ولید بن خالد بن طلال
|

20 سال تک سونے والا سعودی شہزادہ ولید بن خالد بن طلال 36 سال کی عمر میں انتقال کر گئے

سعودی عرب کے شہزادہ ولید بن خالد بن طلال، جنہیں "سلیپنگ پرنس” کے نام سے جانا جاتا تھا، 36 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ ان کے والد، شہزادہ خالد بن طلال، نے اپنے بیٹے کے انتقال کی خبر سعودی میڈیا کے ذریعے شیئر کی۔ شہزادہ ولید 2005 میں لندن میں ایک المناک کار حادثے کا شکار ہوئے تھے، جس کے بعد وہ کومہ میں چلے گئے تھے۔ اس وقت سے وہ مسلسل لائف سپورٹ پر تھے، اور ان کے والد نے امید کا دامن نہیں چھوڑا تھا۔ شہزادہ ولید کی وفات کی خبر نے سعودی عرب اور پوری دنیا میں ان کے چاہنے والوں کو غمگین کر دیا ہے۔

حادثے اور کومہ کی حالت

شہزادہ ولید بن خالد بن طلال 2005 میں لندن میں ایک سنگین کار حادثے کا شکار ہوئے، جس نے ان کی زندگی کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا۔ حادثے کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور کومہ میں چلے گئے۔ ڈاکٹروں نے انہیں لائف سپورٹ پر منتقل کیا، اور اس وقت سے وہ ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ اس دوران ان کے والد، شہزادہ خالد بن طلال، نے اپنے بیٹے کی صحت یابی کے لیے ہر ممکن کوشش کی اور کبھی امید نہیں ہاری۔ شہزادہ خالد نے لائف سپورٹ ہٹانے کے ڈاکٹروں کے مشورے کو مسترد کر دیا تھا، کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان کا بیٹا ایک دن ہوش میں آ جائے گا۔

کومہ کے دوران، شہزادہ ولید کے جسم کے بعض حصوں میں کبھی کبھار معمولی حرکات دیکھی گئیں، جو ڈاکٹروں نے ریکارڈ کیں۔ ان حرکات نے شہزادہ خالد اور ان کے خاندان کو امید دی کہ شاید وہ مکمل صحت یاب ہو سکیں۔ تاہم، بدقسمتی سے، شہزادہ ولید کبھی مکمل ہوش میں نہ آ سکے اور 20 سال تک کومہ میں رہنے کے بعد وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔

"سلیپنگ پرنس” کا لقب

شہزادہ ولید بن خالد بن طلال کو "سلیپنگ پرنس” کا لقب اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ طویل عرصے تک کومہ میں رہے۔ یہ لقب ان کی حالت اور ان کے والد کی امید کی علامت بن گیا تھا۔ شہزادہ خالد نے اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے دن رات ایک کر دیا اور ان کی کہانی نے سعودی عرب اور عالمی میڈیا میں کافی توجہ حاصل کی۔ ان کی حالت نے لوگوں کے دلوں کو چھوا، اور وہ ایک ایسی شخصیت بن گئے جن کی زندگی کی جدوجہد نے بہت سے لوگوں کو متاثر کیا۔

شہزادہ خالد بن طلال کی ثابت قدمی

شہزادہ خالد بن طلال، جو سعودی شاہی خاندان کے ایک اہم رکن ہیں، نے اپنے بیٹے کی زندگی کے لیے غیر معمولی ثابت قدمی دکھائی۔ انہوں نے نہ صرف لائف سپورٹ ہٹانے سے انکار کیا بلکہ اپنے بیٹے کی دیکھ بھال کے لیے بہترین طبی سہولیات فراہم کیں۔ شہزادہ خالد کی یہ لگن ایک والد کی محبت اور امید کی ایک عظیم مثال ہے۔ انہوں نے ہر مشکل حالات میں اپنے بیٹے کے لیے دعائیں مانگیں اور اس امید کو برقرار رکھا کہ ایک دن شہزادہ ولید صحت یاب ہو کر واپس لوٹ آئیں گے۔

شہزادہ ولید کی زندگی اور شخصیت

شہزادہ ولید بن خالد بن طلال سعودی شاہی خاندان کے ایک قابل احترام رکن تھے۔ اگرچہ ان کی زندگی کا زیادہ تر حصہ کومہ میں گزرا، لیکن حادثے سے پہلے وہ ایک فعال اور پرجوش نوجوان تھے۔ وہ اپنے خاندان اور دوستوں کے درمیان اپنی خوش مزاجی اور اچھے کردار کے لیے جانے جاتے تھے۔ ان کی زندگی کی کہانی، اگرچہ المناک ہے، لیکن ان کے خاندان کی محبت اور لگن کی وجہ سے ایک عظیم داستان بن گئی۔

نمازِ جنازہ اور تدفین

شہزادہ ولید بن خالد بن طلال کی نمازِ جنازہ اتوار، 20 جولائی 2025 کو ریاض کی امام ترکی بن عبداللہ مسجد میں بعد نماز عصر ادا کی جائے گی۔ اس موقع پر شاہی خاندان کے ارکان، دوست، اور دیگر معززین کی بڑی تعداد کی شرکت متوقع ہے۔ شہزادہ ولید کی وفات پر سعودی عرب بھر میں سوگ کی کیفیت ہے، اور سوشل میڈیا پر لوگوں نے ان کے لیے تعزیت اور دعائیں کی ہیں۔

سعودی عرب اور عالمی ردعمل

شہزادہ ولید کی وفات کی خبر نے سعودی عرب اور عالمی سطح پر غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، خصوصاً ایکس پر، لوگوں نے شہزادہ ولید اور ان کے خاندان کے لیے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ بہت سے لوگوں نے شہزادہ خالد بن طلال کی لگن اور محبت کی تعریف کی اور شہزادہ ولید کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔ سعودی میڈیا نے بھی اس خبر کو نمایاں طور پر کور کیا اور شہزادہ ولید کی زندگی اور ان کے خاندان کی جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیا۔

نتیجہ

شہزادہ ولید بن خالد بن طلال کی وفات سعودی شاہی خاندان اور ان کے چاہنے والوں کے لیے ایک بڑا صدمہ ہے۔ ان کی کہانی ایک ایسی مثال ہے جو ہمت، محبت، اور امید کی عکاسی کرتی ہے۔ اگرچہ وہ اب اس دنیا میں نہیں رہے، لیکن ان کی یاد اور ان کے والد کی لگن ہمیشہ لوگوں کے دلوں میں زندہ رہے گی۔ شہزادہ ولید کی مغفرت اور ان کے خاندان کے لیے صبر کی دعا کی جاتی ہے۔

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

انڈیاپاکستان جنگ میں 5 طیارے مار گرانے کے ٹرمپ کے دعویٰ نے مودی کو مشکل میں ڈالدیا

ایتھوپیا، انڈونیشیا اور لیبیا نے غزہ فلسطینیوں کو نکالنے کی صورت میں قبول کرنے کے لئے آمادگی ظاہر کی ہے

فلسطینی صدر محمود عباس کاٹونی بلیئر سے ملاقات،حماس غزہ پر حکومت نہیں کرے گی اور ہتھیار بھی ہمارے حوالے کریں گے

Similar Posts

2 Comments

  1. ماشاءاللہ اچھی کوشش ہے ۔ خبر بعینہ خبر شائع کریں ۔معاشرہ کے لئے مفید و مثبت چیزوں کو اجاگر کریں اور تنقید کے اصلاحی اصول اپنائیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے