نئی دہلی: دہلی کے لال قلعہ دھماکہ کیس کی تفتیش میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں تحقیقاتی ایجنسیوں نے لکھنؤ کی رہائشی ڈاکٹر شاہین سعید کو پاکستان میں قائم دہشت گرد تنظیم جیشِ محمد (JeM) کی اہم رکن کے طور پر شناخت کیا ہے۔ حکام کے مطابق ڈاکٹر شاہین اس دہشت گرد ماڈیول کے مرکزی کرداروں میں شامل تھیں، جو اس ہفتے ہونے والے دھماکے میں 13 افراد کی ہلاکت کا ذمہ دار ہے۔ ڈاکٹر شاہین سعید (یا شاہد) لکھنؤ (اترپردیش) سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون ڈاکٹر ہیں، جن کی گرفتاری دہلی دھماکے سے ٹھیک قبل ہوئی تھی۔ ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں تاکہ آپ کو سب سے پہلے نئی اپ ڈیٹ ملے
دفتر کے بعد “اصل کام” شروع کرتی تھیں
ذرائع کے مطابق ڈاکٹر شاہین اکثر کہتی تھیں کہ ان کا “اصل کام” صرف شام 4 بجے کے بعد شروع ہوتا ہے، جب وہ اپنے روزمرہ کے کام یعنی الفلاح اسکول آف میڈیکل سائنسز اینڈ ریسرچ سینٹر، فریدآباد سے فارغ ہوتی تھیں۔ تفتیش کاروں نے بتایا کہ وہ ہمیشہ اپنے ساتھ تسبیح اور ایک حدیث کی کتاب رکھتی تھیں، جو بعد میں ان کی نظریاتی وابستگی پر سوال اٹھانے کی وجہ بنی۔
ان کے ایک ساتھی نے بتایا کہ ڈاکٹر شاہین کا رویہ “غیر معمولی” تھا۔ وہ ادارے کے قواعد کی پابندی نہیں کرتی تھیں اور اکثر بغیر اطلاع دیئے کیمپس سے چلی جاتی تھیں۔ ادارے نے ایک بیان جاری کرکے دھماکہ کیس سے خود کو مکمل طور پر الگ کر لیا ہے اور تفتیشی اداروں سے تعاون کا یقین دلایا ہے۔
جیش محمد کے خواتین ونگ کی سربراہ
خفیہ ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ڈاکٹر شاہین سعید جیش محمد کے خواتین ونگ کی سربراہ تھیں۔ یہ وہ تنظیم ہے جو 2001 میں پارلیمنٹ حملے اور 2019 میں پلوامہ حملے سمیت متعدد بڑے دہشت گرد واقعات میں ملوث رہی ہے۔
سفید پوش دہشت گردی کا خطرناک نیٹ ورک
گرفتاری سے قبل ڈاکٹر شاہین کانپور میڈیکل کالج میں ہیڈ آف فارماکولوجی کے طور پر کام کرتی تھیں، جس کے بعد ان کا تبادلہ کنوج میڈیکل کالج کر دیا گیا۔ تفتیش کاروں کے مطابق ان کا علمی اور پیشہ ورانہ مقام اس خطرناک رجحان کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح تعلیم یافتہ افراد کو دہشت گرد گروہ اپنے نیٹ ورک میں شامل کر رہے ہیں۔
اسی نیٹ ورک سے تعلق رکھنے والے دو اور اعلیٰ تعلیم یافتہ ملزمان — ڈاکٹر مجمل شکیل اور ڈاکٹر عادل احمد رATHER — پہلے ہی گرفتار ہو چکے ہیں۔
دہشت گردی میں استعمال ہونے والی دو گاڑیاں شاہین سے منسلک
پولیس نے اب تک کم از کم دو گاڑیاں براہ راست ڈاکٹر شاہین سے جوڑی ہیں:
- ماروتی سوِفٹ ڈیزائر — جس میں سے آ assault rifle اور گولیاں برآمد ہوئیں۔
- ماروتی بریزا — جو مبینہ طور پر دہشت گردوں کی فرار گاڑی تھی۔
ذرائع کے مطابق بریزا ڈاکٹر شاہین خود چلاتی تھیں، جبکہ ڈیزائر ڈاکٹر مجمل استعمال کرتا تھا۔ مجمل کے گھر سے تقریباً 3000 کلو دھماکہ خیز مواد بھی برآمد ہوا۔
ایک چوتھی گاڑی، ریڈ فورڈ ایکوسپورٹ، بدھ کو ترک شدہ حالت میں ملی، جس میں سے امونیم نائٹریٹ فیول آئل سمیت وہی کیمیائی اجزاء ملے جو آئی 20 دھماکے میں استعمال ہوئے تھے۔
مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر کی نئی CCTV فوٹیج سامنے آگئی
نئی CCTV فوٹیج میں مرکزی ملزم ڈاکٹر عمر ان نبی کو بدھاپور بارڈر سے دہلی میں داخل ہوتے دیکھا گیا ہے۔ فوٹیج میں وہ ٹول پلازہ پر رک کر نقد رقم ادا کرتا ہے، جس کے بعد وہ لال قلعہ کے قریب اس مقام کی طرف بڑھتا ہے جہاں بعد میں دھماکہ ہوا۔
ڈائری میں 8 سے 12 نومبر کا منصوبہ درج
تحقیقاتی اداروں نے ڈاکٹر عمر اور ڈاکٹر مجمل کی ڈائریاں برآمد کی ہیں جن میں 8 سے 12 نومبر کی تاریخیں درج ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ دھماکے کی منصوبہ بندی اسی دوران کی گئی تھی۔ ڈائری میں 25 افراد کے نام بھی شامل ہیں، جن میں سے زیادہ تر جموں و کشمیر اور فرید آباد کے رہائشی ہیں۔
32 گاڑیوں پر مشتمل بڑا دہشت گرد منصوبہ ناکام
ذرائع کے مطابق یہ دہشت گرد سیل دہلی اور دیگر شہروں میں ایک ساتھ کئی دھماکے کرنے کا منصوبہ بنا رہا تھا۔ اس منصوبے میں 32 گاڑیاں شامل تھیں، تاہم یہ واضح نہیں کہ کیا تمام گاڑیاں دھماکہ خیز مواد کیلئے استعمال ہونا تھیں یا نہیں۔
دہلی میں تفتیش مزید تیز
لال قلعہ کے قریب دھماکے کی جگہ پر FSL، دہلی پولیس اور مرکزی ایجنسیاں مشترکہ تفتیش کر رہی ہیں۔ علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے اور ماہرین دھماکے کے ٹکڑوں، کیمیکلز اور باقی ماندہ شواہد کا معائنہ کر رہے ہیں تاکہ مکمل حقیقت سامنے لائی جا سکے۔
مزید خبریں:
ترک صدر اردوغان کا ٹرمپ سے حماس امن بات چیت پر بڑا انکشاف
امریکی جیل میں43 سال تک سلاخوں کے پیچھے رہنے والے بے گناہ”سبرامنیم سبو ویدم”
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !