افغان طالبان نے کشمیر کو ’’بھارت کا اندرونی معاملہ‘‘ قرار دے دیا

امیر خان متقی

ایک اہم سفارتی تبدیلی کے طور پر، افغان طالبان نے 10 اکتوبر 2025 کو نئی دہلی میں اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران کشمیر مسئلے کو بھارت کا ’’اندرونی معاملہ‘‘ قرار دے دیا۔ یہ بیان افغان کے قائم مقام وزیر خارجہ مولوی امیر خان مطقی نے بھارت کے وزیر خارجہ س. جے شنکر کے ہمراہ دیا، جس نے خاص طور پر پاکستان میں تنازع کو ہوا دی ہے، کیونکہ پاکستان کشمیر کو ایک متنازعہ خطہ سمجھتا ہے جس کے حل کے لیے بین الاقوامی ثالثی ضروری ہے۔

اس مشترکہ بیان میں 22 اپریل 2025 کو پہلگام، جموں و کشمیر میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے کی مذمت بھی کی گئی، جس میں 26 افراد جان سے گئے تھے، اور افغانستان نے اس بات پر زور دیا کہ اس کی سرزمین کو بھارت کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔

مطقی نے بھارت اور افغانستان کو ’’متصل ہمسایہ‘‘ قرار دیا، جس سے پاکستان کے زیرقبضہ کشمیر (PoK) کے 106 کلومیٹر طویل سرحد کو تسلیم کرنے کا ضمنی مطلب بھی نکالا گیا، اور اس سے طالبان کا مؤقف بھارت کے دعوے کے قریب ظاہر ہوا۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے