حکومت مخالف مظاہرے
|

ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہرے: ایک نازک صورتحال کا جائزہ

جنوری 2026 کے آغاز سے ایران ایک شدید بحران کا شکار ہے۔ 28 دسمبر 2025 سے شروع ہونے والے احتجاج ابتدا میں معاشی مسائل جیسے کرنسی کی شدید گراوٹ، مہنگائی اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف تھے۔ تاہم یہ مظاہرے جلد ہی ملک کے تمام 31 صوبوں میں پھیل گئے اور سیاسی نعروں جیسے "موت بر ڈکٹیٹر” اور "آزادی، آزادی” تک جا پہنچے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اب تک درجنوں افراد ہلاک اور ہزاروں گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ 2022 کی "عورت، زندگی، آزادی” تحریک کے بعد سب سے بڑا چیلنج ہے جو اسلامی جمہوریہ ایران کی قیادت کے لیے سامنے آیا ہے۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے 

احتجاج کی وجوہات

ایران کی معیشت طویل عرصے سے دباؤ میں ہے۔ جون 2025 میں اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ 12 دن کی جنگ کے بعد جوہری تنصیبات کو شدید نقصان پہنچا، جو معاشی بحران کو مزید گہرا کر گئی۔

  • سالانہ مہنگائی 30-40 فیصد تک پہنچ گئی۔
  • ایرانی ریال کی قدر مسلسل گر رہی ہے۔
  • بے روزگاری اور غربت میں اضافہ ہوا، خاص طور پر نوجوانوں اور متوسط طبقے میں۔
  • پانی کی قلت اور دیگر بنیادی مسائل بھی عوامی غم و غصے کا سبب بنے۔

یہ احتجاج ابتدا میں تہران کے بازاروں اور دیگر شہروں میں معاشی مطالبات سے شروع ہوئے، لیکن جلد ہی حکومت مخالف نعروں میں تبدیل ہو گئے۔ مظاہرین نے اسلامی جمہوریہ کے نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کیا، کچھ نے تو شاہ رضا پہلوی کی بحالی تک کے نعرے لگائے۔

حکومت کا ردعمل اور الزامات

ایرانی حکومت نے ان مظاہروں کو "اسرائیلی منصوبہ” قرار دے کر خارجی مداخلت کا الزام لگایا ہے۔ 9 جنوری 2026 کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل (SNSC) نے بیان جاری کیا کہ:

"حالیہ واقعات اگرچہ ابتدا میں معاشی احتجاج سے شروع ہوئے، لیکن اب اسرائیل کی رہنمائی اور منصوبہ بندی کے تحت ملک میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش بن گئے ہیں۔ امریکہ کو اسرائیل کا ‘گاڈ فادر’ قرار دیا گیا۔”

سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے مظاہرین کو "غدار” اور "امریکہ کو خوش کرنے والے” کہا، جبکہ عدلیہ نے "سبوٹیج” کرنے والوں کو سزائے موت کی دھمکی دی۔ سیکیورٹی فورسز نے کریک ڈاؤن تیز کر دیا، جس کے نتیجے میں انسانی حقوق گروپس کے مطابق کم از کم 34 سے 45 افراد ہلاک ہوئے، جن میں بچے بھی شامل ہیں۔

8 جنوری سے ملک بھر میں انٹرنیٹ مکمل بند کر دیا گیا، جو مظاہروں کی کوریج روکنے اور سیکیورٹی آپریشنز چھپانے کی حکمت عملی ہے۔ یہ 2022 کی طرح کا اقدام ہے۔

بین الاقوامی ردعمل اور پروازوں کی منسولی

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر "پرامن مظاہرین” کو مارا گیا تو امریکہ مداخلت کرے گا، اور کہا "ہم تیار ہیں”۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے مظاہرین کی حمایت کی اور کہا کہ ایرانی عوام اپنی تقدیر خود سنبھال رہے ہیں۔

اس صورتحال نے ہوائی سفر کو شدید متاثر کیا:

  • ترکش ایئرلائنز، فلائی دبئی، ایمریٹس اور دیگر نے تہران، شیراز، مشہد جانے والی درجنوں پروازیں منسوخ کر دیں۔
  • دبئی، استنبول اور دوحہ سے آنے والی پروازیں متاثر ہوئیں، جو سیکیورٹی خدشات اور انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کی وجہ سے ہیں۔

موجودہ صورتحال اور ممکنہ نتائج

9 جنوری 2026 تک مظاہرے جاری ہیں، لیکن انٹرنیٹ بند ہونے سے درست اطلاعات محدود ہیں۔ ISW جیسے اداروں کے مطابق احتجاج کی شدت میں اضافہ ہوا ہے، خاص طور پر تہران اور شمال مغربی علاقوں میں۔ ایرانی حکومت نے "پری ایمپٹو” اقدامات کی دھمکی دی ہے اگر خارجی مداخلت ہوئی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ یہ مظاہرے نظام کی تبدیلی نہیں لا سکیں گے، کیونکہ سیکیورٹی فورسز اب بھی وفادار ہیں، لیکن یہ بحران معاشی اور سیاسی دباؤ کو مزید بڑھا دے گا۔ علاقائی تناظر میں، یہ اسرائیل-ایران تناؤ کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

یہ صورتحال تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور ایران کی عوام کی جدوجہد معاشی انصاف اور سیاسی آزادی کی عکاسی کرتی ہے۔ عالمی برادری کی نظر اس پر مرکوز ہے کہ آیا یہ احتجاج مزید پھیلتے ہیں یا حکومت انہیں کچلنے میں کامیاب ہو جاتی ہے۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے