ایک باخبر سفارتی ذریعے نے بتایا ہے کہ آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں شام اور اسرائیل کے اعلیٰ سطحی حکام کے درمیان براہ راست ملاقات متوقع ہے۔ یہ ملاقات شامی صدر احمد الشرع کی باکو آمد کے موقع پر ہوگی، تاہم صدر خود اس میں شریک نہیں ہوں گے۔
شام کے صدر احمد الشرع ہفتے کے روز سرکاری دورے پر باکو پہنچے جہاں انہوں نے آذربائیجان کے صدر الہام علییف سے ملاقات کی۔ دونوں ممالک نے اس بات کا اعلان کیا کہ آذربائیجان، ترکیہ کے راستے شام کو گیس کی فراہمی شروع کرے گا۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات میں شام میں اسرائیلی افواج کی حالیہ موجودگی پر تبادلہ خیال ہوگا۔ واضح رہے کہ بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد اسرائیلی فورسز جنوبی شام کے بعض علاقوں میں داخل ہو چکی ہیں۔
اگرچہ شامی حکومت نے سرکاری طور پر اسرائیل سے کسی براہ راست ملاقات کی تصدیق نہیں کی، تاہم دسمبر میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے دمشق نے اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات کی موجودگی تسلیم کی ہے۔ ان مذاکرات کا مقصد علاقے میں کشیدگی کو کم کرنا بتایا گیا ہے، خاص طور پر ان اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد جو شامی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔
دمشق کا موقف ہے کہ اسرائیل کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات 1974 کی معاہدۂ فک اشتباك کی بحالی کے لیے ہیں، جس کے تحت لڑائی بند اور اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ایک غیر فوجی علاقہ قائم کیا گیا تھا۔
حالیہ دنوں میں شامی حکومت نے واشنگٹن کے ساتھ تعاون پر آمادگی ظاہر کی ہے تاکہ 1974 کے معاہدے کی جانب واپسی ممکن ہو سکے۔
دوسری جانب، اسرائیلی وزیر خارجہ جدعون ساعر نے شام اور لبنان کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔
امریکا کے شام کے لیے خصوصی ایلچی ٹوم بَراک نے 7 جولائی کو لبنان میں ایک بیان میں تصدیق کی کہ شام اور اسرائیل کے درمیان بات چیت کا آغاز ہو چکا ہے۔
یاد رہے کہ صدر احمد الشرع نے مئی میں ریاض کے دورے کے دوران سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی ملاقات کی تھی، جس میں ٹرمپ نے بتایا کہ الشرع نے اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے کی حمایت کا عندیہ دیا۔
صدر الشرع نے اپنی حکومت کے آغاز سے ہی اس بات پر زور دیاتھا کہ شام کسی تنازعے یا جنگ کا خواہاں نہیں ۔ اس نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل پر حملے بند کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جائے۔
واضح رہے کہ شام اور اسرائیل 1948 سے اب تک رسمی طور پر حالتِ جنگ میں ہیں۔
شامی حکومت کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے 3 جولائی کو بیان دیا کہ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کی بات قبل از وقت ہے، اور تل ابیب کو چاہیے کہ وہ 1974 کے معاہدے کی مکمل پابندی کرے اور مقبوضہ شامی علاقوں سے دستبردار ہو۔
سرکاری خبر رساں ادارے "الاخباریہ” نے ایک سرکاری ذریعے کے حوالے سے رپورٹ دی کہ "جب تک اسرائیل 1974 کے معاہدے پر مکمل عملدرآمد اور گولان کی مکمل واپسی پر آمادہ نہیں ہوتا، اس وقت تک کسی نئے معاہدے پر بات ممکن نہیں”۔