خدا کے وجود پر مفتی شمائل ندوی اور جاوید اختر کا مناظرہ قسط دوم
کل کی تحریر کے بعد یہ مناسب محسوس ہوا کہ اسی بحث کے بعض مزید پہلو واضح انداز میں سامنے رکھے جائیں۔ یہ نکات وضاحت چاہتے ہیں، کیونکہ کئی احباب نے نجی طور پرجاننا چاہا کہ مجموعی تاثر کیا رہا۔
یہ بات دیانت داری سے کہی جا سکتی ہے کہ مفتی شمائل ندوی صاحب کی گفتگو عام ایمان رکھنے والے نوجوانوں کے لئے مجموعی طور پر مثبت رہی۔ اس کی بڑی وجہ جاوید اختر صاحب کی کھلی مذہب بیزاری تھی، نہ کہ ان کی گہری علمی تیاری۔ ان کا الحاد زیادہ تر جذباتی نوعیت کا دکھائی دیا۔ وہ ایک فکری اور فلسفیانہ طور پر منظم ملحد ثابت نہیں ہوئے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنا ضروری ہے۔ الحاد کو فکری سطح پر جاننے اور اس کا سامنا کرنے کے لئے غیر معمولی علمی تیاری درکار ہوتی ہے۔ جدید الحاد فلسفہ، سائنس، نفسیات اور تاریخ کے امتزاج سے وجود میں آیا ہے۔ اس کے سوالات سطحی نہیں ہوتے۔ ان کے پیچھے پورا فکری نظام کام کرتا ہے۔
میرے نزدیک اگرچہ مفتی صاحب نے کئی سوالوں کے وہ تشفی بخش جوابات پیش نہیں کئے جو ہم خدا کو ماننے والے عام طور پر دیتے ہیں۔ یہ بات کسی تنقیص کے طور پر نہیں بلکہ ایک علمی مشاہدے کے طور پر عرض کر رہا ہوں۔ اس عاجز کو کئی فکری ملحدین کے ساتھ براہ راست مباحث اور ڈبیٹس کا تجربہ رہا ہے۔ اس تجربے کی روشنی میں یہ بات کہنا ضروری محسوس ہوتی ہے۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ مفتی صاحب کو اللہ نے فطری ذہانت، جرات اور اعتماد عطا کیا ہے۔ یہ بڑی نعمت ہے۔ لیکن من حیث الجماعت ہمارے مناظرین اور مکالمہ کرنے والوں کو الحاد کے خلاف کہیں زیادہ گہری اور منظم علمی تیاری کی ضرورت ہے۔ کل کی بحث میں جاوید اختر صاحب ایک جذباتی ملحد ثابت ہوئے۔ اگر سامنے کوئی سنجیدہ فکری ملحد ہوتا تو کئی مقامات پر مفتی صاحب کو زیادہ زور لگانا پڑتا۔
مثال کے طور پر مسئلۂ شر اور مسئلۂ دکھ، جسے "پرابلم آف ایول یا سفرنگ” کہا جاتا ہے, اس کا اصل جواب اللہ کے علم اور حکمت کے تصور میں ہی پوشیدہ ہے۔ یہ جواب فلسفیانہ طور پر بھی مضبوط ہے اور ایمانی طور پر بھی۔ مگر اس نکتے کو بھرپور، منظم اور مربوط انداز میں پیش نہیں کیا گیا۔ اس کے باوجود یہ حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ مجموعی طور پر ہر مرحلے پر پلڑا مفتی صاحب کا ہی بھاری رہا۔
میں نے کل کی پوسٹ میں یہ عرض کرنے کی کوشش کی کہ اس طرح کی بحثوں کے بعد ملحدین کی کیفیت بیدار کئے گئے درندے جیسی ہو جاتی ہے۔
آج اس بات کی مزید وضاحت ضروری ہے۔ ایسے مباحث اور ہر شکست کے بعد وہ زیادہ جارح، زیادہ سرگرم اور زیادہ منظم ہو جاتے ہیں۔ وہ نئے سوالات کے ساتھ سامنے آتے ہیں۔ وہ نوجوان ذہنوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ اس لئے ردعمل وقتی نہیں بلکہ طویل المدت تیاری کا ہونا چاہئے۔
یہ معاملہ کسی ایک مناظرے یا ایک شخص کا نہیں۔ یہ پورے فکری محاذ کا سوال ہے۔ ہمیں جذباتی فتح پر مطمئن ہونے کے بجائے علمی کمزوریوں کو پہچاننا ہوگا۔ اگر ہم نے اپنی تیاری کو سنجیدہ نہ بنایا تو اگلی بار مقابلہ زیادہ مشکل ہو سکتا ہے۔
دانش مندی کا تقاضا یہ ہے کہ ہم نیت کے خلوص کے ساتھ طریقے کی اصلاح بھی کریں۔
ایمان کی حفاظت، ذہنوں کا اطمینان، اور سوالات کا بروقت اور گہرا جواب، یہی اصل کامیابی ہے۔
ایک اور بنیادی نکتہ بھی شامل کرنا ضروری ہے جو کل کے مکالمے کو دیکھتے ہوئے بار بار ذہن میں آتا رہا۔
میرے نزدیک اس مکالمے کا عنوان ہی درست نہیں تھا۔ "کیا خدا موجود ہے”۔ اس عنوان کے ساتھ ہی خدا کو ماننے والا فریق لاشعوری طور پر دفاعی پوزیشن میں چلا جاتا ہے۔ گویا کائنات میں خدا کا نہ ہونا بائی ڈیفالٹ مفروضہ ہے اور ایمان بائی ڈیزائن ایک دعوی ہے جسے ثابت کرنا لازم ہے۔ یہ فکری ترتیب ہی غلط ہے۔
درست سوال یہ نہیں ہونا چاہئے کہ "کیا خدا موجود ہے” بلکہ سوال یہ ہونا چاہئے کہ "کیا خدا موجود نہیں”۔ اس صورت میں انکار کرنے والا فریق جواب دہ بنتا ہے۔ اسے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ کس بنیاد پر خالقِ مطلق کے انکار کا دعوی کر رہا ہے۔ کائنات کا وجود، اس کا نظم، اس کے اندر موجود علت و معلول کا رشتہ، سب خود بخود خالق کو ماننے کی طرف رہنمائی کرتے ہیں۔
ایمان کسی خلا میں پیدا نہیں ہوتا۔ وہ وجود، شعور اور تجربے کے ساتھ ہم آہنگ ہوتا ہے۔ اصل فکری بوجھ انکار پر ہے، اقرار پر نہیں۔ جب عنوان ہی الٹا
رکھا جائے تو پورا مکالمہ ایک غیر فطری سمت میں چلا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سی باتیں درست ہونے کے باوجود مطلوبہ فکری اثر پیدا نہیں کر پاتیں۔
اگر ہم سوال کی ساخت درست نہ کریں تو جواب کی قوت بھی ضائع ہو جاتی ہے۔ اس لئے آئندہ ایسے مکالموں میں سب سے پہلے فکری فریم کو درست کرنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر نذیر احمد زرگر
کشمیر، انڈیا
قلمکار: ڈاکٹر نذیر احمد زرگر سری نگر
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !