پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان امن مذاکرات کا تیسرا دور آج (6 نومبر 2025) استنبول میں شروع ہو رہا ہے۔ طالبان کا اعلیٰ سطحی وفد، جس کی قیادت انٹیلی جنس چیف عبدالحق واثق کر رہے ہیں، کل استنبول پہنچ گیا تھا۔ وفد میں نائب وزیر داخلہ رحمت اللہ نجیب، انس حقانی، سهیل شاہین، قاہر بلخی اور دیگر شامل ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
پاکستانی وفد کی قیادت ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک کر رہے ہیں، جس میں فوج، انٹیلی جنس اور وزارت خارجہ کے سینئر افسران شامل ہیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے تصدیق کی کہ وفد استنبول روانہ ہو چکا ہے اور مذاکرات صبح شروع ہوں گے۔ ترکی اور قطر ثالثی کر رہے ہیں۔
یہ مذاکرات پچھلے دو ادوار (دوحہ اور استنبول) کی ناکامی کے بعد ہو رہے ہیں، جہاں سرحدی جھڑپیں، ٹی ٹی پی حملے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں مرکزی مسائل تھے۔ پاکستان کا مطالبہ ہے کہ افغان سرزمین سے دہشت گردی روکی جائے، جبکہ طالبان تحریری معاہدے سے گریزاں ہیں۔ وزیر دفاع نے خبردار کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو "جنگ” ہو سکتی ہے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !