ایران احتجاج

ایران کا امریکا اور اسرائیل کو سخت انتباہ، مظاہروں میں مداخلت پر “سنگین نتائج” کی دھمکی

ایران کے اعلیٰ حکام نے جمعہ کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے بیانات پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے اندرونی معاملات میں کسی بھی قسم کی غیر ملکی مداخلت کا جواب “انتہائی افسوسناک” ہوگا۔ ایرانی حکام نے واضح کیا کہ ملکی سلامتی ایک “سرخ لکیر” ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔

ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سیاسی مشیر اور دفاعی کونسل کے نمائندے علی شمخانی نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس (X) پر لکھا کہ ایران کی قومی سلامتی کسی بھی بیرونی دباؤ یا “مہم جو ٹویٹس” کا موضوع نہیں بن سکتی۔

شمخانی نے امریکی صدر کے “بچانے” سے متعلق بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام امریکا کے نام نہاد ریسکیو مشنز سے بخوبی واقف ہیں۔ انہوں نے عراق اور افغانستان میں امریکی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی سلامتی کی طرف بڑھنے والا ہر ہاتھ افسوسناک انجام سے دوچار ہوگا۔

ادھر ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کے سیکریٹری علی لاریجانی نے امریکا اور اسرائیل پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان کے بیانات ملک میں عدم استحکام پھیلانے کی کوشش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران پُرامن احتجاج کرنے والے دکانداروں اور تخریبی عناصر کے درمیان واضح فرق جانتا ہے۔

لاریجانی نے خبردار کیا کہ اگر امریکا نے ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی تو اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے اور امریکی مفادات کو شدید نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی عوام کو اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں بھی سوچنا چاہیے۔

ایرانی حکام کا یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب صدر ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں تہران کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے خبردار کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر پُرامن مظاہرین کے خلاف تشدد کیا گیا تو امریکا “مدد کے لیے تیار” ہے۔

دوسری جانب اسرائیل کی وزارتِ خارجہ نے بھی ایرانی مظاہرین کی حمایت میں بیانات جاری کیے۔ فارسی زبان میں کیے گئے پیغامات میں کہا گیا کہ ایرانی عوام ایک ایسی حکومت نہیں چاہتے جو مبینہ طور پر ملکی وسائل حماس، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے گروہوں پر خرچ کرے جبکہ معیشت تباہی کا شکار ہو۔

اسی دوران ایران کے مختلف صوبوں میں مظاہرین اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔ سرکاری میڈیا کے مطابق بعض مقامات پر مظاہرین نے پتھراؤ کیا، گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا اور سرکاری عمارتوں کو نقصان پہنچایا۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ کچھ مسلح عناصر نے مظاہروں کا فائدہ اٹھایا، تاہم اس کے شواہد پیش نہیں کیے گئے۔

رپورٹس کے مطابق حالیہ مظاہرے 2022 کے بعد سب سے بڑے احتجاج ہیں، جو اس وقت شروع ہوئے تھے جب پولیس حراست میں مہسا امینی کی موت واقع ہوئی تھی

ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف

امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”

شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی  کی  انتہا پسندانہ مہم جوئی

کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !

Similar Posts

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے