بھارت اور پاکستان کے درمیان مذہبی یاتریوں کے تبادلے کا سلسلہ کئی دہائیوں سے جاری ہے، لیکن کبھی کبھار ایسے واقعات سامنے آتے ہیں جو دونوں ممالک کے تعلقات، سیکورٹی خدشات اور ذاتی آزادیوں پر سوالات اٹھاتے ہیں۔ تازہ ترین کیس بھارتی پنجاب کی رہائشی سکھ خاتون سربجیت کور کا ہے، جو بابا گرو نانک دیو جی کے 555ویں پرکاش پرب کی تقریبات میں شرکت کے لیے سکھ یاتریوں کے جتھے کے ساتھ پاکستان پہنچیں اور واپسی پر لاپتہ ہو گئیں۔ اب معلوم ہوا ہے کہ انہوں نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر لیا، ایک پاکستانی شہری سے نکاح کیا اور اب ان کا نام نور حسین رکھا گیا ہے۔ یہ واقعہ نہ صرف ذاتی سطح پر دلچسپ ہے بلکہ سیاسی، مذہبی اور سفارتی تناظر میں بھی اہم ہے۔ آئیے اس کی تمام تفصیلات پر روشنی ڈالتے ہیں۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
واقعہ کی ابتدائی تفصیلات: پاکستان آمد اور غائب ہونا
- جتھے کی آمد: 4 نومبر 2025 کو 1,992 سکھ یاتریوں کا ایک بڑا جتھہ واہگہ-اٹاری سرحد عبور کر کے پاکستان داخل ہوا۔ یہ جتھہ شرومانی گردوارہ پربندھک کمیٹی (SGPC) کی نگرانی میں تھا اور اس کا مقصد بابا گرو نانک دیو جی کی 555ویں سالگرہ کی تقریبات میں شرکت تھا۔ یاتری ننکانہ صاحب، پنجا صاحب، کرتارپور صاحب، ڈیرہ صاحب لاہور اور دیگر تاریخی گردواروں کا دورہ کر رہے تھے۔
- سربجیت کور کا پروفائل:
- عمر: 52 سال
- رہائش: کپور تھلہ، ضلع ترن تارن، پنجاب (بھارت)
- پاسپورٹ نمبر: PP B7405078
- خاندانی پس منظر: طلاق یافتہ، دو بیٹے جو انگلینڈ میں مقیم ہیں۔ سابق شوہر کرنail سنگھ بھی برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں۔
- قانونی مسائل: بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ان کے خلاف کپور تھلہ اور بٹھنڈہ پولیس اسٹیشنز میں تین مقدمات درج ہیں جو دھوکہ دہی، فراڈ اور چیک باؤنس سے متعلق ہیں۔ تاہم، یہ مقدمات ان کے موجودہ فیصلے سے براہ راست منسلک نہیں۔
- ویزہ کی مدت: جتھے کا ویزہ 4 سے 13 نومبر تک تھا۔ 13 نومبر کو جتھہ واپس بھارت لوٹا، لیکن سربجیت کور غائب تھیں۔ بھارتی امیگریشن حکام نے فوری طور پر پنجاب پولیس کو اطلاع دی، جبکہ پاکستانی حکام نے بھی تلاش شروع کر دی۔
اسلام قبول کرنے اور نکاح کی تفصیلات
- نکاح کی تاریخ اور جگہ: 5 نومبر 2025 کو لاہور سے قریب ضلع شیخوپورہ کے علاقے فاروق آباد میں نکاح ہوا۔
- دلہا: ناصر حسین، فاروق آباد کے رہائشی۔ وہ ایک عام شہری ہیں اور پیشے سے تاجر بتائے جاتے ہیں۔
- نکاح نامہ کی تفصیلات:
- زبان: اردو
- حق مہر: 10,000 پاکستانی روپے (جو ادا ہو چکے ہیں)
- گواہان: مقامی مسجد کے امام اور دیگر معززین
- دستخط: سربجیت کور نے اپنے ہاتھ سے دستخط کیے
- اسلام قبول کرنے کا بیان: سربجیت کور (اب نور حسین) نے شیخوپورہ کی مقامی عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا:
"میں نے اپنی مکمل مرضی، خوشی اور آزادی سے اسلام قبول کیا ہے۔ مجھ پر کوئی دباؤ، جبر یا لالچ نہیں کیا گیا۔ میں ناصر حسین کے ساتھ نکاح کر کے ان کے گھر رہنا چاہتی ہوں۔ میرا فیصلہ ذاتی ہے اور میں پاکستان میں ہی رہوں گی۔”
- نئی شناخت: ان کا نیا اسلامی نام نور حسین رکھا گیا ہے۔ پاکستانی حکام نے انہیں عارضی رہائشی اجازت نامہ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا ہے۔
دونوں ممالک کے حکام کا ردعمل
بھارتی موقف:
- ہائی کمیشن اسلام آباد: بھارتی ہائی کمیشن نے پاکستانی وزارت خارجہ سے رابطہ کیا اور خاتون کی حفاظت، مقام اور رضامندی کی تصدیق مانگی ہے۔
- انٹیلی جنس خدشات: بھارتی انٹیلی جنس ایجنسیوں کا شک ہے کہ یہ "یاتریوں کی بھرتی” (Honey Trapping) کا ایک منظم پیٹرن ہو سکتا ہے۔ ماضی میں بھی کئی سکھ یاتری پاکستان میں لاپتہ ہوئے یا واپس نہ آئے۔
- SGPC پر تنقید: شرومانی گردوارہ پربندھک کمیٹی پر الزام ہے کہ انہوں نے جتھے کی مناسب نگرانی نہیں کی۔ ایک سینئر عہدیدار نے کہا: "ہم یاتریوں کی فہرست اور ویزہ چیک کرتے ہیں، لیکن ذاتی فیصلوں پر کنٹرول نہیں رکھ سکتے۔”
پاکستانی موقف:
- حکام کا بیان: پاکستانی وزارت داخلہ کے ذرائع نے کہا کہ خاتون بالغ ہے اور اس کا فیصلہ ذاتی ہے۔ ان کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔
- عدالتی تحفظ: شیخوپورہ کی عدالت نے خاتون کا بیان ریکارڈ کر کے کیس کو "ذاتی معاملہ” قرار دے دیا۔
ماضی کے مشابه کیسز
یہ کوئی انوکھا واقعہ نہیں۔ حالیہ برسوں میں کئی کیسز سامنے آئے:
| سال | نام | تفصیل |
|---|---|---|
| 2023 | گرمیت کور (امرتسر) | سکھ یاتری، پاکستان میں لاپتہ، بعد میں اسلام قبول کرنے کا اعلان |
| 2022 | کرن دیپ کور | کرتارپور صاحب میں نکاح، اب پاکستان میں رہائش |
| 2019 | منجیت سنگھ | مرد یاتری، اسلام قبول کر کے واپس نہ آیا |
بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ ایسے کیسز میں ISI یا دیگر ایجنسیاں جذباتی طور پر کمزور یاتریوں کو نشانہ بناتی ہیں، جبکہ پاکستانی میڈیا انہیں "اسلام کی طرف رجحان” قرار دیتا ہے۔
سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل
- پاکستانی صارفین: ایکس پر ٹرینڈ #نور_حسین چلا۔ ایک پوسٹ میں لکھا: "اللہ نے ایک اور روح کو ہدایت دی۔ سربجیت کور اب نور حسین ہیں۔ 🇵🇰❤️”
- بھارتی صارفین: #SaveSarbjitKaur ٹرینڈ کیا گیا۔ ایک صارف نے لکھا: "یہ محبت نہیں، دھوکہ ہے۔ ہماری بہن کو واپس لاؤ۔”
- غیر جانبدار تجزیہ کار: کئی صحافیوں نے کہا کہ یہ ذاتی آزادی کا معاملہ ہے، لیکن سیکورٹی پروٹوکولز کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
وسیع تر سیاق و سباق
- پروٹوکول 1974: بھارت-پاکستان کے درمیان مذہبی یاترا کا معاہدہ، جو سالانہ بنیاد پر سکھ، ہندو اور مسلمان یاتریوں کو اجازت دیتا ہے۔
- حالیہ تناؤ: 2025 میں بھارت نے ابتدائی طور پر سیکورٹی خدشات کی وجہ سے جتھے کی اجازت روکی تھی، لیکن بعد میں منظوری دی۔
- مستقبل کے اثرات: یہ کیس اگلے جتھوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ بھارت ویزہ چیکنگ، بائیو میٹرک اور فیملی رابطہ لازمی کر سکتا ہے۔
ذاتی آزادی بمقابلہ قومی سیکورٹی
سربجیت کور (نور حسین) کا کیس ایک طرف ذاتی انتخاب، محبت اور مذہبی آزادی کی عکاسی کرتا ہے، تو دوسری طرف بھارت-پاکستان تعلقات میں عدم اعتماد کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ جب تک خاتون خود میڈیا سے براہ راست بات نہیں کرتیں، شکوک و شبہات برقرار رہیں گے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !