یہ تقریباً 37 سال قبل کی بات ہے کہ میرے ایک استاد تھے ، جن کا نام گرامی مولانا حفیظ الرحمٰن دیوبندی تھا ۔ ان کو مجھ سے کافی لگاؤ تھا ، اور مطالعہ و تحریر کی طرف باربار تلقین کرتے تھے ، اور ان کے پاس اکثر نئی کتابیں موصول ہوتی رہتی تھیں ، اور انہوں نے مجھے بھی کئی کتابیں تحفتاً دے دی تھیں ، جن میں ایک یہ عربی کتاب بھی تھی ۔ جو مولانا سید ابو الاعلیٰ مودودی (1903ء – 1979ء) کے تصور دین پر ایک تنقیدی کتاب تھی ۔
” الاستاذ المودودی ”
و شيئ من حياته و افكاره "
اس کتاب کے مصنف کا نام ” محمد یوسف البنوری ” ہے ۔ اس کے صفحات کی تعداد 150 ہے ، اور اس کتاب کا جو ایڈیشن میرے پاس موجود ہے ، وہ 1980ء کا ہے ۔ جو استانبول ترکی سے شائع ہوا ہے ، اور یہ کتاب مولانا مودودی کے تصور دین کی تنقید میں ہے ۔ چنانچہ اس وقت میں اسی کتاب کو دیکھ رہا تھا ، اور اس میں ایک مضمون کا عنوان اس طرح ہے ۔
” شيئ من أفكاره "
الله ، و الرب ، و العبادة و الدين في نظره "
یعنی مولانا سید مودودی کے چند افکار : اللہ، رب، عبادت اور دین ان کی نظر میں
یہ عنوان در اصل مولانا مودودی کی اس عبارت کی تنقید میں ترتیب دیا گیا ہے ۔
” لیکن بعد کی صدیوں میں رفتہ رفتہ ان سب الفاظ کے وہ اصلی معنی جو نزول قرآن کے وقت سمجھے جاتے تھے ، بدلتے چلے گئے ، یہاں تک کہ ہر ایک اپنی پوری وسعتوں سے ہٹ کر نہایت محدود بلکہ مبہم مفہومات کے لئے خاص ہو گیا ، اس کی ایک وجہ تو خالص عربیت کے ذوق کی کمی تھی ، اور دوسری وجہ یہ تھی کہ اسلام کی سوسائٹی میں جو لوگ پیدا ہوئے تھے ، ان کے لئے الہ اور رب اور دین اور عبادت کے وہ معانی باقی نہ رہے تھے ، جو نزول قرآن کے وقت غیر مسلم سوسائٹی میں رائج تھے ، انہی دونوں وجوہ سے دور آخر کی کتب لغت و تفسیر و اکثر قرآنی الفاظ کی تشریح اصل معانی لغوی کے بجائے ان معانی سے کی جانے لگی ، جو بعد کے مسلمان سمجھتے تھے "
( قرآن کی چار بنیادی اصطلاحیں : ص 8-9 / ایڈیشن 1984ء)
مولانا سید مودودی کے اس سخت تنقیدی نوٹ کے جواب میں زیر نظر عربی کتاب سے اوپر دئے گئے عنوان (” شيئ من أفكاره ") کے تحت ایک جگہ یہ ایک غور طلب اقتباس پڑھنے کو ملا ، جو میں یہاں اپنے اردو ترجمہ کے ساتھ نمونہ کے طور پر پیش کرتا ہوں ۔
” مثل هذه الدعوى العريضة فتح لباب لكل زيغ و ضلال ، يرتفع الامان عن ارباب اللغة و المفسرين طوال هذه القرون وفثح للتأويل في القران بما يفهمه العقل و الإدراك كيف ماشاء دون أن يستشهد و يحتج بائمة اللغة و أرباب التفسير فانظر يا رعاك الله شيئ لم يعرفه محمد بن جرير الطبري إلى ما بعده و لا الجرجاني ولا الزمخشري ولا ابن تيمية ولا ابن القيم ولا ابن كثير ولا من قبلهم ولا من بعدهم و المودودي الذي قام يفهمه بعد هذه الفترة الطويلة من القرون الاربعة عشرة و كانت هذه الفجوة البعيدة للجهل بمعانيها و من هذه الكلمات الاربعة ، الإله ، و الرب ، و العبادة و الدين "
ایسا وسیع و عریض دعویٰ ہر قسم کی کجی اور ضلالت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔ اس سے یہ لازم آتا ہے کہ پچھلے تمام صدیوں میں اہلِ لغت اور مفسرین سے امام و اعتماد اٹھ جائے، اور قرآن کی تفسیر عقل و فہم کے مطابق جس طرح کوئی چاہے کرنے کی راہ کھل جائے — بغیر اس کے کہ اہلِ لغت اور مفسرینِ قرآن کی شہادت اور دلیل پیش کی جائے۔ ذرا غور کرو، اللہ تم پر رحم کرے کہ یہ ایسا دعویٰ ہے جسے نہ محمد بن جریر طبری نے سمجھا، نہ ان کے بعد آنے والوں میں جرجانی، زمخشری، ابن تیمیہ، ابن القیم، ابن کثیر، اور نہ ان سے پہلے یا بعد کے کسی عالم نے۔ لیکن مولانا مودودی نے چودہ صدیوں کے طویل عرصے کے بعد اس کو سمجھنے کا دعویٰ کیا۔ پس یہ طویل خلا (فاصلہ) انہی چار الفاظ کے معانی کے بارے میں جہالت سے بھرا ہوا سمجھا جائے گا — یعنی: الإله (معبود)، الرب (پروردگار)، العبادة (عبادت)، اور الدين (دین)۔
مولانا مودودی کا یہ کہنا کہ بعد کے ادوار میں قرآن کی اہم اصطلاحات کے معنی بدلتے اور ہٹتے چلے گئے ، اور یہ بھی فرماتے ہیں کہ ” اس میں ایک وجہ عربیت میں ذوق کی کمی بھی تھی ” جو کہ مضحکہ خیز بات ہے ، حالانکہ مولانا سید مودودی خود عربی زبان میں بات کرنے سے قاصر تھے ، وہ صرف عربی کتب پڑھ سکتے تھے ، مگر عربی میں خود کچھ لکھ سکتے تھے اور نہ بول سکتے تھے ۔
مولانا امین احسن اصلاحی نے اپنی تفسیر میں دو مقامات پر مولانا مودودی پر بغیر نام لئے تنقید کی ، اور ان کے یہ دو اقتباسات قابل غور ہیں .
(1) ” لیکن مولانا ( حمید الدین فراہی) کی تصنیفات عربی میں ہیں ، اس وجہ سے جن ( مولانا مودودی) کی عربی خام ہے ، بعض اوقات وہ غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں "
(تدبر قرآن ۔ ج 8 ۔ص 121)
(2) ” ہمارے نزدیک وہ ( مولانا مودودی) عربیت کے ایک خاص اسلوب بلاغت سے نا آشنا ہیں "
(تفصیل کے لئے دیکھئے -تدبر قرآن ۔ ج 9 ، ص560 تا 566)
تو اس صورت میں مولانا سید مودودی کے قریبی ساتھی کے شواہد کے پیش نظر مولانا سید مودودی کے قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات کے معانی کے دعوے کے حوالے سے زیر نظر کتاب کا عربی اقتباس قابل غور ہے کہ اس صورت حال میں جرجانی ، ابن تیمیہ ابن قیم ، ابن کثیر ، زمخشری وغیرہ علماء عرب ، جن کی مادر زبان عربی تھی ، پھر وہ کیا کر رہے تھے ؟ یہ اہم سوال ہے ، جس کا مذکورہ کتاب میں جواب دینے کی کوشش کی گئی ہے ۔
آخر پر عرض ہے کہ میں نے اس مضمون میں ایک عربی کتاب کا ایک مختصر تعارف پیش کیا ہے ، لیکن میں امید کرتا ہوں کہ غیر ضروری بحث میں پڑنے کے بجائے ہم قرآن کی چار بنیادی اصطلاحات کے حوالے سے قدیم و جدید قابل اعتماد عربی و اردو کتب تفاسیر کو ملحوظ خاطر رکھ کر اپنے طور سے بھی تقابلی مطالعہ و تحقیق کرنے کی عادت ڈالیں ، اور قرآن کو سمجھنے کے لئے خود بھی کوشش کریں ۔
مزید خبریں:
گلوبل صمود فلوٹیلا کے کارکنان کی گرفتاری کے بعد 137 کو اسرائیل نے کیارہا
گلوبل صـمود فلوٹیلا کے گرفتار رکن ‘توماسو بورٹولازی’ نے اسـرائیلی جیل میں اسـلام قبول کرلیا
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں