دنیا بھر میں جب فلسطینی تحریک آزادی کی بات ہوتی ہے تو ایک نام سب سے نمایاں نظر آتا ہے — مروان البرغوثی۔ انہیں اکثر "فلسطینی منڈیلا” کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اپنی جدوجہد اور قید و بند کی داستانوں کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ فلسطینی اتحاد، مزاحمت اور امن کی علامت بھی بن چکے ہیں۔ ان کی زندگی فلسطینی قوم کے دکھ، امید، اور عزم کا عکس ہے۔
ابتدائی زندگی اور پس منظر
مروان البرغوثی 6 جون 1959 کو مغربی کنارے کے شہر رام اللہ کے قریب گاؤں کوبر میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک معروف فلسطینی خاندان البرغوثی سے تعلق رکھتے ہیں۔ بچپن ہی سے انہوں نے اسرائیلی قبضے کے سائے میں زندگی گزاری۔
1967 کی چھ روزہ جنگ کے دوران اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کیا، جس کے بعد ان کے گاؤں میں یہودی بستیوں اور فوجی چوکیوں کا جال بچھ گیا۔ انہی حالات نے ان کے اندر آزادی کی تڑپ پیدا کی۔
15 سال کی عمر میں ہی انہوں نے یاسر عرفات کی قیادت میں قائم فتح تحریک میں شمولیت اختیار کی اور جلد ہی مغربی کنارے میں فتح یوتھ موومنٹ (شبیبہ) کی بنیاد رکھی۔ اسی عمر میں انہیں پہلی بار اسرائیلی افواج نے گرفتار کیا۔
تعلیم اور خاندانی زندگی
قید کے دوران انہوں نے اپنی تعلیم جاری رکھی اور عبرانی زبان سیکھی تاکہ دشمن کو بہتر سمجھ سکیں۔ بعد میں انہوں نے بیرزیت یونیورسٹی سے تاریخ اور سیاسیات میں بیچلرز اور بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔
1984 میں ان کی شادی فدویٰ ابراہیم البرغوثی سے ہوئی، جو خود ایک مشہور فلسطینی وکیل اور انسانی حقوق کی سرگرم کارکن ہیں۔ ان کے چار بچے ہیں — قاسم، روبہ، شرف، اور عرب۔
سیاسی کیریئر اور مزاحمتی کردار
مروان البرغوثی کی سیاسی سرگرمیاں طالب علمی کے دور سے شروع ہوئیں۔ 1987 میں پہلی انتفاضہ کے دوران اسرائیل نے انہیں تیونس جلاوطن کر دیا۔
جلاوطنی کے باوجود وہ فلسطینیوں کے ساتھ رابطے میں رہے اور فتح کی انقلابی کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔
1994 میں اوسلو معاہدے کے بعد وہ فلسطین واپس آئے اور امن عمل کی حمایت کی، مگر جلد ہی اسرائیل کی پالیسیوں سے مایوس ہو گئے۔ 1996 میں وہ فلسطینی قانون ساز کونسل کے رکن منتخب ہوئے اور یاسر عرفات کی حکومت میں بدعنوانی اور طاقت کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھائی۔
2000 میں دوسری انتفاضہ شروع ہوئی، جس کے دوران وہ فتح کے تنظیمی ونگ "تنزیم” کے سربراہ بنے۔ انہوں نے اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کے خلاف مزاحمت کی حمایت کی، مگر عام شہریوں پر حملوں کی مخالفت کی۔
یہ عرب ہے اور مروان البرغوثی کا بیٹا ہے یہ فوٹو بی بی سی نے شائع کیا ہے
گرفتاری اور مقدمہ
15 اپریل 2002 کو اسرائیلی افواج نے آپریشن ڈیفنس شیلڈ کے دوران انہیں گرفتار کیا۔ ان پر الزام عائد کیا گیا کہ وہ الاقصیٰ شہدا بریگیڈز کے بانی ہیں، جو اسرائیلی اہداف پر حملے کرتی تھی۔
انہوں نے مقدمے کے دوران اسرائیلی عدالت کے دائرہ اختیار کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ 2004 میں انہیں پانچ قتلوں اور ایک ناکام حملے میں ملوث ہونے پر پانچ عمر قیدوں اور 40 سال اضافی سزا سنائی گئی۔
بین الاقوامی اداروں نے اس مقدمے کو غیرمنصفانہ قرار دیا۔ انٹر پارلیمنٹری یونین کی رپورٹ کے مطابق انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، نیند سے محروم رکھا گیا اور دفاع کا حق محدود کیا گیا۔
قید میں زندگی اور مزاحمت
مروان البرغوثی نے 23 سال سے زیادہ عرصہ اسرائیلی جیلوں میں گزارا ہے۔ اس دوران وہ فلسطینی قیدیوں کے لیے مزاحمت کی علامت بن گئے۔
2017 میں انہوں نے قیدیوں کی بھوک ہڑتال کی قیادت کی، جس سے ملاقاتوں اور بنیادی حقوق میں بہتری آئی۔
اکتوبر 2023 سے وہ اوفر جیل میں تنہا قید میں ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کی صحت بگڑ چکی ہے، کندھے کی ہڈی اتر گئی ہے، اور ملاقاتوں پر مکمل پابندی ہے۔
"فلسطینی منڈیلا” کیوں؟
انہیں "فلسطینی نیلسن منڈیلا” اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے قید میں رہ کر بھی اپنی قوم کی سیاسی یکجہتی اور امن کی بات جاری رکھی۔
جیسے منڈیلا نے نسلی تفریق کے خلاف قیادت کی، البرغوثی فلسطینی دھڑوں — فتح اور حماس — کے درمیان اتحاد کے داعی ہیں۔
ان کے بیٹے عرب البرغوثی کے مطابق، "میرے والد کو سیاسی خطرہ سمجھا جاتا ہے، نہ کہ عسکری خطرہ۔” عوامی رائے عامہ کے مطابق، وہ صدر محمود عباس کے بعد سب سے زیادہ مقبول فلسطینی رہنما ہیں۔
ٹرمپ کا بیان اور نئی امید
اکتوبر 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹائم میگزین کے انٹرویو میں کہا کہ وہ اسرائیل سے مروان البرغوثی کی رہائی کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب غزہ جنگ بندی کے بعد ممکنہ فلسطینی قیادت پر عالمی بحث جاری تھی۔
البرغوثی کے گاؤں کوبر میں اس خبر پر جشن منایا گیا۔ ان کے کزن محمد البرغوثی نے کہا:
“ہمیں یقین ہے کہ مروان جلد رہا ہوں گے۔ وہ ہی فلسطینی اتحاد کی کلید ہیں۔”
کئی اسرائیلی تجزیہ کاروں اور سابق حکام، جیسے ایفریم ہالیوی، بھی البرغوثی کی رہائی کو امن کے لیے ضروری سمجھتے ہیں، اگرچہ دائیں بازو کے سیاستدان سخت مخالف ہیں۔
ممکنہ اثرات
اگر مروان البرغوثی رہا ہو جاتے ہیں تو یہ فلسطینی سیاست میں ایک نیا باب کھول سکتا ہے۔
- وہ فتح اور حماس کے درمیان اتحاد قائم کر سکتے ہیں۔
- فلسطینی اتھارٹی کو نئی قیادت اور عوامی مقبولیت مل سکتی ہے۔
- دو ریاستی حل کے لیے مذاکرات دوبارہ زندہ ہو سکتے ہیں۔
البرغوثی کے بھائی مغبل البرغوثی کے الفاظ میں:
“وہ واحد شخص ہیں جو فلسطینیوں کو متحد کر سکتے ہیں جیسے کوئی اور نہیں۔”
اختتامی کلمات
مروان البرغوثی کی زندگی ایک جدوجہد کی داستان ہے — ایک قوم، ایک قید، اور ایک امید۔
وہ نہ صرف فلسطین بلکہ دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کے لیے حوصلے کی علامت ہیں۔
اگر کبھی ان کی رہائی ممکن ہوئی، تو شاید وہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے ایک نئے دور کا آغاز ثابت ہوں۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !