مولانا محمد واضح رشید حسنی ندویؒ مشفق استاد ہی نہیں ایک بے باک مصنف اور صحافی بھی تھے
تقدیرِ الٰہی کے رازہائے سربستہ کی نقاب کشائی انسان کے بس کی بات نہیں۔ اس کا علم ناقص، اس کی نگاہ محدود اور اس کی معرفت اپنی سرحدوں میں مقید ہے۔
یہ سچ ہے کہ انسان ستاروں پر کمند ڈال سکتا ہے، سورج کی شعاعوں کو اپنی گرفت میں لے سکتا ہے.
فضا میں پرواز کرنا اور سمندر کی تہوں میں غوطہ زنی کرنا اس کے لیے کوئی انہونی بات نہیں رہی؛ مگر انسان کی شخصیت—جو کائنات کا سب سے گہرا، سب سے پیچیدہ اور سب سے پراسرار راز ہے—اس کے فہم سے آج بھی ماورا ہے۔
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے تازہ خبر ملے
ہوا میں اڑنا، پانی پر چلنا، فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیاں سر کرنا اور سمندر کی تہوں میں چھپے رازوں کو کھوج نکالنا آسان ہے؛ مگر کسی انسان کو سمجھنا، اس کی شخصیت کی تہوں تک رسائی حاصل کرنا اور پھر اسے دوسروں کے سامنے اس کے صحیح تناظر میں پیش کرنا—یہ ایک ایسا دشوار ترین فریضہ ہے جس کے لیے محض عقل نہیں، دل کی آنکھ بھی درکار ہوتی ہے۔اور جب وہ شخصیت حضرت مولانا محمد واضح رشید حسنی ندویؒ جیسی ہمہ جہت، جامع الصفات اور مجمعِ کمالات ہو، تو اس دشواری کا کیا ٹھکانہ! نہ قلم میں وہ روانی باقی رہتی ہے، نہ زبان میں وہ قوتِ گویائی۔ لفظ جیسے ساکت ہو جاتے ہیں اور احساسات تحریر کا ساتھ دینے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔
یقیناً مولانا محمد واضح رشید حسنی ندویؒ کی زندگی کا بیان محض ایک فرد کی داستان نہیں، بلکہ ایک قوم کے حال اور ایک ملت کے مستقبل کی بامعنی تفسیر ہے۔
مولانا مرحوم ان خوش نصیب علماء میں سے تھے جنہوں نے ندوۃ العلماء کے مقاصد کو محض ایک ادارہ جاتی فکر نہیں بلکہ مقصدِ حیات بنا لیا تھا۔ دبستانِ ندوہ ان کی ذات میں پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر تھا۔ وہ بزمِ شبلی کے سچے ترجمان اور فکرِ سلیمانی کے امین تھے۔ ندوہ ان کے نزدیک محض ایک درس گاہ نہیں، بلکہ ایک عظیم علمی تحریک، ایک بلند نصب العین اور ایک تابندہ فکری میراث کا آئینہ دار تھا۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ندوۃ العلماء کی وسیع و جامع فکر کو بہتوں نے اپنایا، اور ندوی فکر کی ترجمانی کا دعویٰ بھی کہیوں نے کیا؛ مگر سچ یہ ہے کہ اس تحریک کا اعلیٰ نصب العین جس ایثار، قربانی اور خود سپردگی کا تقاضا کرتا ہے، اس پر پورا اترنے والے بہت کم ہوتے ہیں۔
انہی گنی چنی، نادر اور خالص شخصیات میں مولانا مرحوم کا نام نہایت نمایاں تھا۔آپ نے آل انڈیا ریڈیو کی ہزاروں کی ملازمت پر ندوہ کے چند سیکڑوں کو ترجیح دی۔ ایک باوقار، بلند منصب کو ترک کر کے دارالعلوم ندوۃ العلماء کی عام استاذی اختیار کی اور اس ایمان افروز یقین کے ساتھ کہ پھر پوری زندگی اس فیصلے کو کبھی خلافِ عقل یا خلافِ دانش نہ سمجھا۔
مولانا ایک باکمال مدرس اور ایک عظیم شخصیت ساز تھے۔ طلبہ کے ذہن و فکر کو صحیح رخ دینا، ان کے سامنے غور و فکر کے لیے کشادہ میدان مہیا کرنا’یہ ان کا خاص جوہر تھا۔ وہ اپنے شاگردوں اور خوردوں کو غیر معمولی اہمیت دیتے، ان کی حوصلہ افزائی کرتے، حتیٰ کہ ان کی غیر مرتب اور ابتدائی تحریروں تک کو یاد رکھتے اور مناسب موقع پر نہایت شفقت کے ساتھ اصلاح کی طرف متوجہ کرتے۔
جب مولانا کسی موضوع پر گفتگو فرماتے تو وہ نہایت ٹھوس، جامع اور گہرے فکری ربط کی حامل ہوتی۔ ان کے جملے ایسے مضبوط اور مربوط ہوتے کہ ہم طلبہ انہیں عقیدت سے ’’متن المتون‘‘ کہا کرتے تھے۔ اور یہ کوئی مبالغہ نہیں کہ مولانا کی چند سطروں کی گفتگو دسیوں کتابوں کے مطالعے پر بھاری ہوتی تھی۔
مولانا محمد واضح رشید حسنی ندویؒ مشفق استاد ہی نہیں ایک بے باک مصنف اور صحافی بھی تھے ۔ مرحوم کا قلم محض تنقید یا بے باکی کا مظہر نہ تھا، بلکہ وہ وقار، متانت اور سنجیدگی کا حسین امتزاج تھا۔ وہ مسلمانوں کے حالات پر گہری نظر رکھتے، نقد بھی کرتے، مگر ساتھ ہی مسئلے کا حل اور اس کا عملی علاج بھی پیش کرتے۔ ایک کامیاب ادیب اور بیدار مغز صحافی کی یہی اصل ذمہ داری ہے کہ وہ حالات کا صحیح تجزیہ کرے، قارئین کو صرف سوالوں کے جنگل میں نہ چھوڑ دے، بلکہ ان کے سامنے ان کی ذمہ داریوں اور فرائض کو بھی واضح کرے اور ان کے احساسات کو سرد پڑنے نہ دے۔
تاہم یہ تمام علمی و فکری کمالات اپنی جگہ؛ مولانا مرحوم کی زندگی کا اصل جوہر ان کے اخلاق تھے۔ علم، فکر اور ادب کے ساتھ ساتھ انسانی عظمت کے ہر پہلو میں وہ یکتائے روزگار تھے۔
اخلاق کی بلندی، کردار کی پاکیزگی، گفتار و رفتار کی سنجیدگی اور مزاج کی غیر معمولی نرمی—یہ سب ان کی شخصیت کے روشن عنوانات تھے۔
سراپا انکسار، سراپا تواضع، حد درجہ فروتن! ان کے چہرے کی بشاشت اور خندہ جبینی ان کے پاکیزہ قلب اور لطیف طبع کی سچی ترجمان تھی۔ وہ کم سخن مگر نہایت وسیع النظر عالم تھے۔ ان کی ذات سے علم و ادب کی نہ جانے کتنی انجمنیں زندہ تھیں۔ ان کی مثال اس گہرے سمندر کی سی تھی جس کی سطح پرسکون، مگر اندر موتیوں اور بیش قیمت خزانوں سے بھری مہوئی ہو۔
16 جنوری کو موصول ہونے والی حضرت مولانا کی وفات کی خبر ایسی نہ تھی کہ خاموشی سے گزر جاتی۔ آپ کی شخصیت نے عالمِ علم و فکر سے اپنی عظمت کا اعتراف کرا لیا تھا، اس لیے ایک عالم نے آپ کا ماتم کیا۔ ملک کے گوشے گوشے میں اور بیرونِ ملک جہاں جہاں آپ کا نام اور آپ کی روشنی پہنچی تھی، وہاں وہاں دل افسردہ ہوئے، آنکھیں نم ہوئیں، تعزیتی نشستیں منعقد ہوئیں اور اہلِ قلم و اہلِ زبان نے اپنے دل کا درد لفظوں میں ڈھال کر مولانا کی علمی و فکری عظمت کو خراجِ عقیدت پیش کیا.
آپ کی وفات نے ندوۃ العلماء کے قلب و جگر پر خاص طور سے ایک ایسا گہرا زخم لگایا ہے جو مدتوں مندمل ہوتا نظر نہیں آتا۔
قلمکار: محمد نفیس خان ندوی
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !