گوہر شاہی

گوہر شاہی کے متعلق دار العلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کشمیر کا فتویٰ

بسم الله الرحمن الرحیم

گرامی قدر حضرات مفیان شرع متین – !زید مجد کم

السلام عليكم ورحمة الله و بركاته

صورت حال یہ عرض ہے کہ اس وقت ہندستان کے مختلف صوبوں میں گوہر شاہی فتنہ کی سرگرمیاں زوروں پر ہیں۔ کالج و یونیورسٹیوں کے مسلم طلبہ اور طالبات بڑی تیزی سے اس فرقے میں داخل ہو رہے ہیں ۔ چونکہ یہ فرقہ پڑوسی ملک کا ہے اور اپنا سارا کار بار یورپی ممالک میں بیٹھ کر نیٹ کے ذریعہ چلا رہا ہے اس لیے براہ راست اس کی مطبوعہ کوئی کتاب یہاں دستیاب نہیں لیکن نیٹ پر تمام تر تفیصلات ہیں اس سے ماخوذ اس فرقے کے عقائدہ

خیالات کی تفصیل مختصر طور پر پیش ہے۔

(1) ذکر ھو “ کو متعارف نمازوں سے افضل بتلاتا ہے ، اس نظریے کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ :

قلب اس نماز کو عرش تک پہنچانے کا ذریعہ ہے اور وہی نماز پھر مومن کی معراج ہے ایسی نماز اگر پورے دن میں دو رکعت ہی میسر آ جائے تو پھر بھی بخشش کی امید ہے۔ نماز صورت ( پانچ نمازیں عام مسلمان پڑھتے ہیں ) انسان اگر دن رات پڑھتا ر ہے تب بھی

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

رب سے دور ہی ہیں (روشناس ص : 22)

(۲) ریاض احمد گوہر شاہی کلمہ طیبہ کے بغیر نجات کا قائل ہے اور شراب کو جایز کہتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حدیث ” اللہ نے مجھے دو علم دیے ہیں ، دوسرا علم اگر بیان کروں تو

لوگ مجھے ذبح کر دیں” کی تشریح کے ضمن میں لکھا ہے : دوسرا علم یہ ہے کہ شراب پیو جہنم میں نہیں جاؤ گے اور بغیر کلمہ پڑھے اللہ تک رسائی

حاصل ہو سکتی ہے ( یادگار لمحہ صفحہ 28) مذکورہ بالا عقائد کی روشنی میں حضرات مفتیان کرام سے معلوم یہ کرنا ہے کہ :

(1) ریاض احمد گوہر شاہی اور اس کے پیرو کاروں کا کیا حکم شرعی ہے؟ وہ مسلمان باقی رہے

یا مرتد ہو گئے؟۔

(۲) اس طرح کے عقائد رکھنے والوں کے ساتھ شادی بیاہ اور مسلمانوں جیسے معاملات کرنا کیسا ہے؟ کیا مسلمان ان کو اپنی مساجد میں آنے کی اجازت دے سکتے ہیں۔

(۳) اس سلسلے میں قائدین ائمہ اور علماء کی کیا ذمہ داری ہے۔؟

قرآن وحدیث کی روشنی میں جواب مطلوب ہے ۔ فقط والسلام المستفتی محمد طیب قاسی، قصبہ محمدی ضلع لکھیم پر ھیری ۲۵ دسمبر ۲۰۲۳ بروز دوشنبه

باسمه تعالی

الجواب وبالله التوفيق : حامد أو مصليا و مسلما ۔

گوہر شاہی اور اس کے متبعین اپنے باطل عقائد کی بناء پر دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ اس جماعت کے باطل عقائد ان کی اپنے کتب میں موجود ہیں، جن کو مولانا سعید احمد جلال پوری رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تالیف دور جدید کا مسیلمہ کذاب گوہر شاہی میں بیان فرمایا ہے۔ آپ (مستفتی) نے اجمالاً او پر جن عقائد کا ذکر کیا ہے ، ان کے بارے میں معتبر ومستند ارباب افتاء کی طرف سے لکھے گئے جوابات میں جو

چند سطور لکھی گئی ہیں، ان کا اجمالی خلاصہ یہ ہے کہ:

مذکور شخص کے عقائد و نظریات دین اسلام کے عقائد سے بالکل ہٹے ہوئے ہیں۔ یہ عقائد و نظریات بذات خود اور ان عقائد پر مشتمل تحریرات میں اللہ تعالٰی کی شان میں گستاخی، قرآن شریف میں تحریف اور کلمہ طیبہ میں تبدیلی اور حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والتسلیمات کی گستاخی پائی جاتی ہے۔ ان عقائد کو اپنانے اور ان نظریات کو اختیار کرنے سے آدمی اسلام سے خارج ہو جاتا ہے کیوں کہ اس سے ضروریات دین کا انکار لازم آتا ہے۔ حالاں کہ جن کا ایمان مجمل، ایمان مفصل کی صورت میں ہر مسلمان کو مانا لازم ہے اور تمام مسلمان ان ضروریات دین کا ایمان و یقین رکھتے ہیں اور اسی ایمان ویقین کے ساتھ خاتمہ کی امید رکھتے ہیں، لہذا ان ضروریات دین کا انکار بلا شبہ کفر ہے ، اس میں کوئی شک نہیں ہے۔ کسی چیز کو مد نظر رکھتے ہوئے اور امت مسلمہ کےعوام و خواص کو باقی رکھنے کے لیے اور اس فتنہ کے سد باب کے لیے یہ واضح کر دیا جاتا ہے کہ

: گوہر شاہی اور اس کے متبعین اہل السنۃ والجماعہ کے نزدیک دائرہ اسلام سے خارج ہیں، کافر اور زندیق ہیں، ان سے میل جول رکھنا اور رشتہ ناطہ کرنا حرام ہے ان کا ذبیحہ بھی حرام ہے ۔ لہذا دار العلوم رحیمیہ بانڈی پورہ کے دارالافتاء سے وابسطہ مفتیان کرام، کشمیر کے تمام لوگوں کو بالعموم اور ان عقائد سے متاثر ہونے والے کشمیر کے مسلم نو جوانوں کو بالخصوص اس فتنہ سے دور

رہنے اور توبہ کی تلقین کرتے ہیں۔ علامہ شامی لکھتے ہیں :

وفي الفتح : ويدخل في عبدة الأوثان عبدة الشمس والنجوم والصور التي استحسنوها والمعطلة والزنادقة والباطنية والاباحية، وفي شرح الوجيز وكل

مذهب يكفر به معتقده الخ۔

قلت: وشمل ذلك الدروز والنصيرية والتيامنة، فلا تحل مناكحتهم، ولا توكل

ذبيحتهم كتاب النکاح، شامی جلد ۳ ص ۴۵، مكتبة سعيد)

ان الدين عند الله الاسلام جملة مستانفة مؤكدة للأولى أي لا دين مرضى عند الله

سوى الاسلام وهو التوحيد والتدرع بالشرع الذي جاء محمد صلى الله عليه وسلم (التفسير البيضاوی جلد ۱ ص (۱۵۲)

کتبہ: بنده عظمت اللہ غفرلہ، نائب مفتی دار العلوم رحیمیہ بانڈی پورہ ۱۹ جمادی الثانیه ، ۵۱۴۴۵

الجواب صحیح: العبد نذیر احمد عفی عنہ مفتی دار العلوم رحیمیه

تمت بالخير

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے