پاکستان ”مریدکے” میں تحریک لبیک اور پنجاب پولیس کے درمیان خون ریز جھڑپیں فلسطین نواز مظاہرین پر براہ راست فائرنگ کئی مظاہرین جاں بحق درجنوں زخمی

تحریک لبیک

پنجاب کے دل مریدکے میں پیر کی صبح ایک دلخراش واقعہ پیش آیا جب پنجاب پولیس اور رینجرز نے فلسطین کے ساتھ یکجہتی کے لیے نکلنے والے تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے ہزاروں مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائیں۔ یہ مظاہرہ، جسے "لبیک یا اقصیٰ ملین مارچ” کا نام دیا گیا، اسرائیل کی غزہ میں بمباری اور پاکستانی حکومت کی مبینہ حمایت کے خلاف تھا۔ سرکاری رپورٹس کے مطابق اس تصادم میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوئے، جن میں ایک سینئر پولیس افسر اور تین مظاہرین شامل ہیں، جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔ لیکن ٹی ایل پی کا دعویٰ ہے کہ ملک بھر میں ان کے 180 سے زائد کارکن شہید اور 1500 سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں، اور وہ سیکیورٹی فورسز پر نہتے مظاہرین پر "مہلک ہتھیاروں” کے استعمال کا الزام لگا رہے ہیں۔

یہ خونریزی ٹی ایل پی کی جدوجہد کی ایک تاریک داستان ہے، جس نے فلسطین کے لیے ایک پرامن مارچ کو قومی بحران میں بدل دیا۔ سڑکیں بند، اسکول معطل، انٹرنیٹ سروسز منقطع، اور سوشل میڈیا پر فائرنگ کی ویڈیوز گردش کر رہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ عوامی نظم و ضبط کی بحالی تھی، یا خارجہ پالیسی پر اختلاف رائے کو کچلنے کی کوشش؟

چنگاری سے آگ تک: غزہ مارچ خون میں ڈوب گیا

یہ واقعہ صبح سویرے مریدکے میں پیش آیا جہاں ٹی ایل پی کے کارکن ہفتے سے جی ٹی روڈ پر کنٹینرز اور خندقوں کی وجہ سے رکے ہوئے تھے۔ ان کا مارچ 10 اکتوبر کو لاہور کے مینار پاکستان سے شروع ہوا تھا، جو اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے کے باہر دھرنے کے لیے جا رہا تھا۔ مظاہرین فلسطینی پرچم لہرا رہے تھے، "لبیک یا اقصیٰ” کے نعرے لگا رہے تھے، اور غزہ میں حالیہ جنگ بندی کو "بیک آؤٹ” قرار دیتے ہوئے پاکستان سے اسرائیل نواز ممالک سے تعلقات توڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ جب مظاہرین نے رکاوٹیں ہٹانے کی کوشش کی، تو سیکیورٹی فورسز—جن میں پانچ اضلاع سے 1200 سے زائد رینجرز اور پولیس اہلکار شامل تھے—نے آنسو گیس، لاٹھی چارج، اور بالآخر براہ راست فائرنگ شروع کر دی۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر وائرل ایک ویڈیو میں لاہور کا ایک پولیس افسر کہتا ہے: "ہمیں کہا گیا کہ سعد رضوی ’پاکستان کے لیے خطرہ‘ ہیں، لیکن وہ پرامن احتجاج کر رہے تھے۔ یہ فلسطین کا پرچم اس کا ثبوت ہے۔” اس سے پولیس کے اندر بھی اختلافات ظاہر ہوتے ہیں۔

ہلاکتوں میں مریدکے کے ایس ایچ او بھی شامل ہیں، جنہیں پنجاب پولیس چیف عثمان انور نے مظاہرین کی فائرنگ کا ذمہ دار ٹھہرایا، جس سے درجنوں اہلکار زخمی ہوئے۔ لیکن ٹی ایل پی کا کہنا ہے کہ پولیس نے ان کی قیادت کو نشانہ بنایا۔ پارٹی سربراہ حافظ سعد حسین رضوی، جو چند گھنٹوں قبل ویڈیو میں مذاکرات کی اپیل کر رہے تھے، مبینہ طور پر سینے اور پیٹ میں متعدد گولیاں لگنے سے گر پڑے اور اب لاہور کے ہسپتال میں تشویشناک حالت میں ہیں۔ ان کے بھائی انس رضوی کی بھی مبینہ طور پر شہادت ہوئی، جس سے "سازشی قتل” کے الزامات عروج پر ہیں۔

دوپہر تک، فسادات پھیل گئے۔ مظاہرین نے لاہور کے شاہدرہ میں 40 سے زائد گاڑیاں، جن میں پولیس کی موٹر سائیکلیں شامل ہیں، نذر آتش کیں۔ ٹی ایل پی سے وابستہ وکلاء نے ایوان عدل پر دھاوا بول دیا، پولیس پر حملہ کیا، اور عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔ ملک بھر میں 170 سے زائد کارکنوں کو پبلک آرڈر ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا، جبکہ راولپنڈی اور اسلام آباد میں جزوی طور پر انٹرنیٹ بحال ہوا۔

ٹی ایل پی کی تاریخ: توہین رسالت سے سیاسی طاقت تک

اس خونریزی کو سمجھنے کے لیے ٹی ایل پی کی جڑوں کو دیکھنا ضروری ہے۔ یہ ایک انتہائی دائیں بازو کی مذہبی پاپولسٹ جماعت ہے جو 1 اگست 2015 کو علامہ خادم حسین رضوی نے کراچی کے نشتر پارک میں قائم کی۔ یہ 2011 میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کے قتل سے ابھری، جسے ان کے باڈی گارڈ ممتاز قادری نے توہین رسالت کے قانون کی تنقید پر قتل کیا تھا۔ قادری کی 2016 میں سزائے موت نے بریلوی سنیوں کو متحد کیا، جو ٹی ایل پی کا بنیادی حامی طبقہ ہیں۔

خادم رضوی نے اس غم کو تحریک لبیک یا رسول اللہ (ٹی ایل وائی آر اے) میں بدلا، جو الیکشن کے حلف نامے میں ختم نبوت کے حوالے سے تبدیلیوں کے خلاف احتجاج کرتی تھی۔ ٹی ایل پی اس کا سیاسی بازو بن کر 2017 میں رجسٹرڈ ہوئی۔ اسی سال فیض آباد دھرنے نے اسلام آباد کو 21 دن تک مفلوج کر دیا، جس سے قانون کے وزیر زاہد حامد کو استعفیٰ دینا پڑا۔

خادم کی 2020 میں وفات کے بعد ان کے بیٹے سعد رضوی نے قیادت سنبھالی۔ 31 سالہ سعد، جو عربی، اردو، اور پنجابی میں روانی رکھتے ہیں، نے سوشل میڈیا اور پرجوش تقریروں سے مدرسہ طلبہ، شہری پیشہ ور افراد، اور مسلم لیگ ن کے ناراض ووٹروں کو متحد کیا۔ ٹی ایل پی شریعت (نظام مصطفیٰ)، توہین رسالت کے قوانین کی سختی، اور "اسلام دشمن” ممالک جیسے فرانس سے سفارتکاروں کی بے دخلی کا مطالبہ کرتی ہے۔

ٹی ایل پی کے اہم سنگ میل
2015: خادم رضوی نے قادری کی حمایت میں قیام کیا۔
2017: فیض آباد دھرنا، حکومتی معاہدہ۔
2018: آسیہ بی بی کی بریت پر ملک گیر ہنگامہ آرائی۔
2021: فرانس مخالف مظاہروں پر پابندی؛ بعد میں معاہدے سے ختم۔
2023: جڑانوالہ میں توہین کے الزام پر 21 گرجا گھر جلائے۔
2024: چوتھی بڑی جماعت بن کر 29 لاکھ ووٹ حاصل کیے۔
2025: غزہ مارچ مریدکے میں خونریز ہوا۔

لیکن اس کی تاریخ خون سے رنگین ہے: 2018 میں آسیہ بی بی کیس، 2021 میں فرانس مخالف مارچوں میں 11 پولیس اہلکاروں پر تشدد، اور 2023 میں جڑانوالہ میں عیسائیوں کے گھروں کی لوٹ مار۔ ناقدین اسے "غنڈہ گردی” کی تنظیم کہتے ہیں جو اقلیتوں (احمدی، عیسائی) اور اشرافیہ کے خلاف مذہبی جذبات بھڑکاتی ہے، جبکہ حامی اسے مغربی "سامراج” کے خلاف ڈھال سمجھتے ہیں۔ 2024 کے الیکشن میں اس نے پنجاب میں ن لیگ کے ووٹ کاٹ کر ممکنہ "کنگ میکر” کا کردار ادا کیا۔

آج کی صورتحال: ملک بھر میں افراتفری

شام 4 بجے تک، بحران بڑھ چکا ہے:

  • لاہور و پنجاب: ایم 2 موٹروے پر ٹائر جلائے گئے، 40 گاڑیاں نذر آتش۔ مریدکے کے ہسپتال میں 150 سے زائد زخمی لائے گئے، جن میں سے 19 کی حالت تشویشناک ہے۔ صوبے بھر میں اسکول بند، ٹرینیں مسافروں سے بھری ہیں کیونکہ سڑکیں غیر محفوظ ہیں۔
  • اسلام آباد و راولپنڈی: ریڈ زون بند، فیض آباد انٹرچینج سیل۔ مذاکرات کے بعد انٹرنیٹ جزوی طور پر بحال، لیکن تعلیمی اداروں کی بندش ختم ہوئی۔
  • کراچی و دیگر شہر: نالہ اسٹاپ اور 4 کے چورنگی پر دھرنوں نے گاڑیاں تباہ کیں۔ سندھ پولیس نے شہر کو "نارمل” قرار دیا، لیکن درجنوں گرفتاریاں ہوئیں۔

سوشل میڈیا پر ویڈیوز میں مظاہرین پتھراؤ کرتے، پولیس گولیاں چلاتی، اور ہجوم "صہیونی کٹھ پتلیوں” کے خلاف نعرے لگاتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایک ایکس پوسٹ کہتی ہے: "وہ فوج جو ’امہ کی یکجہتی‘ کی باتیں کرتی ہے، اپنے ہی لوگوں پر گولیاں چلا رہی ہے۔” ٹی ایل پی نے "ملک گیر شٹ ڈاؤن” کا اعلان کیا، لیکن سعد رضوی نے زخمی ہونے کے باوجود لاہور کے داتا دربار پر جمعے کی نماز کی کال دی۔

وزیراعظم شہباز شریف اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے ہنگامی اجلاس بلایا، جبکہ رانا ثناء اللہ مذاکرات کر رہے ہیں۔ پنجاب آئی جی ڈاکٹر عثمان انور نے سعد کی چوٹ کی تردید کی، کہتے ہوئے کہ وہ "زیر حراست ہیں اور محفوظ ہیں،” لیکن ٹی ایل پی نے اسے جھوٹ قرار دیا۔

گہری خلیج کا آئینہ

یہ خونریزی پاکستان کے ٹوٹے ہوئے چہرے کو عیاں کرتی ہے: ٹی ایل پی کا بریلوی جوش سیکولر ریاست سے ٹکرا رہا ہے، جبکہ غزہ کا درد خارجہ پالیسی پر غم و غصے کو بھڑکا رہا ہے۔ جب فلسطینی جنگ بندی منا رہے ہیں، پاکستانی سڑکیں جل رہی ہیں—ایک ایکس صارف کی ستم ظریفی: "دوسروں کے لیے امن مانگتے ہو، اپنا گھر تباہ کر رہے ہو۔” ناقدین فوج پر ٹی ایل پی کو معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے "کنٹرولڈ پراکسی” بنانے کا الزام لگاتے ہیں۔ حامی اسے ظلم سمجھتے ہیں: "شام سے فلسطین تک، عزت کی لڑائی ایک ہے۔”

جیسے ہی مریدکے کے کھنڈروں پر رات ڈھلتی ہے، نقصان بڑھ رہا ہے۔ کیا مذاکرات کامیاب ہوں گے، یا یہ لال مسجد جیسا نیا بحران بنے گا؟ پاکستان فلسطینی پرچم ہاتھ میں لیے دیکھ رہا ہے، جبکہ یکجہتی غم میں ڈوب گئی۔

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

الاستاذ المودودی _ و شيئ من حياته و افكاره پر معروف قلمکار غلام نبی کشافی کا تبصرہ

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے