اقوام متحدہ کے انسانی ہمدردی کے سربراہ ٹام فلیچر نے دنیا بھر میں امدادی کارکنوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعات ’’بین الاقوامی بے عملی اور بے حسی کا شرمناک ثبوت‘‘ ہیں۔ ان کے یہ ریمارکس ورلڈ ہیومینیٹیرین ڈے کے موقع پر سامنے آئے، جو ہر سال 19 اگست کو ان تمام کارکنوں کی یاد میں منایا جاتا ہے جو اپنی جانیں کھو چکے ہیں، بشمول 2003 میں بغداد میں اقوام متحدہ کے دفتر پر بم دھماکے میں جاں بحق ہونے والے 22 افراد۔
امدادی کارکنوں کی ہلاکتوں میں خوفناک اضافہ
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2024 میں 383 امدادی کارکن مارے گئے، جو پچھلے سال کے مقابلے میں 31 فیصد زیادہ ہے۔ ان میں سے تقریباً نصف صرف غزہ میں جاں بحق ہوئے، جہاں 181 کارکن ہلاک ہوئے، جبکہ سوڈان میں 60 کارکن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
امداد فراہم کرنے والے اداروں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صرف 2023 میں 293 کارکن مارے گئے تھے، جبکہ 2025 کے پہلے آٹھ ماہ میں ہی 265 ہلاکتیں ریکارڈ ہو چکی ہیں۔
فلیچر نے کہا:
’’ایک امدادی ساتھی پر حملہ دراصل ہم سب پر اور ان تمام لوگوں پر حملہ ہے جن کی ہم خدمت کرتے ہیں۔‘‘
غزہ سب سے خطرناک خطہ
غزہ اس وقت امدادی کارکنوں کے لیے سب سے مہلک علاقہ بن چکا ہے۔ سب سے خوفناک واقعہ 23 مارچ 2025 کو رفح میں پیش آیا، جب اسرائیلی افواج نے واضح طور پر نشاندہی شدہ قافلوں پر فائرنگ کر کے 15 طبی عملے اور ریسکیو اہلکاروں کو ہلاک کر دیا۔ بعدازاں بُلڈوزروں کے ذریعے لاشوں اور گاڑیوں کو اجتماعی قبر میں دفن کر دیا گیا، جہاں تک اقوام متحدہ اور ریسکیو ادارے ایک ہفتے بعد پہنچ سکے۔
فلیچر کے مطابق، ’’اس طرح کی بربریت اور عدم احتساب کسی طور قابلِ قبول نہیں۔‘‘
دیگر خطوں میں بھی جانی نقصان
- لبنان: 2024 میں 20 کارکن مارے گئے، جبکہ 2023 میں ایک بھی ہلاکت نہیں ہوئی تھی۔
- ایتھوپیا اور شام: ہر ملک میں 14 ہلاکتیں، جو پچھلے سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہیں۔
- یوکرین: 2024 میں 13 کارکن مارے گئے، جو 2023 کی 6 ہلاکتوں سے زیادہ ہیں۔
اقوام متحدہ نے بتایا کہ زیادہ تر جاں بحق ہونے والے مقامی کارکن تھے جو یا تو ڈیوٹی پر یا گھروں میں نشانہ بنے۔
صحت کے نظام پر حملے
عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق صرف 2025 میں اب تک 800 سے زائد صحت کے مراکز پر حملے ہوئے ہیں جن میں 1,110 طبی عملہ اور مریض مارے گئے۔ ادارے کے مطابق، ’’یہ حملے پوری برادری کو زندگی بچانے والی سہولتوں سے محروم کر دیتے ہیں اور پہلے سے دباؤ کا شکار صحت کے نظام کو مزید کمزور کرتے ہیں۔‘‘
عالمی برادری سے اپیل
اقوام متحدہ نے کہا کہ امدادی کارکنوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہیں اور عالمی طاقتوں کو ان کے خلاف کارروائی کرنا چاہیے۔
فلیچر نے زور دیتے ہوئے کہا:
’’تشدد ناگزیر نہیں ہے۔ اسے روکا جا سکتا ہے اور روکنا ہی ہوگا۔ ان حملوں کے باوجود احتساب نہ ہونا عالمی بے حسی کا شرمناک ثبوت ہے۔‘‘
مزید خبریں:
اہلِ بیت رضی اللہ عنھم ایک ماڈل خانوادہ
مسلمان ہونے کی تمنا رکھنے والی اٹلی کی غیر مسلم خاتون کا سوال
ہیروشیما پر ایٹمی حملے کی 80ویں برسی، جاپان کا پرامن دنیا کے لیے مؤثر پیغام
عاقل نذیر افغان بزرگ نے دعویٰ کیا کہ میں آج 140 سال کا ہوں اور 1880 میں پیدا ہواہوں
ہماری وٹس ایپ چینل میں شمولیت اختیار کرنے کے لئے یہاں کلک کریں