24 ستمبر 2025 کو، اتر پردیش کے بہرائچ ضلع کے پایگ پور تحصیل میں ایک غیر متوقع معائنہ کے دوران، حکام نے ایک غیر رجسٹرڈ مدرسہ کے تین منزلہ عمارت میں، جو کہ واہل وارہ گاؤں میں غیر قانونی طور پر چل رہا تھا، 40 کم عمر لڑکیوں (عمر 9 سے 14 سال) کو ایک باتھ روم میں بند پایا۔ یہ مدرسہ تقریباً تین سال سے بغیر کسی قانونی دستاویزات کے چل رہا تھا۔
معائنہ کی اہم تفصیلات
- وجہ: مقامی شکایات کے بعد یہ چھاپہ مارا گیا کہ مدرسہ غیر قانونی طور پر کام کر رہا ہے۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ (ایس ڈی ایم) اشونی کمار پانڈے نے پولیس اور اقلیتی بہبود کے حکام کے ساتھ مل کر ٹیم کی قیادت کی۔
- انکشاف: مدرسہ کے عملے نے ابتدائی طور پر عمارت کے بالائی حصوں تک رسائی روکی۔ زبردستی داخل ہونے پر، حکام نے چھت پر واقع باتھ روم کا دروازہ بند پایا۔ خواتین پولیس اہلکاروں نے دروازہ توڑا، جس کے بعد خوفزدہ لڑکیاں ایک ایک کر کے باہر آئیں۔ لڑکیاں پریشان دکھائی دیں اور ابتدا میں واضح بیانات نہ دے سکیں۔
- مدرسہ کی تفصیلات: خلیل احمد کے زیر انتظام اس ادارے کے پاس رجسٹریشن کے کاغذات، عملے کی اسناد (سوائے ایک استاد، تقسیم فاطمہ، جو خلیل کی بیٹی ہے) یا قانونی جواز کا کوئی ثبوت نہیں تھا۔ لڑکیوں کے داخلہ فارم پیش کیے گئے، لیکن کوئی دیگر ریکارڈ نہیں تھا۔ یہ مدرسہ 2023 کے ضلعی سروے سے بھی بچ نکلا تھا، جس میں بہرائچ کے 495 دیگر غیر رجسٹرڈ مدرسوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔
- لڑکیوں کی حالت: فوری طور پر بدسلوکی یا دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کے آثار نہیں ملے، اگرچہ ایک استاد نے دعویٰ کیا کہ لڑکیاں "گھبراہٹ” میں خود چھپ گئیں۔ لڑکیوں کی تفصیلات ریکارڈ کی گئیں، اور انہیں ان کے خاندانوں کے ساتھ بحفاظت ملا دیا گیا۔
بعد کے اقدامات اور جاری کارروائی
- ضلعی اقلیتی افسر (ڈی ایم او) خالد نے مدرسہ بند کرنے کا حکم دیا ہے، اور ایک رسمی رپورٹ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ اکشے ترپاٹھی کو بھیجی گئی ہے۔
- ڈی ایم او کی جانب سے ایک تفتیش جاری ہے تاکہ ممکنہ خلاف ورزیوں کی جانچ کی جا سکے، بشمول یہ کہ عمارت میں آٹھ کمرے ہونے کے باوجود لڑکیوں کو کیوں بند کیا گیا۔
- یہ واقعہ اتر پردیش میں غیر رجسٹرڈ مدرسوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن کا حصہ ہے، خاص طور پر ہندوستان-نیپال سرحد کے قریب، جہاں حالیہ مہینوں میں کئی مدرسوں کو سیل یا منہدم کیا گیا ہے۔ تاہم، کچھ کو قانونی طور پر روک دیا گیا ہے، اور ایک نیا ریگولیٹری فریم ورک متوقع ہے۔
ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر عوامی ردعمل
اس خبر نے آن لائن غم و غصہ کو جنم دیا ہے، صارفین نے اس طرح کے "چھپے ہوئے ٹھکانوں” کی حفاظت پر سوال اٹھائے اور گہری تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ قابل ذکر پوسٹس میں شامل ہیں:
- نیوز ایرینا انڈیا کا ایک ویڈیو کلپ جس میں ریسکیو کو اجاگر کیا گیا، جسے 1,800 سے زیادہ بار دیکھا گیا۔
- صارفین جیسے @nidhisj2001 کی تبصرہ کہ اس طرح کے دیگر معاملات کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے، ساتھ ہی سائٹ کی تصاویر بھی۔
یہ واقعہ خطے میں غیر منظم تعلیمی اداروں کے بارے میں جاری خدشات کو اجاگر کرتا ہے، لیکن حکام کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی مزید بے ضابطگیاں سامنے نہیں آئیں۔
مزید خبریں:
طالبان کی جانب سے افغانستان میں انٹرنیٹ پر پابندی ایک نیا چیلنج
مفکرِ اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندویؒ حیات و خدمات
شیعہ سنی اتحاد کی آڑ میں مولاناسلمان ندوی کی انتہا پسندانہ مہم جوئی
کیتھرین پیریز شکدم وہ یہودی جاسوس خوبصورت لڑکی جس نے ایران کے دل میں نقب لگائی !
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں