21 ستمبر 2025 کو، کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا ایک تاریخی اعلان کیا۔ یہ فیصلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے ایک روز قبل سامنے آیا، جو 22 ستمبر کو نیویارک میں شروع ہوگا۔ یہ اقدام اسرائیل اور فلسطین کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں اہم ہے، خاص طور پر غزہ میں انسانی بحران اور دو ریاستی حل کے امکانات کے پیش نظر۔ تاہم، یہ اعلان اسرائیل اور اس کے قریبی اتحادی، امریکہ کی شدید مخالفت کے باوجود کیا گیا، جس نے اسے سفارتی تنازعات کا باعث بنایا۔
اعلانات کی تفصیلات
برطانیہ
برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا:
"خاورمیانه میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور غزہ میں انسانی بحران کے پیش نظر، ہم فلسطینی ریاست کو تسلیم کر رہے ہیں تاکہ دو ریاستی حل کی امید کو زندہ رکھا جا سکے۔”
سٹارمر نے جولائی 2025 میں واضح کیا تھا کہ اگر اسرائیل غزہ میں جنگ بندی نہ کرے، یرغمالوں کی رہائی نہ کرائے، اور فلسطینیوں کے ساتھ امن مذاکرات شروع نہ کرے تو برطانیہ فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لے گا۔ یہ اعلان اس شرط کے پورا ہونے کے بعد عمل میں آیا۔ برطانیہ نے فلسطینی اتھارٹی سے وعدہ لیا کہ حماس کا مستقبل میں فلسطینی حکومت میں کوئی کردار نہیں ہوگا، اور فلسطینی ریاست غیر فوجی ہوگی۔
کینیڈا
کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اعلان کیا:
"کینیڈا آج فلسطینی ریاست کو تسلیم کرتا ہے اور فلسطین اور اسرائیل دونوں کے لیے ایک پرامن مستقبل کی تعمیر میں شراکت کی پیشکش کرتا ہے۔”
کینیڈا نے فلسطینی اتھارٹی سے گورننس اصلاحات، شفافیت، اور حماس کی غیر موجودگی کی یقین دہانی حاصل کی۔ کینیڈا نے یہ بھی واضح کیا کہ وہ غزہ میں انسانی امداد کی فوری رسائی اور جنگ بندی کے لیے عالمی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔
آسٹریلیا
آسٹریلوی وزیر اعظم انٹونی البانیز نے ایک پریس کانفرنس میں کہا:
"آسٹریلیا فلسطینی عوام کی خودمختاری اور آزادی کے حق کو تسلیم کرتا ہے۔ یہ فیصلہ دو ریاستی حل کے لیے ہماری وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔”
آسٹریلیا نے بھی حماس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا اور فلسطینی ریاست کو غیر فوجی بنانے کی شرط رکھی۔ آسٹریلیا نے غزہ میں 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کے بعد یرغمالوں کی رہائی کو بھی ترجیح دی۔
پس منظر
یہ اعلانات غزہ میں جاری جنگ کے تناظر میں کیے گئے ہیں، جہاں اکتوبر 2023 سے اب تک 65,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں ہزاروں بچے شامل ہیں۔ اقوام متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ نے اسرائیل پر غزہ میں "نسل کشی” کا الزام لگایا ہے، جس نے عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے پر مجبور کیا۔
فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا یہ اقدام علامتی طور پر اہم ہے، کیونکہ اس سے قبل اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 147 نے فلسطین کو تسلیم کیا تھا، لیکن مغربی ممالک کی جانب سے یہ ایک غیر معمولی قدم ہے۔ فرانس، پرتگال، اور دیگر یورپی ممالک بھی اس ہفتے فلسطین کو تسلیم کرنے کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔
شرائط اور تقاضے
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ نے فلسطینی ریاست کی تسلیم کے لیے درج ذیل شرائط رکھی ہیں:
- حماس کا اخراج: فلسطینی حکومت میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔
- غیر فوجی ریاست: فلسطینی ریاست کو غیر فوجی بنایا جائے گا تاکہ خطے میں استحکام برقرار رہے۔
- انسانی امداد: غزہ میں انسانی امداد کی فوری اور بلا روک ٹوک رسائی کو یقینی بنایا جائے۔
- دو ریاستی حل: فلسطین اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کے ذریعے دو ریاستی حل کو فروغ دیا جائے، جس میں ویسٹ بینک، غزہ، اور مشرقی یروشلم شامل ہوں۔
ان ممالک نے اسرائیل کو اپنے فیصلے سے پہلے مطلع کیا تھا، لیکن اسرائیل نے اسے مسترد کر دیا۔
اسرائیلی ردعمل
اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے اس اعلان کو "دہشت گردی کو انعام دینے” کے مترادف قرار دیا۔ ان کے ترجمان نے کہا کہ یہ فیصلہ "اسرائیل کی سلامتی کو خطرے میں ڈالتا ہے۔” نیتن یاہو کی کابینہ کے انتہائی دائیں بازو کے وزراء، بزلیل سموٹریچ اور ایتمار بن گویر نے ویسٹ بینک کو اسرائیل میں ضم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسرائیلی فوج نے غزہ سٹی پر "غیر معمولی طاقت” کے استعمال کا اعلان کیا، جس سے کشیدگی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
امریکی موقف
امریکہ نے اس اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر سٹارمر کو "انتہائی اختلاف” کا پیغام دیا اور آسٹریلیا کو "سزا دینے” کی دھمکی دی۔ امریکی کانگریس کے ریپبلکن ارکان نے اسے "امریکہ کے اتحادیوں کی طرف سے دھوکہ” قرار دیا۔ تاہم، ٹرمپ نے حالیہ برطانوی سٹیٹ وزٹ کے دوران اس معاملے کو زیادہ نہیں اٹھایا، ممکنہ طور پر سفارتی تعلقات کو برقرار رکھنے کے لیے۔
عالمی ردعمل
فلسطینی اتھارٹی نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا اور اسے "فلسطینی عوام کے لیے انصاف کی طرف ایک اہم قدم” قرار دیا۔ انسانی حقوق کی تنظیمیں، جیسے ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ، نے اسے مثبت لیکن ناکافی قرار دیا، اور غزہ میں "نسل کشی” کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا۔
عالمی سطح پر، یہ فیصلہ اسرائیل کی سفارتی تنہائی کو بڑھا سکتا ہے۔ عرب ممالک، جیسے سعودی عرب اور قطر، نے اسے سراہا، جبکہ ایران نے اسے "فلسطینی مزاحمت کی فتح” قرار دیا۔
چیلنجز اور امکانات
یہ تسلیم علامتی طور پر اہم ہے، لیکن زمینی حقائق کو تبدیل کرنا مشکل ہے۔ اسرائیل کا ویسٹ بینک اور غزہ پر قبضہ بدستور جاری ہے، اور فلسطینی اتھارٹی کی داخلی کمزوریاں اور حماس کے اثر و رسوخ نے دو ریاستی حل کے امکانات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔ اس کے باوجود، یہ فیصلہ عالمی برادری کے لیے ایک پیغام ہے کہ فلسطینیوں کے حق خود ارادیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
خلاصہ
کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا فیصلہ خاورمیانه کے تنازع میں ایک اہم موڑ ہے۔ یہ اسرائیل پر دباؤ بڑھاتا ہے کہ وہ جنگ بندی اور مذاکرات کی طرف آئے، لیکن اسرائیلی اور امریکی مخالفت اس عمل کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں اس موضوع پر مزید بحث متوقع ہے۔ فلسطینی عوام کے لیے یہ ایک امید کی کرن ہے، لیکن دیرپا امن کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔