بلوچستان میں پنجابی مسافروں کا قتل: لسانی تعصب یا دہشت گردی؟

بلوچستان میں نوجوان قتل Image Source Social Media

بلوچستان میں پنجابی مسافروں کا قتل: لسانی تعصب یا دہشت گردی؟

بلوچستان، پاکستان کا سب سے بڑا مگر سب سے کم ترقی یافتہ صوبہ، دہائیوں سے شورش، محرومی اور علیحدگی پسندی کا شکار ہے۔ اس شورش کے بطن سے جنم لینے والے کئی دردناک مظاہر میں سے ایک پنجاب سے تعلق رکھنے والے مزدوروں اور مسافروں کا قتل بھی ہے۔ یہ واقعات نہ صرف انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں بلکہ معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بھی بن چکے ہیں۔

حالیہ واقعات کی تفصیل

سال 2024 اور 2025 میں ایسے کئی المناک واقعات پیش آئے جن میں پنجابی شناخت رکھنے والے مسافروں کو بلوچستان کے مختلف علاقوں میں بسوں سے اتار کر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔

  • فروری 2025 میں بارکھان میں سات مزدوروں کو قتل کیا گیا۔
  • اپریل 2024 میں نوشکی میں نو افراد کو بےدردی سے ہلاک کیا گیا۔
  • ستمبر 2024 میں پنجگور میں سات غریب مزدور جان سے گئے، جن میں سے اکثر اپنی شادی کے لیے پیسے جمع کر رہے تھے۔

ان واقعات کی ذمہ داری اکثر اوقات کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں جیسے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) نے قبول کی۔ تاہم کئی حملوں میں حملہ آوروں کی شناخت نہ ہو سکی، جو اس مسئلے کی پیچیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔

محرکات: تعصب یا شدت پسندی؟

یہ سوال بار بار سامنے آتا ہے کہ آیا یہ حملے محض لسانی تعصب کا نتیجہ ہیں یا منظم دہشت گردی کا حصہ؟

  • بلوچ علیحدگی پسند تنظیمیں ان حملوں کو "غیر مقامی قبضہ گیر قوتوں” کے خلاف مزاحمت قرار دیتی ہیں۔
  • ان کا دعویٰ ہے کہ پنجابی بیوروکریسی اور سکیورٹی ادارے بلوچستان کے وسائل پر قبضہ کیے ہوئے ہیں، اور یہ حملے اسی قبضے کے خلاف علامتی احتجاج ہیں۔

مگر اصل نشانہ بننے والے وہ عام محنت کش ہوتے ہیں جو روزگار کی تلاش میں بلوچستان آتے ہیں۔ یہ لوگ نہ تو کسی طاقتور ادارے سے منسلک ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی نوآبادیاتی عمل کا حصہ۔
ان کی ہلاکت صرف معصوم جانوں کا زیاں نہیں بلکہ ان کے خاندانوں کے لیے نسل در نسل چلنے والا دکھ ہے۔

انسانی اور سماجی پہلو

ان حملوں کے اثرات صرف مقتولین تک محدود نہیں رہتے۔

  • ایک گھر سے تین تین جنازے اٹھنا صرف مالی نقصان نہیں بلکہ جذباتی طور پر تباہ کن صدمہ ہے۔
  • وہ مائیں جنہوں نے اپنے بیٹوں کو روزگار کی امید پر رخصت کیا تھا، ان کے لیے یہ واقعات قیامت سے کم نہیں۔

یہ حملے لسانی تعصب کو ہوا دیتے ہیں، اور ملک کے مختلف حصوں میں آباد بلوچ اور پنجابی برادریوں کے درمیان بدگمانی کو بڑھاتے ہیں۔

حکومتی ردعمل اور چیلنجز

بلوچستان حکومت کی جانب سے ان حملوں کو دہشت گردی قرار دیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے اعلان کیا کہ:

"یہ حملے صرف پنجابیوں پر نہیں بلکہ تمام پاکستانیوں پر ہیں، اور ان کے خلاف سخت کارروائی ہوگی۔”

چیک پوسٹوں کی بحالی، انٹیلیجنس بڑھانا، اور عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشنز جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ مگر ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک بلوچ عوام کی معاشی، سیاسی اور ثقافتی محرومیوں کو حل نہیں کیا جاتا، ایسے حملے رکنا مشکل ہیں۔

پائیدار حل کیا ہو؟

  1. مذاکرات کا آغاز: بلوچ عوام کو بات چیت کے ذریعے قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔
  2. ترقیاتی منصوبے: تعلیم، صحت اور روزگار کے مواقع فراہم کیے جائیں تاکہ نوجوان شدت پسندی کا رخ نہ کریں۔
  3. بین الصوبائی ہم آہنگی: پنجاب، سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان کے عوام کے درمیان ربط بڑھانے کے لیے ثقافتی و تعلیمی تبادلے کیے جائیں۔
  4. نفرت انگیز بیانیے کی روک تھام: میڈیا اور سیاسی قیادت کو چاہیے کہ لسانی یا علاقائی تعصبات کو ہوا دینے سے گریز کریں۔

نتیجہ

بلوچستان میں پنجابی مسافروں کا قتل ایک قومی سانحہ ہے جس کا حل صرف سکیورٹی آپریشنز نہیں، بلکہ انصاف، ترقی، اور مکالمہ ہے۔ یہ سوال محض پنجابی یا بلوچ کا نہیں، بلکہ پاکستان کی بقاء، اتحاد، اور آئندہ نسلوں کی پرامن زندگی کا ہے۔ جب تک ہم ان معصوم جانوں کو صرف اعداد و شمار سمجھتے رہیں گے، تب تک یہ خونی سلسلہ رکے گا نہیں۔ اب وقت ہے کہ اس زخم پر سنجیدگی سے مرہم رکھا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے