۱۔ إلقاء کے ساتھ "فی” کا صِلہ
جب "إلقاء” کے ساتھ حرفِ جار "فی” آتا ہے، تو اس کا مفہوم ڈالنے یا سپرد کرنے کا ہوتا ہے، اس میں ایک طرح کی دل سوزی اور اہتمام شامل ہوتا ہے، یعنی ڈالنا محض پھینک دینا نہیں بلکہ مقصد اور نرمی کے ساتھ کسی چیز کو رکھ دینا۔
مثلاً فرمایا گیا: قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ لَا تَقْتُلُوا يُوسُفَ وَأَلْقُوهُ فِي غَيَابَتِ الْجُبِّ سورة یوسف 10، یہاں بھائیوں کا ارادہ یہ نہ تھا کہ یوسف علیہ السلام کو زخمی کریں بلکہ یہ کہ انہیں اس طرح کنویں میں رکھ دیا جائے کہ کوئی قافلہ انہیں اٹھا لے جائے۔
یہی مفہوم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں زیادہ وضاحت سے آتا ہے، جب اللہ تعالیٰ نے ان کی والدہ کو حکم دیا: أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ سورة طٰہٰ 39، فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِي الْيَمِّ وَلَا تَخَافِي وَلَا تَحْزَنِي سورة القصص 7، یہاں بھی ’’إلقاء‘‘ میں ایک پیار اور اعتماد کا پہلو نمایاں ہے؛ گویا ماں اپنے بچے کو اللہ کے سپرد کر رہی ہے۔
البتہ جب یہی لفظ جہنم میں ڈالنے کے معنی میں آتا ہے تو اس میں اہانت اور سختی کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے، جیسے فرمایا: الَّذِي جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَـٰهًا آخَرَ فَأَلْقِيَاهُ فِي الْعَذَابِ الشَّدِيدِ سورة ق 26، یہاں ’’إلقاء‘‘ میں تحقیر اور عذاب کی شدت کا پہلو نمایاں ہے۔
۲. إلقاء کے ساتھ "علی” کا صِلہ
جب ’’إلقاء‘‘ کے ساتھ "علی” آتا ہے، تو اس کا مفہوم ہوتا ہے نرمی اور محبت کے ساتھ کسی چیز کو کسی کے اوپر ڈالنا یا پہنچانا۔
جیسے: اذْهَبُوا بِقَمِيصِي هَـٰذَا فَأَلْقُوهُ عَلَىٰ وَجْهِ أَبِي يَأْتِ بَصِيرًا سورة یوسف 93، يعنى میری یہ قمیص لے جاؤ اور میرے والد کے چہرے پر ڈال دو، وہ بینا ہو جائیں گے۔‘‘ اور فرمایا: فَلَمَّا أَن جَاءَ الْبَشِيرُ أَلْقَاهُ عَلَىٰ وَجْهِهِ فَارْتَدَّ بَصِيرًا سورة یوسف 96، یہاں ’’إلقاء‘‘ میں محبت، شفقت اور نرمی کا مفہوم ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا: وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي… سورة طٰہٰ 39، یعنی میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی۔
اسی طرح وحی کے نزول کے متعلق فرمایا گیا: يُلْقِي الرُّوحَ مِنْ أَمْرِهِ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ… سورة غافر 15، یہاں ’’إلقاء‘‘ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی کو نرم و لطیف انداز میں القا کرنا۔
۳. إلقاء کے ساتھ "إلى” کا صِلہ
جب ’’إلقاء‘‘ کے ساتھ حرفِ جار "إلى” آتا ہے، تو اس کا مفہوم ہوتا ہے کسی کو کوئی پیغام، بات یا چیز پہنچا دینا یا ارسال کرنا۔
مثلاً: وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا… سورة النساء 94، یعنی ’’جو تمہیں سلام کرے، اسے مومن نہ کہو۔‘‘ یہاں ’’ألقى إليكم السلام‘‘ کا مطلب ہے ’’تمہیں سلام كیا۔‘‘
اسی طرح: وَأَلْقَوْا إِلَى اللَّهِ يَوْمَئِذٍ السَّلَمَ… سورة النحل 87، یعنی ’’اس دن وہ اللہ کے سامنے سپر ڈال دیں گے۔‘‘
اور فرمایا: وَمَا كُنتَ تَرْجُو أَن يُلْقَىٰ إِلَيْكَ الْكِتَابُ… سورة القصص 86، یعنی ’’تمہیں یہ امید نہ تھی کہ تمہیں کتاب (وحی) عطا کی جائے گی۔‘‘ یہاں ’’إلقاء‘‘ سے مراد ہے وحی کا نہایت اہتمام اور تکریم کے ساتھ نازل کیا جانا۔
اسی مفہوم کو حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعہ میں بھی دیکھا جا سکتا ہے، جہاں فرمایا: اذْهَب بِّكِتَابِي هَـٰذَا فَأَلْقِهْ إِلَيْهِمْ ثُمَّ تَوَلَّ عَنْهُمْ فَانظُرْ مَاذَا يَرْجِعُونَ سورة النمل 28، اور جب ملکہ سبا نے وہ خط وصول کیا تو کہا: قَالَتْ يَا أَيُّهَا الْمَلَأُ إِنِّي أُلْقِيَ إِلَيَّ كِتَابٌ كَرِيمٌ سورة النمل 29۔
یہاں ’’إلقاء‘‘ میں احترام، اہتمام اور وقار کے ساتھ پیغام رسانی کا مفہوم نمایاں ہے۔ سلیمان علیہ السلام کی بادشاہانہ شان اور نبوت کے مقام کے پیشِ نظر وہ خط یقیناً پوری سنجیدگی اور وقار کے ساتھ بھیجا گیا ہوگا۔
اگر ہم نبی اکرم ﷺ کے ان خطوط پر غور کریں جو آپ نے قیصرِ روم، کسریٰ، نجاشی اور دیگر سلاطینِ وقت کو ارسال فرمائے، تو ان میں بھی یہی اہتمام، وقار اور حکمت نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ یہی وہ اسلوب ہے جو ’’إلقاء‘‘ کے قرآنی مفہوم کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔