بنگلہ دیش میں بدامنی میں اضافہ، عثمان ہادی کے قتل کے بعد این سی پی رہنما مطلعِب سِکدر کو گولی مار کر قتل کردیا گیا
بنگلہ دیش ایک بار پھر شدید سیاسی کشیدگی اور عدم استحکام کی لپیٹ میں آ گیا ہے، جہاں مطلعِب سِکدر، جو نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) کے سینئر رہنما ہیں، کو جنوب مغربی شہر کھلنا میں فائرنگ کر کے شدید زخمی کر دیا گیا۔ یہ واقعہ معروف نوجوان کارکن شریف عثمان ہادی کے قتل کے چند ہی دن بعد پیش آیا ہے، جس نے پہلے ہی ملک بھر میں احتجاج اور بدامنی کو جنم دیا تھا۔ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
کھلنا میں فائرنگ کا واقعہ
پولیس کے مطابق یہ واقعہ کھلنا کے علاقے سونادنگا میں دوپہر کے وقت پیش آیا، جہاں نامعلوم حملہ آوروں نے مطالعِب سِکدر کو قریب سے گولی ماری۔ انہیں تشویشناک حالت میں کھلنا میڈیکل کالج اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ابتدائی طور پر ان کی حالت نازک بتائی گئی۔
بعد ازاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ گولی سر کو چھوتی ہوئی گزری اور کسی اہم حصے کو نقصان نہیں پہنچا، جس کے بعد ان کی حالت اب خطرے سے باہر بتائی جا رہی ہے۔ مطالعِب سِکدر این سی پی کے لیبر ونگ جتیہ شرمک شکتی کے مرکزی منتظم اور کھلنا ڈویژن کے سربراہ ہیں۔
پولیس نے علاقے میں اضافی نفری تعینات کر دی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش جاری ہے۔ تفتیشی حکام اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا یہ حملہ سیاسی نوعیت کا تھا یا کسی مقامی تنازعے کا نتیجہ۔
شریف عثمان ہادی کا قتل
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب بنگلہ دیش ابھی شریف عثمان ہادی کے قتل کے صدمے سے باہر نہیں آیا۔ عثمان ہادی کو 12 دسمبر کو ڈھاکا میں فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا تھا اور وہ 18 دسمبر کو سنگاپور میں علاج کے دوران انتقال کر گئے۔
ان کی ہلاکت کے بعد ڈھاکا اور دیگر شہروں میں شدید احتجاجی مظاہرے ہوئے، جن میں عوام نے انصاف اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ ان مظاہروں کے دوران تشدد، املاک کو نقصان اور پولیس کے ساتھ جھڑپیں بھی دیکھنے میں آئیں۔
انتخابات سے قبل بڑھتی کشیدگی
این سی پی، جو 2024 کی طلبہ تحریک کے بعد ابھری، بنگلہ دیش کی سیاست میں ایک اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ مسلسل ہونے والے حملوں نے یہ خدشات بڑھا دیے ہیں کہ آنے والے 2026 کے انتخابات سے قبل سیاسی تشدد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر حالات پر قابو نہ پایا گیا تو یہ صورتحال جمہوری عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔ عوامی حلقوں اور بین الاقوامی مبصرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے اور ملک میں امن و امان بحال کیا جائے۔
بنگلہ دیش اس وقت ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے، جہاں امن، انصاف اور سیاسی استحکام کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !