افغانستان، جہاں 2021 سے طالبان کی حکومت ہے، ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ اس کی وجہ طالبان کی جانب سے ملک کے کئی صوبوں میں فائبر آپٹک انٹرنیٹ پر پابندی ہے، جسے وہ "غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام” کا نام دیتے ہیں۔ یہ پابندی 15 ستمبر 2025 کو شروع ہوئی اور اب تک 10 سے زائد صوبوں تک پھیل چکی ہے۔ اس اقدام نے معاشی، تعلیمی اور سماجی شعبوں کو شدید متاثر کیا ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کی زندگیوں پر گہرا اثر ڈالا ہے، جو پہلے ہی سخت پابندیوں کا شکار ہیں۔ اس مضمون میں ہم اس مسئلے کی تفصیلات، پس منظر، اثرات اور ردعمل پر روشنی ڈالیں گے۔
پس منظر: طالبان کی حکومت اور ڈیجیٹل کنٹرول
طالبان نے اگست 2021 میں Afghanistan پر دوبارہ قبضہ کیا تھا۔ اس کے بعد سے انہوں نے خواتین کی تعلیم، ملازمت، میڈیا اور عوام کے حقوق پر کئی پابندیاں عائد کی ہیں۔ انٹرنیٹ پر پابندی اسی سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے۔ یہ پابندی طالبان کے سربراہ کے حکم پر شروع ہوئی اور اس کا آغاز شمالی Afghanistan سے ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ بلخ (مزار شریف)، کندوز، بدخشاں، بغلان اور تخار تک محدود تھی، لیکن اب یہ قندھار، ہلمند، ننگرہار، اروزگان، نیمروز اور ہرات تک پھیل چکی ہے۔ یہ پابندی ملک کے تقریباً 30 فیصد صوبوں کو متاثر کر رہی ہے۔
طالبان کا کہنا ہے کہ یہ پابندی فحش مواد جیسے غیر اخلاقی مواد کو روکنے کے لیے ہے۔ تاہم، بہت سے لوگوں کا ماننا ہے کہ اس کا اصل مقصد معلومات تک رسائی کو محدود کرنا اور مخالف آوازوں کو دبانا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ طالبان نے ڈیجیٹل میڈیا کو نشانہ بنایا ہو، لیکن اس بار یہ پابندی بڑے پیمانے پر ہے۔
پابندی کی تفصیلات اور نفاذ
یہ پابندی 15 ستمبر 2025 کو شروع ہوئی، جب طالبان نے ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں کو فائبر آپٹک انٹرنیٹ بند کرنے کا حکم دیا۔ یہ پابندی وائی فائی اور براڈ بینڈ سروسز پر लागو ہوئی ہے، جو گھروں، کاروباروں، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں استعمال ہوتی ہیں۔ موبائل انٹرنیٹ (3G/4G) ابھی تک کام کر رہا ہے، لیکن یہ مہنگا اور کمزور ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ بینکوں اور سرکاری اداروں کو جزوی چھوٹ دی گئی ہے، لیکن عام شہریوں کو بڑی مشکلات کا سامنا ہے۔
متاثرہ صوبوں میں شامل ہیں:
- شمالی صوبے: بلخ، کندوز، بدخشاں، بغلان، تخار۔
- جنوبی اور مغربی صوبے: قندھار، ہلمند، ننگرہار، اروزگان، نیمروز، ہرات۔
انٹرنیٹ کنیکٹیویٹی میں نمایاں کمی آئی ہے، اور طالبان کا کہنا ہے کہ وہ ایک مقامی نیٹ ورک بنائیں گے جو فلٹرڈ مواد فراہم کرے گا۔ تاہم، ماہرین کو شک ہے کہ یہ نیٹ ورک جلد تیار ہو پائے گا۔
اثرات: معاشی، تعلیمی اور سماجی نقصانات
یہ پابندی Afghanistan کی کمزور معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ کاروبار، جو آن لائن تجارت اور بینکنگ پر انحصار کرتے ہیں، بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، شمالی Afghanistan میں دستکاری کا کاروبار کرنے والی خواتین، جو آن لائن آرڈر لیتی تھیں، اب موبائل ڈیٹا کی مہنگی قیمت نہیں دے سکتیں۔ یہ پابندی ہزاروں نوکریوں کو خطرے میں ڈال رہی ہے اور معاشی ترقی کو روک رہی ہے۔
تعلیم پر سب سے زیادہ اثر پڑا ہے، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں پر۔ طالبان نے لڑکیوں کے سکول اور یونیورسٹی جانے پر پابندی لگا رکھی ہے، اور آن لائن کلاسز ان کی تعلیم کی آخری امید تھیں۔ اب یہ بھی ختم ہو گئی ہیں۔ ایک Afghan خاتون نے کہا کہ انٹرنیٹ ان کی "آواز اور کلاس روم” ہے۔ صحافی اور کارکن بھی متاثر ہیں، کیونکہ وہ اپنی رپورٹنگ نہیں کر پا رہے۔
سماجی طور پر، یہ پابندی خواتین کی تنہائی کو بڑھا رہی ہے۔ وہ سوشل میڈیا کے ذریعے اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھاتی تھیں، لیکن اب یہ پلیٹ فارم بھی ان سے چھن گئے ہیں۔
مقامی اور عالمی ردعمل
Afghan خواتین اور لڑکیاں اس پابندی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ وہ انٹرنیٹ کو اپنی آواز اور تعلیم کا ذریعہ قرار دیتی ہیں۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کئی صارفین ایلون مسک سے Starlink انٹرنیٹ کی درخواست کر رہے ہیں تاکہ آزاد انٹرنیٹ تک رسائی مل سکے۔
عالمی سطح پر، انسانی حقوق کی تنظیمیں اسے آزادیِ اظہار پر حملہ قرار دے رہی ہیں۔ کچھ ماہرین نے کہا ہے کہ فحش مواد کو فلٹر کیا جا سکتا ہے، جیسا کہ دیگر اسلامی ممالک کرتے ہیں، لیکن مکمل انٹرنیٹ بند کرنا غیر ضروری ہے۔ میڈیا رپورٹس میں خبردار کیا گیا ہے کہ یہ پابندی Afghanistan کو دنیا سے کٹ سکتی ہے۔
ممکنہ مستقبل اور حل
ماہرین کو خدشہ ہے کہ یہ پابندی پورے ملک میں پھیل سکتی ہے، جس سے Afghanistan مزید تنہا ہو جائے گا۔ ایک ممکنہ حل Starlink جیسی سیٹلائٹ انٹرنیٹ سروسز ہو سکتی ہیں، جو طالبان کے کنٹرول سے آزاد ہوں گی۔ تاہم، یہ واضح نہیں کہ طالبان اس کی اجازت دیں گے یا نہیں۔
نتیجہ
طالبان کی یہ انٹرنیٹ پابندی نہ صرف تکنیکی پسماندگی کی طرف اشارہ ہے بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ عالمی برادری کو Afghan عوام، خاص طور پر خواتین کی مدد کے لیے آواز اٹھانی چاہیے۔ اگر یہ پابندی جاری رہی تو Afghanistan کا مستقبل مزید تاریک ہو جائے گا۔
مزید خبریں:
انجینئر محمد علی مرزا مفتن یامحقق ؟
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں