ایک ہندوستانی خاتون، جن کا نام پریما وانگجم تھونگڈوک ہے، لندن سے جاپان جا رہی تھیں۔ شنگھائی پڈونگ انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر صرف تین گھنٹے کا ٹرانزٹ تھا۔ لیکن جب وہ امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچیں تو چینی افسران نے ان کا پاسپورٹ کھولا اور ایک لمحے میں فضا بدل گئی۔
"تمہاری جائے پیدائش اروناچل پردیش ہے؟” "جی ہاں۔” "اروناچل پردیش تو چین کا حصہ ہے۔ تم چینی ہو، ہندوستانی نہیں ہو۔”
یہ جملے سن کر پریما کے کانوں پر یقین نہ آیا۔ انہوں نے اپنا پاسپورٹ دکھایا، جس پر واضح طور پر لکھا تھا: Republic of India۔ لیکن چینی افسر نے مسکراتے ہوئے کہا، "یہ پاسپورٹ غلط ہے۔ تمہارا ملک زنگنان (جنوبی تبت) ہے، جو چین کا علاقہ ہے۔”
اس کے بعد جو کچھ ہوا، وہ کسی بھی ہندوستانی کے لیے خون کو کھول دینے والا ہے۔
18 گھنٹے کی اذیت
- پریما کو ایک چھوٹے سے کمرے میں بند کر دیا گیا۔
- کھانا اور پانی دینے سے صاف انکار۔
- فون چھین لیا گیا، صرف بیت الخلا جانے کی اجازت تھی۔
- جاپان جانے والی پرواز نکل گئی، لیکن انہیں چھوڑا نہیں گیا۔
- رات بھر چینی افسران طنز کرتے رہے: "تم لوگ ہمارا علاقہ چھین کر بیٹھے ہو، اب پتہ چلے گا۔”
پریما نے بتایا کہ ایک خاتون افسر نے تو کھلے عام کہا، "تم لوگ ہندوستانی بنتے ہو، لیکن تمہارا خون چینی ہے۔”
آخر کار رہائی کیسے ہوئی؟
شنگھائی میں موجود ہندوستانی قونصل خانے نے جب یہ خبر سنی تو فوراً حرکت میں آ گئے۔ قونصل جنرل نے چینی حکام سے براہ راست رابطہ کیا۔ رات ڈھائی بجے کے قریب، یعنی 18 گھنٹے بعد، پریما کو چھوڑا گیا۔ لیکن ان کی پرواز جا چکی تھی، سامان غائب تھا، اور وہ مکمل طور پر ٹوٹ چکی تھیں۔
سوشل میڈیا پر طوفان
گھر پہنچ کر پریما نے ایکس پر اپنا پورا واقعہ لکھا۔ چند گھنٹوں میں #ArunachalIsIndia اور #BoycottChina ٹرینڈ کرنے لگے۔ لاکھوں لوگوں نے لکھا:
"اروناچل پردیش بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ چین نے ہندوستان کی بیٹی کے ساتھ جو سلوک کیا، وہ ناقابلِ معافی ہے۔”
اروناچچکے وزیراعلیٰ پیما کھنڈو نے لکھا: "یہ صرف پریما کا نہیں، پورے اروناچل اور 140 کروڑ ہندوستانیوں کا اپمان ہے۔”
ہندوستان کا سخت جواب
مذکورہ واقعے کے فوراً بعد وزارتِ خارجہ نے چین کو سخت ڈیمارش بھیجا۔ ترجمان رندھیر جیسوال نے پریس کانفرنس میں کہا: "اروناچل پردیش بھارت کا لازمی اور ناقابلِ تنسیخ حصہ ہے۔ چینی عمل بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ہم نے چین سے مکمل وضاحت اور معافی مانگی ہے۔”
چین کا بے شرم جواب
چینی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماو ننگ نے کہا: "کوئی ہراسانی نہیں ہوئی۔ سب کچھ قانون کے مطابق تھا۔ زنگنان (اروناچل) چین کا علاقہ ہے، بھارت نے اس پر غیر قانونی قبضہ کر رکھا ہے۔”
یہ پہلا واقعہ نہیں
یہ پہلی بار نہیں جب چین نے اروناچل کے شہریوں کو نشانہ بنایا ہو۔
- 2008 سے 2018 تک چین اروناچل کے لوگوں کو "سٹیپلڈ ویزہ” دیتا تھا۔
- 2023 میں چین نے اروناچل کے کھلاڑیوں کو ایشین گیمز میں داخلے سے روکا تھا۔
- اب شنگھائی ایئرپورٹ پر کھلے عام ہندوستانی شہری کو "چینی” قرار دے دیا گیا۔
پیغام واضح ہے
چین نے یہ بتا دیا ہے کہ وہ اروناچل کو کبھی بھارت کا حصہ تسلیم نہیں کرے گا، اور موقع ملے تو ہر ہندوستانی کو، خواہ وہ لندن میں رہے یا ٹوکیو جا رہا ہو، اس کی قیمت چکانے پر مجبور کرے گا۔
لیکن ہندوستان کا جواب بھی اتنا ہی واضح ہے: "اروناچل پردیش تھا، ہے اور ہمیشہ بھارت کا رہے گا۔ جو اسے چھوئے گا، وہ ہاتھ جَل جائیں گے۔”
آج پریما وانگجم تھونگڈوک گھر واپس آ گئی ہیں، لیکن ان کی آنکھوں میں اب بھی وہ 18 گھنٹے زندہ ہیں، جب ایک ہندوستانی بیٹی کو دنیا کی دوسری سب سے بڑی طاقت نے کہا تھا:
"تم چینی ہو، ہندوستانی نہیں۔”