ای ون سیٹلمنٹ کا اسرائیلی منصوبہ: آزاد فلسطینی ریاست کے امکانات کو دفن کرنے کی کوشش

ای ون سیٹلمنٹ

ای ون سیٹلمنٹ منصوبہ اسرائیل کا ایک انتہائی متنازع اور اہم منصوبہ ہے جو مقبوضہ مغربی کنارے میں واقع ہے۔ یہ منصوبہ یروشلم کے مشرق میں معلیٰ ادومیم (Ma’ale Adumim) بستی کو یروشلم سے جوڑنے کا ارادہ رکھتا ہے، جو فلسطینی علاقوں کو تقسیم کر کے ایک متصل اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو شدید طور پر متاثر کرتا ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل اسموٹریچ نے اسے "فلسطینی ریاست کے تصور کو دفن کرنے” کا اقدام قرار دیا ہے۔ یہ منصوبہ بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے اور عالمی برادری کی شدید تنقید کا شکار ہے۔ ذیل میں اس کی مکمل تفصیلات، تاریخ، اثرات، اور حالیہ پیش رفت بیان کی جا رہی ہیں، جو دستیاب معلومات اور حالیہ رپورٹس پر مبنی ہیں (اگست 2025 تک)۔

1. منصوبے کا مقام اور جغرافیائی اہمیت

  • مقام: E1 علاقہ مغربی کنارے کے علاقے C میں واقع ہے، جو مکمل طور پر اسرائیلی فوجی اور سول کنٹرول میں ہے۔ یہ علاقہ 12 مربع کلومیٹر (تقریباً 4.6 مربع میل) پر پھیلا ہوا ہے اور پہاڑی ہے۔ اس کی حدود میں فرانچ ہل (مغرب میں)، ابو دیس (جنوب مغرب میں)، کیڈار (جنوب میں)، معلیٰ ادومیم (مشرق میں)، اور المون (شمال میں) شامل ہیں۔ یہ یروشلم کے شمال مشرق میں ہے اور بیت لحم اور رملہ جیسے فلسطینی شہروں کے درمیان واقع ہے۔
  • جغرافیائی اثرات: E1 کی تعمیر سے مغربی کنارہ عملی طور پر دو حصوں (شمال اور جنوب) میں تقسیم ہو جائے گا، کیونکہ یہ علاقہ فلسطینی علاقوں کے درمیان ایک اہم گزرگاہ ہے۔ یہ مشرقی یروشلم کو باقی مغربی کنارے سے الگ کر دے گا، جس سے فلسطینیوں کا سفر طویل اور پیچیدہ ہو جائے گا۔ مثال کے طور پر، رملہ سے بیت لحم کا سفر 12 کلومیٹر سے بڑھ کر 40 کلومیٹر ہو سکتا ہے۔ یہ منصوبہ مشرقی یروشلم کے ارد گرد یہودی بستیوں کا ایک نیم دائرہ مکمل کر دے گا، جو فلسطینی ریاست کی جغرافیائی تسلسل کو توڑ دے گا۔

2. تاریخ اور پس منظر

  • ابتداء: E1 علاقے کا کچھ حصہ 1991 میں یتزاک شمیر کی حکومت کے دور میں معلیٰ ادومیم کی میونسپل کونسل کو منتقل کیا گیا۔ 1994 میں جوڈیا اور سمیرا کی ہائر پلاننگ کونسل نے معلیٰ ادومیم کی توسیع کا منصوبہ تیار کیا، جو E1 پلان کی بنیاد بنا۔
  • یتزاک رابن کا دور (1995): رابن نے معلیٰ ادومیم کی حدود کو E1 تک بڑھایا اور تعمیر کی منصوبہ بندی کا حکم دیا، لیکن اس پر عمل درآمد نہیں کیا گیا۔
  • لاحقہ پیش رفت: رابن کے بعد ہر اسرائیلی وزیر اعظم نے معلیٰ ادومیم کو یروشلم سے جوڑنے کی حمایت کی، لیکن سفارتی دباؤ کی وجہ سے تعمیر رکی رہی۔ 2004 میں غیر قانونی طور پر انفراسٹرکچر کی تعمیر شروع ہوئی۔ 2008 میں یہودیہ اور سمیرا کی پولیس ہیڈ کوارٹرز E1 میں قائم کیا گیا۔
  • متنازع اقدامات: 2012 میں، فلسطین کو اقوام متحدہ میں مبصر ریاست کا درجہ ملنے کے بعد اسرائیل نے E1 میں 3,000 رہائشی یونٹس کی منظوری کا اعلان کیا، جو عالمی تنقید کا شکار ہوا۔ 2013 میں فلسطینی اور غیر ملکی کارکنوں نے احتجاجاً باب الشمس نامی خیمہ بستی قائم کی، جسے اسرائیلی فورسز نے ہٹا دیا۔
  • بدوی کمیونٹیز کا اثر: E1 میں جہالین بدوی قبائل جیسے فلسطینی کمیونٹیز رہائش پذیر ہیں، جنہیں اسرائیل نے بے دخل کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ خان الاحمر جیسے گاؤں کو مسمار کرنے کی کوششیں بھی اسی منصوبے کا حصہ ہیں۔

3. منصوبے کی تجویز کردہ ترقیات

  • رہائشی یونٹس: منصوبے میں 3,500 سے 15,000 تک رہائشی یونٹس کی تعمیر شامل ہے۔ حالیہ منظوری میں 3,401 نئی گھروں کی بات کی گئی ہے، جو معلیٰ ادومیم کی آبادی میں 33% اضافہ کرے گی (موجودہ آبادی تقریباً 40,000)۔
  • دیگر سہولیات: ایک بڑا صنعتی زون، سیاحتی اور کمرشل علاقے، کوڑا کرکٹ کا ڈمپ، اور یروشلم اور معلیٰ ادومیم کا مشترکہ قبرستان۔ پولیس ہیڈ کوارٹرز پہلے سے مکمل ہے۔
  • روڈ نیٹ ورک: ایسٹرن رنگ روڈ (روٹ 4370) 2019 میں کھولی گئی، جو فلسطینی اور اسرائیلی ٹریفک کو الگ کرتی ہے۔ 2020 میں اززائیم کے قریب ایک نئی روڈ کی منظوری دی گئی۔
  • توسیع کا ہدف: یہ منصوبہ معلیٰ ادومیم کو یروشلم سے جوڑ کر "گریٹر یروشلم” کا تصور تقویت دے گا اور فلسطینی علاقوں پر قبضے کو مستحکم کرے گا۔

4. تنازعات اور فلسطینی ریاست پر اثرات

  • دو ریاستی حل پر اثر: E1 کی تعمیر سے فلسطینی علاقے چھوٹے، الگ تھلگ حصوں میں تقسیم ہو جائیں گے، جو ایک متصل فلسطینی ریاست کو "ناممکن” بنا دے گی۔ یہ مشرقی یروشلم کو باقی فلسطینی علاقوں سے کاٹ دے گا، جو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہونا چاہیے۔ اقوام متحدہ اور یورپی یونین اسے دو ریاستی حل کے لیے "مہلک دھچکا” قرار دیتے ہیں۔
  • بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی: یہ منصوبہ جنیوا کنونشن کی خلاف ورزی ہے، جو مقبوضہ علاقوں میں بستیوں کی تعمیر کو جنگی جرم قرار دیتا ہے۔ فلسطینی اتھارٹی اسے نسل کشی، جبری بے دخلی، اور غیر قانونی قبضے کا تسلسل کہتی ہے۔
  • بدوی کمیونٹیز اور بے دخلی: یہ منصوبہ فلسطینی کمیونٹیز جیسے خان الاحمر کو بے دخل کرے گا، جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
  • اسرائیلی موقف: اسرائیلی حکومت اسے قومی سلامتی اور یروشلم کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیتی ہے۔ اسموٹریچ نے کہا کہ یہ "فلسطینی ریاست کو دفن کر دے گا” اور "گریٹر اسرائیل” کی پالیسی کا حصہ ہے۔

5. عالمی ردعمل

  • اقوام متحدہ اور یورپی یونین: یو این اور یو ای اسے غیر قانونی قرار دیتے ہیں اور دو ریاستی حل پر زور دیتے ہیں۔ اگست 2025 میں اسموٹریچ کے اعلان پر یو این نے شدید احتجاج کیا۔
  • امریکہ: تاریخی طور پر مخالفت کی، جیسے 2009 میں بش انتظامیہ نے تعمیر روکی۔ 2021-2022 میں امریکی کانگریس ممبران نے دباؤ ڈالا کہ E1 روکا جائے۔
  • دیگر ممالک: برطانیہ، فرانس، جرمنی، اردن، سعودی عرب، قطر، مصر نے مذمت کی۔ جرمنی نے "سخت مخالفت” کی۔ 34 ممالک کے وزرائے خارجہ نے "گریٹر اسرائیل” کو عرب سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا۔ یورپی پارلیمنٹ نے 2022 میں اسرائیل کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
  • فلسطینی ردعمل: فلسطینی وزارت خارجہ نے اسے نسل کشی اور امن عمل کا خاتمہ قرار دیا۔ فلسطینی اتھارٹی نے انٹرنیشنل کریمنل کورٹ میں مقدمہ کی دھمکی دی۔

6. حالیہ پیش رفت (اگست 2025 تک)

  • اسموٹریچ کا اعلان: 14 اگست 2025 کو، اسرائیلی دائیں بازو کے وزیر بیزلیل اسموٹریچ نے E1 میں 3,401 نئی گھروں کی منظوری کا اعلان کیا، جو کئی دہائیوں سے منجمد تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ "فلسطینی ریاست کو دفن کر دے گا” اور "تاریخی قدم” ہے۔ یہ اعلان نیتن یاہو کی وائٹ ہاؤس دورے کے فوراً بعد آیا۔
  • عالمی مذمت: سی این این، بی بی سی، روئٹرز، الجزیرہ، اور دیگر نے رپورٹ کیا کہ یہ منصوبہ مغربی کنارے کو تقسیم کر کے فلسطینی ریاست کو ناممکن بنا دے گا۔ یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کاجا کالاس نے اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیا۔
  • سوشل میڈیا اور احتجاج: X (سابق ٹوئٹر) پر حالیہ پوسٹس میں اردن کے بادشاہ عبداللہ دوم، یورپی پارلیمنٹ، اور دیگر نے مخالفت کی۔ مثال کے طور پر، 19 اگست 2025 کو سعودی نیوز نے اردن کی مذمت شیئر کی۔ فلسطینی کرونیکل اور دیگر نے یورپ کی مذمت کو "تھیٹر” قرار دیا۔
  • ممکنہ نتائج: یہ منصوبہ 12,000 سے زائد دونم فلسطینی زمین پر قبضہ کرے گا اور شمالی اور جنوبی مغربی کنارے کو الگ کر دے گا۔ فلسطینی کابینہ نے عالمی کارروائی کا مطالبہ کیا۔

اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ

مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال

ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام

عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے