کے ساتھ تمام میٹنگز منسوخ کر دی ہیں جب تک مظاہرین کے لاحقہ قتل عام کا سلسلہ نہ رک جائے۔ HELP IS ON ITS WAY. MIGA!!!”
یہ پیغام ایران میں دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہونے والے ملک گیر احتجاجات کے شدید ترین مرحلے میں سامنے آیا ہے۔ یہ مظاہرے ابتدا میں ایرانی ریال کی تیزی سے گرتی قدر، مہنگائی، معاشی بحران اور حکومت کی پالیسیوں کے خلاف تھے، جو جلد ہی تہران، اصفہان، شیراز، تبریز اور دیگر بڑے شہروں تک پھیل گئے۔ مظاہرین نے "موت برائے آمر” اور "آزادی چاہئے” جیسے نعرے لگائے اور حکومتی اداروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئیں۔
ایرانی حکومت نے ان احتجاجات کو "فساد” اور "دہشت گردوں کی سازش” قرار دیتے ہوئے سخت کریک ڈاؤن کیا ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں اور غیر جانبدار ذرائع کے مطابق، 8 اور 9 جنوری 2026 کی دو راتوں میں ہی ہزاروں افراد ہلاک ہوئے۔ ایران انٹرنیشنل اور دیگر ذرائع نے کم از کم 12,000 ہلاکتوں کا تخمینہ لگایا ہے، جبکہ ایرانی حکام نے صرف چند سو ہلاکتوں کا اعتراف کیا اور انہیں "دہشت گردوں” سے منسوب کیا۔ سیکیورٹی فورسز نے آنسو گیس، لائیو فائرنگ، ہسپتالوں پر چھاپے اور انٹرنیٹ کی مکمل بندش کا استعمال کیا، جس سے معلومات کی رسائی انتہائی محدود ہو گئی۔
ٹرمپ کا یہ بیان ان کی سابقہ دھمکیوں کا تسلسل ہے۔ اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ اگر پرامن مظاہرین کو قتل کیا گیا تو امریکہ "ان کی مدد” یا "ریسکیو” کرے گا۔ اب انہوں نے ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے ممالک پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان بھی کیا ہے اور فوجی آپشنز پر غور جاری ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق، پینٹاگون ٹرمپ کو ایران کے نیوکلیئر پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں پر ممکنہ حملوں سمیت مختلف "کینیٹک” اور غیر فوجی آپشنز پیش کر رہا ہے۔
دوسری جانب، روس نے ٹرمپ کے اس بیان کی شدید مذمت کی ہے۔ روسی وزارت خارجہ نے اسے ایران کے اندرونی معاملات میں "ناقابل قبول بیرونی مداخلت” اور "نئے فوجی حملوں کی دھمکی” قرار دیا۔ روس نے خبردار کیا کہ ایسی کارروائیاں مشرق وسطیٰ اور عالمی سلامتی کے لیے تباہ کن ثابت ہوں گی۔ روس، جو ایران کا قریبی اتحادی ہے اور اسے اسلحہ اور سفارتی حمایت فراہم کرتا ہے، نے امریکہ کی پالیسی کو "بلیک میل” قرار دیا۔
یورپی یونین، برطانیہ، جرمنی اور فرانس نے بھی ایرانی حکومت کی مذمت کی ہے اور مزید پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے ایرانی سفیر کو طلب کر کے احتجاج درج کرایا، جبکہ یورپی کمیشن کی صدر نے کہا کہ "ایران کے عوام کی آزادی کی جدوجہد میں ان کے ساتھ کھڑے ہیں”۔
ایران کی حکومت کا موقف ہے کہ وہ "جنگ” کے لیے تیار ہے مگر بات چیت کا دروازہ کھلا رکھتی ہے۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کو "فسادی” قرار دیا اور ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ احتجاجات بیرونی قوتوں، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کی سازش ہیں۔
صورتحال انتہائی کشیدہ ہے:
- ایران میں انٹرنیٹ کی بندش جاری ہے، مگر مظاہرے مختلف شہروں میں جاری ہیں۔
- امریکی شہریوں کو ایران سے فوری انخلا کا مشورہ دیا گیا ہے۔
- خطے میں فوجی تیاریاں بڑھ رہی ہیں اور ممکنہ امریکی یا مشترکہ حملوں کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔
یہ بحران تیزی سے بدل رہا ہے اور عالمی برادری کی نظر اس پر مرکوز ہے۔ تازہ ترین پیشرفت کے لیے معتبر ذرائع سے رابطہ رکھیں۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !